ایران، سعودی عرب کشیدہ تعلقات: الزامات عائد کرنے کے بعد ایران کی سعودی عرب کو ’جامع علاقائی مذاکرات‘ کی دعوت

سعودی شاہ سلمان

،تصویر کا ذریعہReuters

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ایران پر تندوتیز لفظی حملے کیے ہیں جس کے جواب میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے سعودی عرب پر الزامات عائد کیے ہیں۔

تاہم ایرانی سفیر نے الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو ’جامع علاقائی مذاکرات‘ کی پیشکش بھی کی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر مجید تخت‌روانچی نے سعودی عرب پر یمن کی جنگ میں ’دہشت گردی اور جرائم کی حمایت‘ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت سے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہا ہے اور یمن کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور تنازعات میں ایران اور سعودی عرب نے ایک دوسرے کے ملک میں حریف گروہوں کا ساتھ دیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے پر خطے کے دیگر ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کا الزام عائد کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے مجید تخت‌روانچی نے سعودی عرب پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’یمن کے عوام کے لیے ایندھن، خوراک اور ادویات کی ترسیل کو روکنے کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر غیر انسانی فعل کے طور پر قحط کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

ایران کے صدر حسن روحانی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مجید تخت‌روانچی نے یہ بھی کہا کہ ’نام نہاد شدت پسند تنطیم دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسے خطرناک دہشت گرد گروہ بنیادی طور پر سعودی عرب کے وہابی نظریے سے متاثر رہے ہیں۔‘

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اپنے جوابی زبانی حملوں کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مجید تخت‌روانچی نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ’غیر ملکی افواج پر انحصار کرنے‘ کے بجائے باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے تحت تمام خلیجی ریاستوں کے ساتھ ’جامع علاقائی مذاکرات‘ میں حصہ لیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کے آواخر میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی تھی جب دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر سرحدی حدود میں حملے کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

ستمبر 2019 میں ایران نے الزام عائد کیا تھا کہ بحیرہِ احمر میں جدہ کی بندرگاہ سے تقریباً 60 میل دور ایرانی ٹینکر پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ ایران نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا تھا لیکن ایرانی حکام نے بلواسطہ اس حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیا تھا۔

سعودی عرب نے حملے میں ملوث ہونے کے اس الزام کی تردید کی تھی اور سعودی وزیرِ خارجہ عادل بن الجُبیر نے کہا ہے تھا کہ ’ہم (سعودی عرب) اس طرح کے حربے استعمال نہیں کرتے ہیں۔‘

اس حملے سے ایک ماہ قبل سعودی عرب کے شہروں بقیق اور خریص میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا۔ تاہم یمن میں حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

آرامکو تیل تنصیبات پر حملے کے بعد کا منظر

ایران نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اس سے پہلے ایران کے ساحل اور عمان کے ساحل کے قریب بھی آئل ٹینکروں پر حملے ہوئے تھے اور انگلیاں ایران کی طرف اٹھیں تھیں، تاہم ایران نے اس وقت بھی تردید کی تھی۔ اُن حملوں کی ذمہ داری بھی یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی

ایران اور سعودی عرب ساتھ کیوں نہیں چلتے؟

سعودی عرب اور ایران دو طاقتور ہمسائے ہیں اور خطے میں اپنی برتری کے لیے شدید کوشاں ہیں۔

دہائیوں سے چلا آرہا جھگڑا مذہبی اختلافات کی وجہ سے بڑھا ہے۔ یہ دونوں ممالک اسلام کی دو مرکزی شاخوں کے پیروکار ہیں۔ ایران میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے جبکہ سعودی عرب خود کو سنی مسلمانوں کے رہبر کے طور پر دیکھتا ہے۔

یہ مذہبی فرقہ واریت مشرق وسطیٰ کے نقشے پر مزید پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے جہاں کچھ ملک شیعہ یا سنی اکثریت میں ہیں وہ ایران یا سعودی عرب کی جانب مدد یا رہنمائی کے لیے دیکھتے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے سعودی عرب ہی میں اسلام کا آغاز ہوا اور وہ خود کو مسلم دنیا کے سربراہ کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ لیکن یہ صورتحال سنہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد تبدیل ہو گئی جب اس نے اس خطے میں ایک ’مذہبی انقلابی‘ ریاست بنائی اور اس کا ایک مشن اس نئے نظام کو اپنی سرحدوں کے باہر بھی متعارف کروانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گزشتہ 15 برسوں میں خاص طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات مختلف واقعات کی وجہ سے بڑھے ہیں۔

سنہ 2003 میں امریکہ کی سربراہی میں حملے کے نتیجے میں عراق میں صدام حسین کی حکومت ختم ہو گئی، جو کہ سنی عرب تھے اور ایران کے بڑے مخالف۔ اس سے علاقے میں ایران کا مقابلہ کرنے والی ایک بڑی فوجی طاقت ختم ہو گئی۔ بغداد میں شعیہ اثر و رسوخ والی حکومت کے لیے راستہ کھل گیا اور اس وقت سے ملک میں ایران کے اثر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر اب سیدھا سال 2011 کی بات کی جائے تو مختلف بغاوتوں کی بدولت عرب ممالک میں سیاسی عدم استحکام آیا جس سے پورا خطہ متاثر ہوا۔ ایران اور سعودی عرب نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی خاص طور پر شام، بحرین اور یمن میں اور اسی دوران ان کے باہمی شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوا۔

ایران کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ خطے میں اپنے آپ کو یا اپنے حمایت یافتہ گروہوں کو قائم کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔ اور اس طرح ایران سے بحیرہ روم تک اپنے کنٹرول والی زمینی راہداری بنانا چاہتا ہے۔