اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے معاہدے: مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر امن کا قیام کس حد تک ممکن

  • جوئیل گرینبرگ
  • اسرائیلی امور کے ماہر
سولہ ستمبر کو اسرائئلی حملے کے بعد غزہ کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اُس نے راکٹس کے جواب میں غزہ میں حماس کے اڈوں کو نشانہ بنایا

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے لان پر 15 ستمبر کو اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر رہے تھے اور تقریب کی خبر ٹی وی چینلوں پر نشر کی جا رہی تھیں اسی دوران اسرائیل اور فلسطین کے درمیان غزہ میں تازہ جھڑپوں کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔

فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل پر دو راکٹ فائر کیے جن میں سے ایک راکٹ ساحلی شہر اشدود پر گرا جس سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ راکٹ عین اس وقت فائر کیے گئے جب واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے معاہدوں پر دستخط کر رہے تھے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب عسکریت پسندوں کی جانب سے مزید 13 راکٹ داغے گئے ہیں۔

جوابی کارروائی میں اسرائیلی فوج نے غزہ کے کچھ مقامات پر بمباری کی اور کہا کہ جن مقامات پر بمباری کی گئی ہے وہ فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس سے متعلقہ ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے واشنگٹن سے واپسی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی کہ عین اس تاریخی تقریب کے دوران فلسطینی دہشت گردوں نے اسرائیل پر حملہ شروع کیا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہ امن کے عمل کو واپس دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم اُن سب پر حملہ کریں گے جو ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں، اور ہم اُن سب لوگوں کی طرف رجوع کریں گے جو ہم تک سلامتی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ تعلقات کی بحالی کے معاہدے پر دستخط وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں کیے۔

حماس نے، جو کہ غزہ پر کنٹرول رکھتا ہے، اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ’ہمارے عوام یا مزاحمتی مقامات کے خلاف کسی بھی جارحیت کی قیمت ادا کرے گا اور اس کا براہ راست جواب دیا جائے گا۔‘

حماس کا مزید یہ بھی کہنا تھا ’ہم اپنی جوابی کارروائی میں اُس وقت تک تیزی اور وسعت لاتے رہیں گے جب تک قابض (اسرائیل) اپنی جارحیت پر قائم رہے گا۔‘

اس حملے کے مناظر براہ راست ٹی وی چینلوں پر دیکھے گئے اور ایک مرتبہ پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر ہو گئی کہ ستر برس سے جاری تنازع اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ موجود ہے چاہے اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہونے یا نئی صبح طلوع ہونے کے کتنے ہی اعلانات کیوں نہ کرلیں۔

مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر امن کا قیام کس حد تک ممکن

اسرائیل میں مبصرین کا کہنا تھا کہ نتن یاہو نے ان معاہدہوں کا مصر اور شام سے موازنہکیا لیکن اس کے برعکس معمول کے تعلقات قائم کرنے کے یہ معاہدے ایسے ملکوں کے ساتھ ہوئے ہیں جن کی سرحدیں اسرائیل سے نہیں ملتیں، ان کی اسرائیل سے براہ راست کبھی جنگ نہیں ہوئی اور ایک عرصے سے ان کے اسرائیل سے خفیہ مراسم تھے۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کو 'امن کا معاہدہ' اور بحرین کے ساتھ معاہدے کو 'امن کے اعلان' کا نام دیا گیا۔ یہ دونوں معاہدے کوئی جنگ بندی کا اعلان نہیں تھے اس کے بجائے ان دونوں معاہدوں میں وہ شرائط یا وہ نکات درج کیے گئے جن پر عملدرآمد کر کے سفارتی، تجارتی اور سیاحت کے شعبے میں تعلقات قائم کیے جائیں گے۔

اسرائیل کے ایک لبرل اخبار ہرٹز کے کالم نگار اور بائیں بازو کی جماعت کے سابق رہنما زیوا جالون نے اپنے تازہ کالم میں لکھا کہ ’اسرائیل کے فرانس، سویڈن اور کینیڈا کے ساتھ کوئی امن معاہدے نہیں ہوئے ہیں اس لیے کہ اسرائیل کی ان ملکوں سے کبھی جنگ ہی نہیں ہوئی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ایک راکٹ اسرائیل کے ساحلی شہر اشدود پر گرا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انہوں نے کہا کہ ’اصل میں یہ معاہدہ ان تعلقات کی تشہیر یا سرے عام اعتراف ہے جو انیس سو نوے کی دہائی میں ایک ایسے ملک کے ساتھ شروع ہوئے تھے جس کے ساتھ اسرائیل کی کوئی مشترکہ سرحد نہیں ہے، نہ ہی اسرائیل نے کبھی اس کے علاقے پر قبضہ کیا ہے اور نہ ہی اسرائیل کا اس کے شہریوں کے ساتھ کبھی کوئی تنازع رہا ہے‘۔

یہ معاہدے فریقین کو اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی اور اسرائیل کے تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے کی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔ لیکن فلسطینی قیادت نے ان کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

کیونکہ یہ معاہدے عرب لیگ کی طرف سے سنہ 2002 میں متفقہ طور پر منظور کردہ عرب امن منصوبے سے انحراف ہے جس کے تحت تمام عرب ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اسرائیل سے اس وقت تک کسی قسم کے سفارتی تعلقات قائم نہیں کریں گے جب تک اسرائیل تمام مقبوضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہو جاتا اور فلسطینیوں کی علیحدہ ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ مسئلہ اسرائیل اور اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ملکوں کا نہیں بلکہ مسئلہ ان فلسطینیوں کا ہے جو اسرائیل کے قبضے میں ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام اسی صورت قائم ہو سکتا ہے کہ اسرائیل نے1967 میں عربوں کے ساتھ جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ انہیں خالی کر دے اور غرب اردن اور غزہ کے علاقوں پر مشتمل علیحدہ فلسطینی ریاست قائم ہو جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

معمول کے تعلقات قائم کرنے کے لیے کیے گئے معاہدوں میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں دیا گیا۔

بحرین کے وزیر خارجہ نے اس تقریب کے آغاز میں یہ کہا تھا کہ اب یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر اور سرگرم ہو کر امن کے قیام کے لیے مل کر کام کریں اور اس کی ٹھوس بنیادیں ایک منصفانہ اور جامع دو ریاستی حل پر رکھی جائیں تاکہ پائیدار امن ممکن ہو سکے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے پر پہنچنے کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے ان کے ملک سے غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اپنے منصوبوں کو ترک کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام کے بارے میں فلسطینیوں کے علاوہ عرب اور یورپی ممالک نے خبردار کیا تھا کہ اس سے دو ریاستی حل کا امکان مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب ارکات اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ انھوں نے فلسطینی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ان معاہدوں پر دستخط کر کے اصل میں صدر ٹرمپ کے مشرق وسطی کے بارے میں اس امن منصوبے کو تسلیم کر لیا ہے جس کو فلسطینیوں نے رد کر دیا ہے اور جو کو فلسطینیوں سے ان کے علیحدہ ریاست کے حق سے محروم کرنا ہے۔

یہ منصوبہ جو اس سال جنوری میں منظر عام پر آیا تھا، اس کے مطابق غرب اردن کا ایک تہائی حصہ اور یہودیوں کی تمام غیر قانونی بستیوں کو حتمی معاہدے میں اسرائیل میں شامل کیا جانا تھا۔

گالون اور اسرائیل میں بائیں بازو کے دیگر دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کو تاریخی قرار دینا غلط ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ’یہ ان رہنماؤں کی طرف سے جو کوئی مدبر سیاست دان نہیں بلکہ ماہر تاجر ہیں اور جو خود اپنی گردنوں تک اندرونی مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں، پرانے پس پردہ مراسم کو نئی پیکنگ میں پیش کرنے کی کوشش ہے‘۔

صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو دونوں ہی کے خلاف کووڈ 19 کی وباء سے موثر طور پر نمٹنے میں ناکامی پر عوامی سطح پر مظاہرہ ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ایک انتہائی کڑے انتخابی معرکے کا سامنا ہے جبکہ نتن یاہو کو بدعنوانی کے الزمات میں مقدمات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے۔

کچھ اسرائیلی مبصرین نے نتن یاہو کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدے عرب اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ تنازع مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال کر کیے گئے ہیں اور اس سے عرب دنیا میں اسرائیل کے بارے میں سوچ کی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔

ایک نامی گرامی کالم نگار بن کیسپٹ نے لکھا ہے کہ ’یہ حقیقت کے عرب دیوار میں دراڑ پڑ رہی ہے اور اسرائیل کو یہ ثابت کرنے میں کامیابی حاصل ہونا کہ فلسطینیوں سے تنازع حل کیے بغیر بھی حالات معمول پر لائے جا سکتے ہیں نئی فلسطینی قیادت کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ وہ خوابوں کو چھوڑ کر حقیقت سے سمجھوتہ کریں‘۔

ہرٹز اخبار کے سیاسی تجزیہ کار جو نتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہیں، انھوں نے ان معاہدوں پر نتن یاہو کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ معاہدے ان کا سفارتی ورثہ ثابت ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرے عرب اور مسلمان ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کریں گے اور نتن یاہو کا نام اسرائیل کے ان رہنماؤں میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے تاریخ رقم کی۔