یونان: تارکین وطن کا سب سے بڑا مرکز آتشزدگی سے تباہ ہو گیا

آتشزدگی

،تصویر کا ذریعہReuters

یونان میں تارکین وطن کا سب سے بڑا مرکز آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہو گیا ہے۔ موریا نامی اس کیمپ میں گنجائش سے زیادہ افراد کو رکھا گیا تھا۔

آگ اتنی شدید تھی کہ اسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی دس گاڑیاں استعمال کی گئیں اور عملے کے 25 افراد نے اس امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔ اس حادثے میں مرکز میں مقیم تارکین وطن میں سے کچھ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آگ کیسے لگی۔ کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ آگ مرکز میں رکھے گئے افراد نے خود لگائی تھی جبکہ کچھ لوگ اس کا الزام مقامی یونانی باشندوں پر لگا رہے ہیں۔

پولیس نے کیمپ کو جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں تاکہ تارکین وطن یہاں سے فرار ہو کر قریبی قصبوں میں نہ چلے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

آتشزدگی کی وجہ سے ہزاروں تارکین وطن رہائش سے محروم ہو گئے اور حکام ان لوگوں کے لیے کوئی متبادل بندوبست کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یونان کی حکومت نے چار دن کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکوماس نے آتشزدگی کو ’انسانی آفت‘ قرار دیتے ہوئے ایک ٹویٹ میں پناہ گزینوں کو ’یورپی یونین کے ان ممالک میں تقسیم کرنے‘ کی بات کی جو ان افراد کو اپنے ہاں داخلے کی اجازت دینے پر رضامند ہیں۔

اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کے بعد جب پناہ گزیں مرکز کے ایک قریب کے قصبے سے گزر رہے تھے تو کچھ مقامی لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور انھیں وہاں سے گزرنے سے روکا۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر، کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ پناہ گزینوں اور مقامی لوگوں میں ’کشیدگی‘ پائی جاتی ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام (فریقوں) سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

ادارے نے کیمپ کے مکینوں سے کہا ہے کہ جب تک کوئی عارضی بندوبست نہیں ہو جاتا، تمام لوگ ’اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں اور کیمپ کے قریب ہی رہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

موریا کے مرکز میں تقریباً 13 ہزار افراد تھے، جو کہ اس مرکز کی گنجائش سے چار گنا زیادہ ہے۔ انفو مائیگرینٹ نامی تنظیم کے مطابق اس کیمپ میں ٹھرائے گئے پناہ گزینوں میں سے 70 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے تاہم یہاں 70 سے زیادہ ممالک کے تارکین وطن موجود ہیں۔

موریا میں کیا ہوا؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مقامی فائر بریگیڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے مرکز میں تین مقامات پر آگ لگ گئی۔ سرکاری ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کیمپ کے اندر جو لوگ مظاہرہ کر رہے تھے انھوں نے آگ بھجانے والے عملے کو اپنے کام سے روکا۔

اگرچہ مذکورہ اہلکار کا کہنا تھا کہ ابھی تک کیمپ کے اندر کچھ مقامات پر ہلکی پھلکی آگ لگی ہوئی ہے تاہم بدھ کی صبح تک بڑی آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔

ایک مقامی شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً تمام کیمپ آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔

جزیرہ لیزبوس کے نائب گورنر آرس ہاٹزیکومنیناس نے مقامی ریڈیو سٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ ’مکمل تباہ' ہو گیا۔ یونان کے وزیر اعظم کائریاکوس مٹسوٹاکس نے بدھ کی صبح ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس کے بعد ان کی کابینہ کے کئی ارکان لیزبوس کی جانب روانہ ہو گئے۔

یورپی کمیشن نے یونان کو امدادی کارروائیوں میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ یورپی کمیشن کے نائب صدر مارگریٹس شناس کا کہنا تھا کہ انھوں نے یونانی وزیر اعظم سے بات کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ کمیشن اس مشکل گھڑی میں یونان کی براہ راست مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک صومالی باشندے کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد حکام نے کیمپ پر قرنطینہ کی پابندی لگا دی تھی۔ اب تک کیمپ میں کورونا وائرس کے 35 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

آگ شروع کیسے ہوئی؟

یونان کے خبررساں ادارے اے این اے کے مطابق آگ اس کے بعد شروع ہوئی جب ان 35 افراد میں کچھ نے اپنے خاندان والوں کے ساتھ قرنطینہ میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔تاہم ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ ان دنوں لیزبوس کے جنگلوں میں کچھ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے جو تیز ہوا کی وجہ سے ادھر ادھر پھیل سکتی ہے۔

شہری تحفظ کے ڈپٹی میئر مکیلس فراٹزسکوس کا کہنا تھا کہ آگ ’جانتے بوجھتے' لگائی گئی ہے۔ اس موقع پر کیمپ کے اندر پناہ گزیوں کے خیمے خالی تھے اور آگ لگانے والوں نے تیز ہوا کا فائدہ اٹھایا۔

لیکن کچھ تارکین وطن نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ آگ تارکین وطن اور یونانی سکیورٹی فورسز کے درمیان ہاتھا پائی کے بعد شروع ہوئی۔ اکثر تارکین وطن نے الزام لگایا ہے کہ جب کیمپ میں کورونا وائرس کے کیسز کا اعلان ہوا تو ’انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یونانیوں' نے آگ لگا دی۔ ان تارکین وطن کے مطابق ان انتہا پسند یونانیوں نے آگ لگانے کے لیے (تیل کے) کنستر استعمال کیے۔

ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ دانستہ آگ لگانے کے اس الزام کی تفتیش کی جا رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ لیزبوس کے پورے جزیرے پر ہنگامی حالت نافذ کر دی جائے۔

لیزبوس کے لیے بین الاقوامی فلاحی طبی تنظیم، ایم ایس ایف کے رابطہ کار مارکو سنیڈرون نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ آگ کا سبب کیا ہے کیونکہ کیمپ میں کئی جگہ پر مظاہرے بھی ہو رہے تھے اور آگ بھی کئی مقامات پر لگی ہوئی تھی۔

ان کے بقول ’یہ ایک ٹائم بم تھا جو آخر پھٹ گیا ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیمپ میں لوگوں کو ’غیر انسانی ماحول' میں رکھا جا رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق آتشزدگی کے بعد جب پناہ گزینوں نے اپنے ساز وسامان سمیت مٹیلائن نامی ساحلی قصبے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں وہاں داخلے سے روکا گیا۔ کئی پناہ گزینوں کو رات کھیتوں میں گزارنا پڑی۔

اطلاعات کے مطابق قصبے کے میئر نے مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک بہت مشکل صورت حال ہے کیونکہ قصبے کے باہر جو لوگ کھڑے ہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جن میں کورونا وائرس موجود ہو۔

موریا کیمپ کہاں واقع ہے؟

موریا مہاجر کیمپ لیزبوس کے دارالحکومت مٹیلائن کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

یہ کیمپ صرف دو ہزار افراد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اس پر دباؤ بڑھ گیا۔ اس کے بعد کارا ٹیپی کیمپ کے نام سے ایک نیا مرکز بھی تعمیر کیا گیا، لیکن اس کے باوجود نئے پناہ گزینوں کی آمد کی وجہ سے ان مرکز میں جگہ کم پڑتی گئی۔

سہولیات ناکافی ثابت ہو رہی ہیں

گذشتہ کئی برسوں سے لیزبوس کے جزیرے پر پہنچنے والے ہزاروں لوگوں کو اس وقت تک پناہ گزین کیمپ میں رکھا جاتا رہا جب تک ان کی پناہ کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ یہ ایک سست عمل ہے اور سرخ فیتے کی وجہ سے ان درخواستوں پر برقت فیصلہ نہیں پاتا۔

گذشتہ عرصے میں یورپی یونین ان پناہ گزینوں کو اپنے رکن ممالک میں سکونت فراہم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن تمام رکن ممالک اس حوالے سے پیش کی جانے والی کئی تجاویز کو رد کرتے رہے ہیں۔ اس عرصے میں پناہ گزیں برے حالات میں کیمپوں میں پڑے رہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی مرتبہ کیمپوں میں سہولیات کی عدم دستیابی پر تنقید کرتی رہی ہیں۔