کورونا وائرس: باب وڈورڈ کی نئی کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے سے جانتے تھے کووڈ 19 کتنا ہلاکت خیز ہو سکتا ہے

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

ایک نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کووڈ 19 وائرس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جانتے تھے کہ یہ عام فلو اور نزلہ زکام سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہے تاہم ان کے مطابق وہ ’اس بحران کی سنگینی پر پردہ ڈالنا‘ چاہتے تھے۔

صدر رچرڈ نکسن کی حکومت کے خاتمے کا باعث بننے والا واٹرگیٹ سکینڈل سامنے لانے والے صحافی باب وڈورڈ نے دسمبر 2019 سے جولائی 2020 کے دوران صدر ٹرمپ کا 18 مرتبہ انٹرویو کیا۔

صدر ٹرمپ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے امریکہ میں کووڈ کی پہلی مصدقہ ہلاکت سے قبل ہی انھیں کہا تھا کہ یہ وائرس 'مہلک چیز' ہے۔

اس کتاب پر ردِعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اُس وقت وہ نہیں چاہتے تھے کہ عوام میں اس وبا کے باعث افراتفری پھیلے۔

وبا کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 90 ہزار کے قریب امریکی کووڈ 19 سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بدھ کو امریکی میڈیا کے کچھ حلقوں نے صدر اور صحافی کے درمیان بات چیت کے کچھ حصے جاری کیے جس میں اس وبا سمیت نسل اور دیگر مسائل پر صدر کی گفتگو کا حوالہ دیا گیا ہے۔

’ریج‘ (یعنی غصہ) نامی کتاب جو 15 ستمبر کو جاری کی جائے گی، اس میں سے چند اہم اقتباسات کچھ یوں ہیں۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کتاب صدر ٹرمپ اور کورونا وائرس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ اس بیماری کی شدت کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتے تھے جو انھوں نے عوام کے سامنے کہا۔

کال کی ریکارڈنگ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فروری میں باب کو بتایا تھا کہ کورونا وائرس فلو سے زیادہ خطرناک ہے۔

صدر ٹرمپ نے مصنف کو سات فروری کو بتایا تھا کہ 'یہ ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔'

'یہ چھونے سے زیادہ مشکل ہے۔ آپ کو چیزیں ہمیشہ چھونی نہیں ہوتیں۔ ہے ناں؟ لیکن ہوا میں آپ کو سانس تو لینا پڑتا ہے، اور یہ ایسے ہی پھیلتا ہے۔'

'اس لیے یہ بہت پیچیدہ وائرس ہے۔ یہ آپ کے سخت ترین فلو سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔'

اس ماہ کے اواخر میں صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وائرس 'کافی حد تک کنٹرول' میں ہے اور یہ کہ نئے متاثرین کی تعداد جلد ہی صفر کے قریب پہنچ جائے گی۔

انھوں نے عوامی طور پر یہ بھی اشارہ دیا کہ فلو کووڈ 19 سے زیادہ خطرناک ہے۔

مارچ کی 10 تاریخ کو کیپٹل ہل پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لوگوں سے کہا: 'بس پرسکون رہیے، یہ چلا جائے گا۔'

نو دن بعد جب وائٹ ہاؤس اس وبا کو قومی ایمرجنسی قرار دے چکا تھا، تب صدر ٹرمپ نے باب ووڈورڈ کو بتایا: 'میں ہمیشہ اس کی سنگینی چھپانا چاہتا تھا۔ مجھے ابھی بھی اسے کم سنگین بنا کر پیش کرنا ٹھیک لگتا ہے کیونکہ میں افراتفری نہیں پھیلانا چاہتا۔'

،تصویر کا ذریعہReuters

وائٹ ہاؤس کا ردِ عمل کیا ہے؟

صدر ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے کہا: 'میں لوگوں کو خوفزدہ نہیں دیکھنا چاہتا، میں افراتفری نہیں پھیلانا چاہتا جیسے آپ کہتے ہیں، اور یقینی طور پر میں اس ملک یا اس دنیا کو افراتفری میں نہیں دھکیلنا چاہتا۔'

'ہم اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں، ہم ہمت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔'

نومبر میں دوبارہ انتخاب لڑنے کے لیے تیار صدر ٹرمپ نے کہا کہ باب ووڈورڈ کی کتاب ان پر 'سیاسی حملہ' ہے۔

اس کتاب پر رپورٹرز کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیلی میک اینینی نے کہا: 'ایک مرتبہ پھر کہوں گی، صدر نے کبھی بھی وائرس کی سنگینی کو گھٹا کر نہیں پیش کیا۔ صدر نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ صدر اس کے بارے میں سنجیدہ تھے۔'

ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کے حریف صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا: 'جب ایک ہلاکت خیز وائرس ہماری قوم میں تیزی سے پھیل رہا تھا، وہ اپنا کام کرنے میں دانستہ طور پر ناکام رہے۔ یہ امریکی لوگوں کے لیے زندگی اور موت کی دغابازی جیسا تھا۔'

تجزیہ، ٹارا میک کیلوی

بی بی سی وائٹ ہاؤس نامہ نگار

عوام کو پرسکون رکھنا رہنماؤں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن افراتفری کو روکنے اور بحران کو سنگین تر بنانے کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ووڈورڈ سے کہا کہ کووڈ 19 فلو سے زیادہ ہلاکت خیز ہے مگر عوام کے سامنے انھوں نے خطرے کو گھٹا کر پیش کیا۔

دیگر رہنماؤں نے مختلف حکمتِ عملی اپنائی۔ برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے دوٹوک الفاظ میں لوگوں سے کہا کہ ہلاکتیں ہوں گی۔ انھوں نے کہا: 'کئی مزید خاندان وقت سے پہلے اپنے پیاروں کو کھو دیں گے۔'

وزیرِ اعظم جانسن کو لگتا تھا کہ لوگوں کو وبا کی شدت کا اندازہ ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ شروع سے ہی وائرس کی سنگینی کو گھٹا کر پیش کرتے رہے۔ حالیہ ہفتوں میں ان کے مشیروں نے کورونا وائرس کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کرنا شروع کر دیا جیسے کہ یہ مسئلہ اب ختم ہو چکا ہے۔

سائنسدان اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ خزاں میں سانس کی دیگر بیماریوں کی طرح کورونا وائرس کی نئی لہر کا خدشہ ہے۔

تاہم ایک حقیقت جو جھٹلائی نہیں جا سکتی وہ یہ کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ لوگ انھیں مضبوط رہنما کے طور پر دیکھیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ وائرس کی فکر کرنے کے بجائے انتخاب کے دن ووٹنگ کے لیے جائیں۔

کتاب میں اور کیا کہا گیا ہے؟

وڈورڈ لکھتے ہیں کہ انھوں نے 19 جون کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک انٹرویو میں نسل پرستی کے خلاف تحریک بلیک لائیوز میٹر کے احتجاجی مظاہروں کا معاملہ اٹھایا تھا اور انھیں مشورہ دیا تھا کہ 'ان جیسے سفید فام اور امتیازی حیثیت رکھنے والے لوگوں کو سیاہ فام امریکیوں کے جذبات کو سمجھنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔'

صدر ٹرمپ نے جواباً کہا: 'آپ واقعی اس سے بہت متاثر ہیں، ہیں نا؟ اپنی باتوں پر غور کریں۔'

پولیس تشدد اور نسل پرستی کے خلاف ملک گیر احتجاج مئی میں ریاست منیسوٹا میں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

صدر ٹرمپ نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے افریقی امریکیوں کے لیے ابراہام لنکن کے بعد کسی بھی صدر سے زیادہ کام کیا ہے جنھوں نے غلامی کا خاتمہ کیا تھا۔

اس کے بعد آٹھ جولائی کو صدر ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ انھوں نے 'سیاہ فام برادری کے لیے بے پناہ کام کیا ہے' مگر انھیں 'کوئی محبت محسوس نہیں ہو رہی۔'

واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک انٹرویو کا حوالہ دیا تھا جس میں وڈورڈ نے صدر سے پوچھا کہ کیا امریکہ میں منظم نسل پرستی موجود ہے؟

اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ویسے تو یہ مسائل ہر جگہ موجود ہیں، 'مجھے لگتا ہے کہ یہاں زیادہ تر جگہوں سے کم مسئلہ ہے، یا اکثر جگہوں سے کم مسئلہ ہے۔'

صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ نسل پرستی امریکہ میں لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتی ہے اور اسے 'بدقسمتی' قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

وڈورڈ کی کتاب میں صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان درجنوں خطوط کا حوالہ بھی دیا ہے۔

خوش نما زبان میں لکھے گئے ان خطوط کم جونگ اُن نے مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کو 'یور ایکسیلینسی' کہا اور لکھا کہ ان کی 'گہری اور خصوصی دوستی جادوئی طاقت جیسا کام کرے گی۔'

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے وڈورڈ کو کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات کا بتایا۔ 'آپ ایک خاتون سے ملتے ہیں۔ ایک سیکنڈ میں آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ بات بنے گی یا نہیں۔ آپ کو اس کے لیے 10 منٹ یا چھ ہفتے نہیں لگتے۔ یہ ایسا ہوتا ہے، جیسے اوہ زبردست۔ آپ کو پتا ہے؟ اس میں ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔'

صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر وڈورڈ سے یہ بھی کہا کہ ان کے پیش رو باراک اوبامہ خوامخواہ مشہور تھے۔

ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا: 'مجھے نہیں لگتا کہ اوبامہ ذہین ہیں۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ بہترین مقرر ہیں۔'

سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے وڈورڈ کو کہا کہ ان کی وجہ سے جارج ڈبلیو بش 'احمق دکھائی دینے لگے، جو کہ وہ ہیں۔'