اسرائیل، متحدہ عرب امارات امن معاہدہ: پُرعزم خلیجی ریاست ایک علاقائی طاقت کے طور پر کیسے ابھری؟

  • فرینک گارڈنر
  • بی بی سی ، سکیورٹی نامہ نگار
یو اے ای

،تصویر کا ذریعہAFP

متحدہ عرب امارات ایک چھوٹی لیکن انتہائی امیر اور پُرعزم خلیجی ریاست ہے اور اس ریاست کے لیے سنہ 2020 خاصا اہم رہا ہے۔

رواں برس متحدہ عرب امارات نے مریخ پر اپنا خلائی مشن روانہ کیا، اسرائیل کے ساتھ ایک تاریخ ساز امن معاہدے پر دستخط کیے اور اپنے ملک میں کورونا کی وبا پر قابو پانے میں بھی کافی حد تک کامیاب رہا۔

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات ترکی کے ساتھ خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے والی ایک سٹریٹیجک جدوجہد میں بھی شامل ہے کیونکہ اس نے اپنا دائرہ کار لیبیا، یمن اور صومالیہ تک پھیلا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اگلے برس متحدہ عرب امارات کی آزادی کے 50 برس مکمل ہو رہے ہیں اور سوال یہ ہے کہ اب یو اے ای کے عالمی منصوبے کیا ہیں؟ اور اِن منصوبوں کی نگرانی کون کر رہا ہے؟

اتفاقیہ ملاقات

یہ مئی 1999 ہے اور کوسوو جنگ کو شروع ہوئے ایک برس گزر چکا ہے۔ میں البانیہ اور کوسوو کی سرحد پر موجود ایک کیمپ، جو کوسووو پناہ گزینوں سے کچھا کچھ بھرا ہے، میں بنائے گئی ایک عارضی جھونپڑی کے واش بیسن پر کھڑا ہوں۔

یہ کیمپ امارات کی ہلال احمر سوسائٹی کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ اس کیمپ میں اماراتی باورچیوں، حلال ذبیحہ کرنے والے قصائیوں، ٹیلی کام انجینیئرز، ایک پیش امام اور فوجیوں کا ایک دستہ بھی موجود ہے۔ یہ فوجی دستہ بھاری مشین گنز سے لیس گاڑیوں کے ساتھ صحرا میں گشت کرتا ہے۔

گذشتہ روز ہم نے پوما ہیلی کاپٹرز میں تیرانا نامی علاقے سے پرواز بھری تھی، ان ہیلی کاپٹرز کو یو اے ای فضائیہ کے پائلٹس نے شمال مشرقی البانیہ کی تنگ پہاڑی دروں اور گزرگاہوں سے گزارا تھا۔

،تصویر کا ذریعہFrank Gardner

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

واش بیسن پر میرے ساتھ کھڑا شخص دانت صاف کر رہا ہے۔ اِس قد آور شخص کے چہرے پر داڑھی تھی اور وہ عینک پہنے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں پہچان لیا وہ شیخ محد بن زید ہیں، جو برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ کے گریجویٹ اور یو اے ای کے بڑھتے ہوئے فوجی کردار کے پیچھے ایک متحرک قوت ہیں۔

میں نے پوچھا کیا ہم ایک ٹی وی انٹرویو کر سکتے ہیں؟ انھیں انٹرویو دینے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن انھوں نے پھر بھی حامی بھر لی۔

انھوں نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات فرانس کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت داری میں داخل ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت فرانس اماراتی فوجیوں کو اپنی سرپرستی میں لے کر ٹریننگ فراہم کرے گا جس کے بعد ان اماراتی فوجیوں کو کوسوو میں تعینات کیا جائے گا۔ اسی معاہدے کے تحت یو اے ای فرانس سے 400 لیکرک ٹینک بھی خریدے گا۔

ایک ایسے ملک کے لیے جس نے چند دہائی قبل آزادی حاصل کی تھی یہ اقدام کافی جراتمندانہ تھا۔

وہاں بلقان کے اس دور دراز علاقے میں، ہم ابو ظہبی سے دو ہزار میل دور تھے لیکن اس کے باوجود یو اے ای کے عزائم خلیج کے ساحلوں سے کہیں آگے کے تھے۔

نیٹو کی حمایت میں، یہ یورپ میں اپنی فوج تعینات کرنے والی پہلی جدید عرب ریاست بن چکی تھی۔

لٹل سپارٹا

،تصویر کا ذریعہFRANK GARDNER

اس کے بعد باری آتی ہے افغانستان کی۔ شاید یو اے کی بیشتر آبادی کو افغانستان کے بارے معلوم بھی نہیں ہو گا مگر ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید کی اجازت سے اماراتی افواج نے طالبان کے خاتمے کے بعد خاموشی سے افغانستان میں نیٹو کے شانہ بشانہ کام شروع کر دیا۔

سنہ 2008 میں بگرام ایئر بیس پر میں نے اُن کے ایک خصوصی دستے سے ملاقات کی اور دیکھا کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔

برازیل اور جنوبی افریقہ کی بکتر بند گاڑیوں میں وہ افغانستان کے دور دراز اور غریب علاقوں میں جاتے، لوگوں میں قرآن اور مٹھائی کے ڈبے تقسیم کرتے اور پھر بزرگ افراد کے ساتھ بیٹھ جاتے۔

اماراتی فوجی پوچھتے ہیں آپ کو کیا چاہیے؟ ایک مسجد، ایک سکول یا پینے کے صاف پانی کا کنواں؟ یو اے ای اس کے لیے پیسے فراہم کرتا ہے جب کہ کنٹریکٹ مقامی کنٹریکٹرز کو مل جاتا ہے۔ اماراتی اپنے نقوش تو کم چھوڑتے مگر وہ جہاں بھی جاتے پیسے اور مذہب کا استعمال کر کے مقامی سطح پر نیٹو افواج کے حوالے سے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے شکوک و شبہات کو کم کرنے کی کوشش کرتے۔

صوبہ ہلمند میں انھوں نے برطانوی افواج کے شانہ بشانہ چند بڑی لڑائیاں بھی لڑیں۔ امریکہ کے سابق سیکریٹری دفاع جم میٹس نے انھیں ’لٹل سپارٹا‘ کا نام دیا تھا۔

یمن: ایک خراب ساکھ

اس کے بعد یمن کی باری آتی ہے، ایک ایسا فوجی محاذ جو مشکلات سے بھرپور تھا۔

جب سنہ 2015 میں سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ملک کو یمن کی تباہ کُن خانہ جنگی میں دھکیلا تو یو اے ای نے سعودیہ کا ساتھ دیا اور حوثی باغیوں پر فضائی حملوں کے لیے ایف 16 فائٹرز جبکہ یمن کے جنوبی علاقوں میں اپنے فوجیوں کو بھیجا۔

،تصویر کا ذریعہFRANK GARDNER

یمن کی جنگ اب چھ برس سے جاری ہے، جس میں کسی کو واضح برتری نہیں ہے اور حوثی باغی دارالحکومت صنعا اور ملک کے بیشتر علاقوں میں قدم جمائے ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارت کے فوجی بھی مارے گئے اور ایک ہی میزائل حملے میں 50 سے زائد اماراتی فوجی بھی ہلاک ہوئے جس کے نتیجے میں ریاست میں تین روز کا سوگ بھی منایا گیا۔

یو اے کی ساکھ کو مقامی ملیشیا، جن کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا رہا ہے، سے وابستگی کی وجہ سے بھی نقصان پہنچا جبکہ انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں کی اطلاعات کے مطابق یو اے ای نے ایک جہاز کے کنٹینر میں درجنوں قیدیوں کو بند رکھا جہاں وہ گرمی کی وجہ سے دم توڑ گئے۔

اسرائیل: ایک نیا اتحادی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متحدہ عرب امارت نے یمن کے تباہ کن تنازع میں تو اپنی شمولیت کو کم کر دیا تاہم اس نے اپنے فوجی خیموں کو ایک اور تنازعے تک پھیلا دیا ہے تاکہ خطے میں ترکی کے بڑھتے اثرورسوخ کو کم کیا جا سکے۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ترکی کی موجودگی واضح ہے تو متحدہ عرب امارات صومالی لینڈ کے ایک علیحدہ علاقے کی حمایت کر رہا ہے اور خلیج عدن میں بیربرا کے مقام پر ایک اڈہ قائم کیا ہے۔

جنگ زدہ لیبیا میں متحدہ عرب امارت، روس اور مصر کے ساتھ مشرق میں موجود خلیفہ خفتر کی افواج کی حمایت کر رہا ہے، جو دراصل مغرب میں موجود ان افواج کے خلاف ہے جن کی حمایت ترکی، قطر اور دوسرے ممالک کرتے ہیں۔

اس ستمبر میں یو اے ای نے یونان کے جزیرے کریٹ میں مشقوں کے لیے اپنے جہاز اور جنگجو طیارے بھیجے ہیں کیونکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندر میں ڈرلنگ کے حقوق پر یونان نے ترکی کے ساتھ محاز آرائی کی ہے۔

اور اب وائٹ ہاؤس کے یو اے ای اور اسرائیل کے مابین معائدے کے اچانک اور ڈرامائی اعلان نے برسوں کے ڈھکے چھپے تعاون پر سرکاری مہر لگا دی ہے۔

اگرچہ اس اتحاد میں صحت، بائیو ٹیک، ثقافت اور تجارت سے متعلق کئی اقدامات موجود ہیں لیکن اس کے ساتھ متحدہ عرب امارت کے پاس اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے گہرے سٹریٹجک فوجی اور سکیورٹی تعلقات استوار کرنے کی بھی صلاحیت ہے۔

ان دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ایران نے اس معائدے کی مذمت کی ہے جبکہ ترکی اور فلسطین نے بھی یو اے ای پر فلسطینیوں کی ایک آزاد ریاست کی خواہش کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

ستاروں پر کمند

،تصویر کا ذریعہReuters

یو اے ای کے عزائم یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتے۔ امریکہ کی مدد سے متحدہ عرب امارات مریخ پر اپنا مشن بھیجنے والا پہلا عرب ملک بن چکا ہے۔

200 ملین ڈالر کا یہ مشن، جسے ’ہوپ‘ کا نام دیا گیا ہے، جاپان کے ایک دور دراز جزیرے سے پرواز بھرنے کے بعد 126000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا میں پہنچ رہا ہے۔

یہ فروری میں اپنی منزل تک پہنچے گا جو ابھی 495 ملین کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ وہاں پہنچنے پر، یہ خلائی مشن اس سرخ سیارے کے ارد گرد موجود گیسوں کا نقشہ بنا کر اعدادوشمار زمین پر بھیجے گا۔

یو اے ای کے خارجہ امور کے وزیر انور گرگاش کا کہنا ہے کہ 'ہم ایک عالمی کھلاڑی بننا چاہتے ہیں۔ ہمیں کچھ رکاوٹوں کو توڑنا ہو گا اور ان کو توڑے کے لیے ہمیں کچھ سٹریٹجک خطرات کا سامنا کرنا ہو گا۔'

تاہم یو اے ای کے اس قدر تیزی سے آگے بڑھنے پر خدشات بھی موجود ہیں۔

خلیجی امور کے ماہر اور تجزیہ کار مائیکل سٹیفنز کہتے ہیں ’اس میں کچھ شکوک ہیں کہ یو اے ای خطے کی سب سے مؤثر فوجی قوت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’وہ بہت سے دوسرے ممالک میں افواج کو ایسے تعینیات کرنے میں کامیاب ہیں جو دوسری عرب ریاستیں نہیں کر سکتی ہیں لیکن وہ تعداد اور قابلیت کے لحاظ سے محدود ہیں اور بہت سے مسئلوں کو ایک ساتھ دیکھنا خطرہ ہو سکتا ہے، اور طویل مدتی میں یہ مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔‘