آذربائیجان، آرمینیا تنازع: شامی باشندوں کو لڑنے کے لیے آذربائیجان کس نے بھجوایا؟

  • محمد ابراہیم
  • بی بی سی عربی، لندن
An illustration of a fighter holding his head in his hands.

،تصویر کا ذریعہJilla Dastmalchi/BBC

ایک ایپ پر پیغام کے ذریعے عبداللہ ( فرضی نام) نے مجھے بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم تھا کہ ہم جنگ کے لیے جا رہے ہیں۔‘

ہماری گفتگو بے ربط تھی۔ عبداللہ خوفزدہ تھے کہ اگر ان کے سینیئر نے انھیں ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے پکڑ لیا تو کیا ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ ہمیں کہا گیا کہ ہم آذربائیجان جائیں اور ملٹری پوسٹس پر بطور گارڈ کام کریں جس کا ہمیں دو ہزار ڈالر معاوضہ ملے گا۔

عبداللہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت کوئی جنگ نہیں ہو رہی تھی اور ہمیں کوئی فوجی ٹریننگ بھی نہیں دی گئی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

نہ تربیت نہ جنگ

،تصویر کا ذریعہEPA/AZERBAIJAN DEFENCE MINISTRY

،تصویر کا کیپشن

فوجی آپریشن کے درمیان آذربائیجان کی فوج

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

شمالی شام کے بہت سے رہائشیوں کی مانند عبداللہ اپنے ملک میں جنگ سے تنگ تھے اور مفلسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ایک حالیہ سرودے کے مطابق شام کی 81 فیصد سے زائد آبادی مہینہ بھر میں 50 ڈالر سے بھی کم کما پاتی ہے۔

جب عبداللہ کو گذشتہ ہفتے آذربائیجان میں ملٹری پوسٹس پر ڈیوٹی دینے کی عوض اپنی آمدن سے 40 گنا زیادہ رقم کی پیشکش ہوئی، تو انھوں نے اسے فوراً قبول کر لیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت وہاں کوئی جنگ نہیں ہو رہی تھی۔ منصوبے کے مطابق انھیں شمالی شام سے ایک سرحدی گاؤں میں منتقل کیا گیا جہاں شامی اپوزیشن آرمی نے ان سے ان کی تمام اشیا، بشمول فون اور کپڑے بھی شامل تھے، اپنے قبضے میں لے لیں تاکہ ہماری شناخت ممکن نہ رہ پائے۔

تاہم بعد میں عبداللہ نے کسی طرح اپنا فون واپس لے لیا۔

پھر انھیں جنوبی ترکی میں اینٹپ کے ہوائی اڈے میں منتقل کیا گیا جہاں سے انھیں استنبول کے ہوائی اڈے تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ اور چالیس منٹ لگے۔

وہ بتاتے ہیں ’اس کے بعد انھیں اذیری ائیرلائنز کے ذریعے آذربائیجان لے جایا گیا اور پھر ہم سرحد پر ملٹری پوسٹ پر پہنچ گئے۔ ہمیں کوئی فوجی تربیت نہیں دی گئی۔‘

ناگورنو قرہباخ وہ خطہ ہے جو کئی دہائیوں سے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ علاقہ آذربائیجان کا حصہ ہے تاہم اس پر کنٹرول آرمینیا کا ہے۔

اس تنازع کے باعث گذشتہ تین دہائیوں میں سینکڑوں افراد جھڑپوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ خونریز جھڑپوں کے بعد اگرچہ جنگ بندی تو ہوئی مگر دونوں ممالک کے درمیان کبھی بھی امن معاہدہ طے نہیں ہو پایا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد کشیدہ صورتحال دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے۔

’ہم نہیں جانتے تھے کہ دشمن کہاں تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ناگورنو قرہباخ کی جانب جاتی آرمینیائی فوجی

27 ستمبر کو عبداللہ کو آذربائیجان کے ایک کیمپ میں آئے تقریباً ایک ہفتہ ہونے کو تھا۔ دیگر شامیوں کی مانند وہ یہاں پیسے کے لیے آئے تھے، لڑنے کے لیے نہیں۔ مگر انھیں اس وقت حیرت ہوئی جب انھیں بتایا گیا کہ وہ جلدی سے یہاں سے نکلیں۔

’انھوں نے ہمیں فوجی گاڑیوں میں ڈالا، ہم نے آذربائیجان کی فوج جیسا یونیفارم پہن رکھا تھا اور ہم سب کے پاس کلاشنکوف تھیں‘۔

ناگورنو قرہباخ میں شدید لڑائی شروع ہو چکی تھی۔

’گاڑی رکی تو ہمارے لیے یہ حیرت انگیز تھا ہم فرنٹ لائن پر پہنچ چکے تھے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ دشمن کہاں ہے۔ پھر بمباری شروع ہو گئی اور بہت سے لوگ خوف سے رونا شروع ہو گئے، وہ گھر واپس جانا چاہتے تھے۔ ہمارے قریب ہی ایک گولہ آ کر گرا جس کے باعث چار شامی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ تین زخمی بھی ہوئے۔‘

اگلے کچھ دن میں عبداللہ کے بقول انھوں نے دس شامیوں کی لاشیں دیکھیں۔

شمالی شام میں مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شامیوں کی ہلاکت کی خبریں ان کے گھر والوں کو پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔

عبداللہ نے بتایا کہ دیگر 70 شامی بھی زخمی ہوئے اور انھیں جس طبی امداد کی ضرورت تھی وہ انھیں نہیں ملی۔

غیر ملکی جنگجو

،تصویر کا ذریعہReuters

آرمینیا کا الزام ہے کہ چار ہزار شامی فوجیوں کو آذربائیجان بھجوایا گیا ہے تاہم ترکی نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا ہے کہ ترکی آرمینیا کے ساتھ اس کی جنگ میں فریق نہیں ہے بلکہ وہ فقط آذربائیجان کی اخلاقی حمایت کر رہا ہے۔

ترکی اور آذربائیجان کے درمیان قریبی سیاسی، نسلی اور ثقافتی روابط ہیں۔

لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے کہ شامی جنگجوؤں کو شام سے بذریعہ ترکی باہر بھجوایا گیا ہے۔

گذشتہ سال مئی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ شمالی شام سے جنگجوؤں نے براستہ ترکی لیبیا کا سفر کیا ہے جہاں خانہ جنگی ہو رہی تھی۔

سرین آبزرویٹری گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کہتے ہیں کہ شام میں مسلح اپوزیشن میں اس معاملے میں تقسیم ہو گئی تھی کہ جنگجوؤں کو آذربائیجان بھجوانا چاہیے یا نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ گروہ جن میں زیادہ تر ترکی سے تعلق رکھتے ہیں اس بات کے خواہشمند ہیں کہ جنگجوؤں کو ترکی بھجوایا جائے۔

لیکن دیگر جن میں گوٹا اور حمس کے لوگ بھی شامل ہیں ایسا کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ وہ اسے شیعہ مسلمانوں کے درمیان جھگڑے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

آخری پیغام

بہت دنوں سے مجھے عبداللہ کی جانب سے کچھ سننے کو نہیں ملا۔ میں نے سوچا کہ ایسا اس لیے ہوا ہے کیونکہ اسے پکڑا گیا ہے اور اس کی سرزنش ہوئی ہے یا اس کا فون لے لیا گیا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ خطے میں انٹرنیٹ کمزور ہو اور رابطوں میں مشکل پیدا ہو رہی ہو۔

اس کے آخری پیغام میں ایک خواہش تھی کہ کاش یہ سب ختم ہو جائے۔

’جنگ کے آغاز کے بعد ہم نے اپنے افسران کو بتانے کی کوشش کی کہ ہم بس شام میں اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔ مگر انھوں نے کہا نہیں۔‘ عبداللہ نے بتایا تھا کہ انھوں نے ہمیں دھمکی دی تھی کہ اگر ہم جنگ لڑنے فرنٹ لائن پر نہ گئے تو ہمیں لمبی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔