تھائی لینڈ کے بادشاہ نے اپنی شاہی ساتھی کی حیثیت بحال کر دی

سنینت وانگوجیرپاکدی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

سنینت کو یہ خصوصی حیثیت ملنے کے چند مہینے بعد ہی اکتوبر 2019 میں واپس لے لی گئی تھی۔

تھائی لینڈ کے بادشاہ نے اپنی شاہی ساتھی کی وہ خصوصی حیثیت بحال کر دی ہے جو انھوں نے تقریباً ایک سال قبل واپس لے لی تھی۔

گذشتہ برس اکتوبر میں تھائی لینڈ کے بادشاہ وجیرا لانگ کورن نے اپنی شاہی ساتھی سنینت وانگواجیرپاکدی سے شاہی خاندان سے 'بدتمیزی' اور 'بے وفائی' کی پاداش میں تمام اعزازت چھین لیے تھے۔

تھائی لینڈ کے بادشاہ نے سنینت وانگوجیرپاکدی کو 'رائل نوبل کنسورٹ' کا لقب دیا تھا۔ یہ اعزاز بادشاہ کی جانب سے اپنی شریک حیات یا ساتھی کو دیا جاتا ہے۔

شاہی گزٹ کے اعلان کے مطابق بادشاہ نے یہ اقدام بدھ کو کیا ہے۔

سنینت کو یہ خصوصی حیثیت ملنے کے چند مہینے بعد ہی اکتوبر 2019 میں واپس لے لی گئی تھی۔

شاہی محل کی جانب سے بیان میں اس سزا کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے آپ کو ملکہ کے درجے پر فائز کرنے کی کوشش کی تھی۔

سنینت تھائی لینڈ میں گزشتہ ایک صدی کے دوران یہ لقب یا حیثیت حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

گزشتہ سال کیے جانے والے اعلان میں ان پر 'خراب رویے' اور بادشاہ سے 'بے وفائی' کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔

سنینت وانگوجیرپاکدی سنہ 1985 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق شمالی تھائی لینڈ سے ہے۔ وہ وجیرا لانگ کورن سے تعلقات قائم ہونے سے پہلے ایک نرس تھیں۔ وجیرا لانگ کورن اس وقت ولی عہد تھے۔

نرس کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد وہ باڈی گارڈ، پائلٹ اور پیراشوٹسٹ بن گئی اور شاہی گارڈز میں شامل ہو گئیں۔ سنہ 2019 میں انھیں میجر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔

گزشتہ برس جولائی میں انھیں پہلی 'رائل نوبل کنسورٹ' کے اعزاز سے نوازا گیا۔ بادشاہ نے یہ اعلان اپنی چوتھی شادی کے بعد کیا تھا جو انھوں نے ملکہ سوتھیدا سے کی تھی جو بادشاہ کے ذاتی محافظین میں شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

بادشا وجیرا لانگ کورن نے سنہ 2016 میں اپنے والد بھومیبال ادُل یادے کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

چند مہینے بعد ہی اکتوبر میں سنینت سے غیرمتوقع طور پر یہ رینک اور القابات واپس لے لیے گئے تھے۔ اس بارے میں قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ اس اچانک تنزلی کی وجہ کیا ہے۔

ان کی تنزلی اور اب پھر رائل نوبل کنسورٹ کے رتبے پر بحالی کی اصل وجوہات شاید کبھی بھی منظرِ عام پر نہ لائی جائیں کیونکہ تھائی لینڈ میں محلاتی معاملات پردے کے پیچھے ہی رہتے ہیں۔

تھائی لینڈ میں ایک قانون کے تحت بادشاہت پر تنقید کی اجازت نہیں ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سنہ 2019 میں سنینت وانگوجیرپاکدی کو ان کے رتبے سے محروم کرنے کے واقعے کے بعد بادشاہ کی دو بیویوں کے معاملات بھی زیرِ گفتگو آئے تھے۔ سنہ 1996 میں بادشاہ نے اپنی دوسری بیوی کو مذمت کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے ہونے والے اپنے چار بیٹوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ بادشاہ کی دوسری بیوی امریکہ فرار ہو گئی تھیں۔

سنہ 2014 میں ان کی تیسری بیوی سری راسمی سوادی کو بھی اسی طرح رتبے اور اعزازات سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ان کے 14 برس کے بیٹے کی پرورش خود بادشاہ وجیرا لانگ کورن نے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں کی۔

بادشاہ اب اپنا زیادہ وقت جرمنی میں گزارتے ہیں۔ ان کے کُل سات بچے ہیں۔

ملکہ سوتھیدا، جو ایک فلائٹ اٹینڈنٹ تھیں، بادشاہ کے ساتھ کئی برس تک آتی جاتی دکھائی دیں لیکن شادی ہونے تک بادشاہ کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

اس شادی کے بعد بھی سنینت اپنی تنزلی تک متواتر شاہی مہمان کے طور پر تقریبات میں شامل ہوتی رہیں۔

تھائی لینڈ کے بادشاہ صدیوں سے ایک وقت میں کئی بیویاں یا رائل نوبل کنسورٹ رکھتے رہے ہیں۔ سنہ 2019 میں سنینت وانگوجیرپاکدی کو رائل نوبل کنسورٹ کا رتبہ دینے سے پہلے آخری مرتبہ کسی دوسری خاتون کو یہ رتبہ 1920 کی دہائی میں دیا گیا تھا۔

بدھ کو شاہی محل کی جانب سے اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ تھائی لینڈ میں سنہ 2014 میں ہونے والی بغاوت کے بعد فوج نے اپنا سیاسی کردار مضبوط کیا ہے۔

مظاہرین کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ حال ہی میں بادشاہ کے اختیارات میں جو اضافہ کیا گیا ہے اسے واپس لیا جائے۔ اس کے علاوہ بادشاہت میں اصلاحات کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔

احتجاج کرنے والوں نے بادشاہ کی جانب سے شاہی دولت کو اپنی ذاتی ملکیت قرار دینے کو چیلنچ کیا ہے۔ تخت و تاج کی دولت کو اپنی ذاتی ملکیت میں شمار کرنے سے بادشاہ تھائی لینڈ کے سب سے امیر شخص بن گئے ہیں۔ یہ دولت عوام کی فلاح کے لیے اب تک ایک ٹرسٹ کے زیرِ نگرانی رہی ہے۔

بادشاہ وجیرا لانگ کورن کی جانب سے بینکاک میں تعینات فوج کے تمام یونٹس کو اپنی ذاتی کمانڈ میں لینے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ جدید تھائی لینڈ میں بادشاہ کے پاس فوجی طاقت کے اتنے ارتکاز کی مثال نہیں ملتی۔

بادشاہ وجیرا لانگ کورن نے سنہ 2016 میں اپنے والد بھومیبال ادُل یادے کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ ملک میں پسند کیے جانے والے بھومیبال ادُل یادے نے 70 برس تک حکومت کی تھی۔ وہ اپنے انتقال تک دنیا میں سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے بادشاہ تھے۔