نورڈ سٹریم 2: کیا جرمنی روسی گیس پائپ لائن کے منصوبے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے؟

  • ڈیمئن میگوئنس
  • برلن نامہ نگار
نورڈ سٹریم، جرمنی، روس، گیس پائپ لائن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یہ پہلا موقع ہے کہ ایک عشرے سے جاری نو ارب ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کا مستقبل خطرے میں پڑتا جا رہا ہے

اتوار کے روز جرمنی کے اخبارات میں وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا صرف ایک سطر کا بیان شائع ہوا جو روس کے پائپ لائن کے منصوبے نورڈ سٹریم 2 کے لیے ایک زلزلے سے کم نہ تھا۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا: ’میں امید کرتا ہوں روس ہمیں نورڈ سٹریم 2 پر اپنی پوزیشن کو تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔‘

جرمن وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر پوتن کے مخالف سیاستدان الیکسی نوالنی کو زہر دیے جانے کے الزامات پر جرمنی اور روس کے درمیان جھگڑا عروج پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یہ پائپ لائن ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ بحیرۂ بالٹک سے لائی گئی اس پائپ لائن کے ذریعے روس کی گیس براہ راست جرمنی پہنچ پائے گی۔ جرمنی توانائی کے لیے کوئلے اور جوہری توانائی پر انحصار کو ختم کر کے ماحول دوست گیس کی طرف بڑھ رہا ہے۔

لیکن اس منصوبے کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ جرمنی کو اپنی توانائی کی ضرورتوں کے لیے سیاسی طور پر ناقابل اعتبار روس پر بھروسہ کرنا ہوگا جو اسے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ماسکو پر زور دیا کہ وہ الیکسی نوالنی کو اعصاب پر حملہ آور ہونے والا زہر (نرو ایجنٹ) دیے جانے کی تحقیق کروائے۔

ایلکسی نوالنی کا اس وقت برلن کے ایک ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ کا بیان اس لیے اہم ہے کہ وہ روس کو بتا رہے ہیں کہ اگر ان کی بات نہیں مانی گئی تو جرمنی کا گیس پائپ کے منصوبے سے پیچھے ہٹنے کا امکان موجود ہے۔

اینگلامرکل کا مؤقف کیسے سخت ہوا؟

جب الیکسی نوالنی کے ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ وہ بے ہوشی سے باہر آ رہے ہیں، تو اس سے چند گھنٹے پہلے جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے عندیہ دیا تھا کہ وہ روسی گیس پائپ لائن کے منصوبے کی حمایت پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔

پیر کے روز اینگلا مرکل کے ترجمان نے کہا کہ وہ گیس پائپ لائن کے حوالے سے وزیر خارجہ کے بیان سے متفق ہیں۔

ایک ہفتے پہلے تک جرمن حکومت کا مؤقف تھا کہ گیس پائپ لائن کے منصوبے کو روس کے اپوزیشن لیڈر کو زہر دینے کے معاملے سے الگ رکھا جائے۔

لیکن جرمنی کے وزیر خارجہ کے گیس پائپ لائن کے حوالے سے بیان اور چانسلر اینگلا مرکل کی طرف سے اس کی حمایت سے واضح اشارہ ملا رہا ہے کہ گیس پائپ لائن کے منصوبے کے بارے میں جرمنی میں رائے بدل رہی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایک عشرے سے جاری نو ارب ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کا مستقبل خطرے میں پڑتا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

زیرسمندر بچھائی جانے والی گیس پائپ لائن کے ذریعے روس جرمنی کو مزید گیس سپلائی کر سکے گا

روس کی یورپ کے لیے پہلی گیس پائپ لائن نورڈ سٹریم ون 2011 میں مکمل ہوئی تھی۔ دوسری گیس پائپ لائن پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اسے 2021 میں فعال ہو جانا ہے۔ 2460 کلومیٹر لمبی لائن میں 2300 کلومیٹر لائن بچھائی جا چکی ہے۔

جرمنی کے سابق چانسلر کے روس سے تعلقات

ایسا نہیں ہے کہ جرمنی کی موجودہ چانسلر اینگلا مرکل اور ان کی جماعت اس منصوبے کی بہت حامی ہیں۔ یہ منصوبہ انھیں ورثے میں ملا تھا۔ جرمنی کے سابق چانسلر گیرہارڈ شروئڈر کے دور میں یہ منصوبہ شروع ہوا تھا۔

گیرہارڈ شروئڈر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے روسی رہنما صدر ولادی میر پوتن سے برادرانہ تعلقات ہیں جن کے بارے میں انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ پوتن بہت بڑے ڈیموکریٹ ہیں۔

جب گیرہارڈ شروئڈر اپنے عہدے سے علیحدہ ہوئے تو روس کی گیس کمپنیوں میں بہت منافع بخش عہدوں پر فائز ہوئے۔

وہ نورڈ سٹریم منصوبے کے نگراں بورڈ کا بھی حصہ رہے ہیں۔

سابق جرمن گیرہارڈ شروئڈر پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ روسی صدر کے لیے پراپیگنڈہ کرتے ہیں اور وہ جرمنی میں روس سے گیس خریدنے کا دفاع کرنے والوں میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ لیکن پچھلے چند دنوں سے وہ بھی خاموش ہیں۔

نورڈ سٹریم 2 کا منصوبہ رک سکتا ہے؟

چانسلر اینگلا مرکل کو پہلے ہی اپنے یورپی اتحادیوں سے اس دباؤ کا سامنا ہے کہ جرمنی اپنی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے روس پر بہت زیادہ بھروسہ کرتا ہے جو سیاسی طور پر ناقابل بھروسہ ملک ہے۔

سب سے آگے امریکہ ہے جو دھمکیاں دے رہا ہے کہ جو یورپی کمپنیاں بھی اس منصوبے کا حصہ بنیں گی وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

صدر پوتن کے مخالف الیکسی نوالنی کو زہر دیے جانے سے روس کے نو ارب ڈالر کی لاگت سے بچھائی جانے والی پائپ لائن کے منصوبے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں

روس کے حزب اختلاف کےنمایاں رہنما الیکسی نوالنی کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے کے بعد سے نورڈ سٹریم 2 منصوبے پر جرمنی میں بحث شرو ع ہو گئی ہے۔

حکمران جماعت کے کچھ اراکین اور گرین پارٹی کی طرف سے ایسے مطالبے سامنے آ رہے ہیں کہ جرمنی کو اس منصوبے سے خود کو علیحدہ کر لینا چاہیے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منصوبہ اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے، تو کیا اب اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔

اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر جرمنی نے خود کو اس منصوبے سے علیحدہ کر لیا تو یورپ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچے گا اور آئندہ کوئی یورپ میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہو گا اور اس سے یورپ میں توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر جرمنی نے خود کو اس منصوبے سے علیحدہ کر لیا تو وہ اس کا متبادل کہاں سے لائے گا۔

جرمنی میں اس منصوبے کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان میں بعض کی حمایت کی وجہ صدر ٹرمپ ہیں جو اس منصوبے کے مخالف ہیں۔

صدر ٹرمپ جرمنی میں انتہائی ناپسند کیے جاتے ہیں اور جو چیز صدر ٹرمپ کو ناپسند ہو وہ جرمنوں کی ایک بڑی تعداد کو پسند ہوتی ہے۔

کئی جرمن ووٹروں کو شبہ ہے کہ امریکہ اس لیے اس منصوبے کا مخالف ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ جرمنی اپنی توانائی کی ضروریات امریکہ سے پوری کرے۔

جرمن چانسلر یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہتیں کہ وہ صدر ٹرمپ کے دباؤ میں آ کر اس منصوبے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔

جرمنی کو بھاری جرمانے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں

اگر جرمنی کی وجہ سے نورڈ سٹریم 2 کا منصوبہ جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، ناکام ہوتا ہے تو جرمنی کو بھاری ہرجانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس لیے امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے روسی گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت جرمنی کی حکومت کے لیے فائدے مند ہو سکتی ہے۔ ابھی تک جرمنی امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اس منصوبے کو ختم کرنے کے کوششوں کو ناکام بناتا آیا ہے۔

پر اگر جرمن چانسلر اینگلا مرکل اس منصوبے سے دستبردار ہونا چاہتی ہیں، تو اس کے لیے سب سے سستا طریقہ یہ ہوگا کہ وہ خاموشی سے اس منصوبے کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں، منصوبے کے مخالف امریکہ اور یورپی ممالک کو اس منصوبے کو ختم کرنے دیں جس کے بعد اس کا بل بھی وہی ممالک ادا کریں گے، جرمنی نہیں۔