امریکی صدارتی انتخاب 2020: امریکہ میں صدر کے الیکشن کا طریقۂ کار کیا ہے؟

امریکی صدارتی انتخاب

دنیا کی سب بڑی فوجی اور معاشی طاقت ہونے کی وجہ سے امریکہ کے صدر نہ صرف امریکہ میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والوں کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے تین نومبر 2020 کو ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اثر دنیا بھر پر پڑے گا۔

امریکہ سیاست بنیادی طور پر دو جماعتی نظام پر قائم ہے اور صدر ان ہی دو جماعتوں میں سے کسی ایک سے منتخب ہوتا ہے۔

رپبلکن پارٹی جو قدامات پسند جماعت ہے اس کی طرف سے سنہ 2020 کے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کیا گیا ہے اور وہ چار سال کی صدارتی مدت مکمل کرنے کے بعد دوبارہ منتخب ہونے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

رپبلکن جماعت کو امریکہ کی پہلی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے 'گرینڈ اولڈ پارٹی' یا اختصار کے ساتھ جی او پی بھی کہا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں وہ ٹیکسوں میں کمی، اسلحہ رکھنے کے استحقاق، امیگریشن کے بارے میں سخت پالیسی کا پروگرام لے کر چلتی رہی ہے۔

امریکہ کے وسیع و عریض دیہی علاقوں سے رپبلکن پارٹی کو زیادہ حمایت حاصل رہی ہے۔ ماضی قریب رچرڈ نکسن، رونلڈ ریگن، جارج بش اور جارج ڈبلیو بش، رپبلکن پارٹی کی طرف سے صدر منتخب ہوتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیموکریٹک پارٹی ایک لبرل جماعت ہے اور ان کے امیدوار جو بائیڈن ہے جو ماضی میں سابق صدر اوباما کے ساتھ آٹھ سال تک نائب صدر کے اہم عہدے پر فائز رہے ہیں اور سیاست کے میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

دونوں امیدوار کافی عمر رسیدہ ہیں اور اپنی زندگیوں کی 70 سے زیادہ بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ اگر دوسری مرتبہ منتخب ہو گئے تو اپنے اقتدار کی دوسری مدت شروع کرنے سے قبل ہی وہ 74 برس کے ہو جائیں گے۔ جو بائیڈن جن کی عمر اس وقت 78 برس ہے اگر انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو امریکی سیاسی تاریخ میں وہ سب سے عمر رسیدہ صدر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔

انتخابی جیت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دونوں امیدوار 'الیکٹورل کالج ووٹ' یعنی 'انتخابی حلقوں' کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ہر ریاست کے لیے اس کی آبادی کے اعتبار سے الیکٹورل کالج ووٹ کی ایک خاص تعداد مختص کر دی گئی ہے۔ اس طرح الیکٹورل کالج ووٹ کی کل تعداد 538 ہے لہٰذا جو جماعت نصف سے زیادہ یعنی 270 ووٹ حاصل کر لیتی ہے اس کے صدارتی امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے۔

اسی بنا پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ریاستی سطح پر مقابلہ ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ملکی سطح پر مجموعی طور پر زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار مطلوبہ تعداد میں الیکٹورل ووٹ حاصل نہ کر پانے کی وجہ سے صدارتی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ سنہ 2016 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلٹن نے مجموعی طور پر صدر ٹرمپ سے 30 لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے تھے لیکن وہ الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھیں۔

امریکی صدارتی انتخاب کے اس پیچیدہ نظام میں صرف دو ریاستوں کے علاوہ باقی تمام ریاستوں میں 'ونر ٹیکس اٹ آل' یعنی اکثریت حاصل کرنے والے کے کھاتے میں الیکٹورل کالج کے تمام ووٹ ڈال دیے جاتے ہیں۔

اکثر ریاستیں فیصلہ کن طور پر کسی ایک جماعت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیتی ہیں لہٰذا عام طور پر انتخاب کے دوران ان ریاستوں پر توجہ مرکوز ہو جاتی ہے جہاں سے کسی بھی پارٹی کے منتخب ہونے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی ریاستیں جن کے بارے میں یقنی طور پر کچھ نہ کہا جا سکتا ہو انھیں 'سوئنگ سٹیٹس' یا 'بیٹل گراؤنڈ سٹیٹس' کا نام دیا جاتا ہے۔

الیکٹورل کالج میں کون ووٹ ڈال سکتا ہے اور کس طرح ووٹ ڈالا جاتا ہے

امریکی سیاسی نظام میں اگر آپ امریکی شہری ہیں اور آپ کی عمر اٹھارہ برس یا اس سے زیادہ ہے تو ہر چار سال بعد منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں آپ کو ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔

بہت سی ریاستوں نے وقت گزرنے کے ساتھ ایسے قوانین منظور کیے ہیں جن کے تحت ووٹ ڈالنے سے قبل شہریوں کو اپنی شناختی دستاویزات پیش کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

اس طرح کے قوانین زیادہ تر رپبلکن جماعت کے اراکین کی طرف سے وضع کیے گئے ہیں جن کے خیال میں انتخابات کو منصفانہ بنانے کے لیے جعلی ووٹوں کو روکنا ضروری ہے لیکن ڈیموکریٹ پارٹی کا موقف یہ رہا ہے کہ اس طرح کے قوانین سے ووٹروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور یہ ووٹنگ ڈالنے کی شرح کو کم رکھنے کا حربہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عموماً غریب اور معاشرے کے پسماندہ افراد کے لیے ڈرائیونگ لائسنس یا دوسری شناختی دستاویزات کا حصول مشکل ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس سال صدراتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے عمل پر بھی تنازع کھڑا ہو گیا ہے اور اس بارے میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان کافی لے دے ہو رہی ہے۔

کئی سیاست دان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پوسٹل بیلٹ یعنی ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالنا چاہیے لیکن صدر ٹرمپ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے یہ اصرار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ اس طریقے سے ووٹنگ فراڈ بڑھ جائے گا۔

کیا انتخاب صرف صدر منتخب کرنے کے لیے ہوتا ہے؟

انتخابی عمل صرف صدر منتخب کرنے کے لیے نہیں ہوتا گو کہ ساری توجہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن پر ہی مرکوز رہے گی لیکن ووٹر اپنے ووٹ کی پرچیاں بھرتے وقت کانگرس کے اراکین کا انتخاب بھی کریں گے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل ہے لہٰذا ان کی کوشش ہو گی کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھیں اور ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بھی اپنے اراکین کی تعداد میں اضافہ کر پائیں۔

اس بارے میں

اگر امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوان نمائندگاں میں انھیں اکثریت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ دوسری مرتبہ منتخب ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ کے منصوبوں پر عملدرآمد کو موثر طور پر روک سکتے ہیں۔

ایوان نمائندگان کی تمام کی تمام 435 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے جب کہ سینیٹ کی 33 نشستوں پر بھی نئے نمائندے چنے جائیں گے۔

انتخابی نتائج ہم تک کب پہنچیں گے؟

ووٹوں کی گنتی میں کئی دن لگ سکتے ہیں لیکن انتخاب کے بعد دوسری صبح ہی بڑی حد تک یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انتخابی کامیابی کا سہرا کس کے سر سجے گا۔

صدر ٹرمپ نے سنہ 2016 میں نیویارک میں انتخابات کے دوسرے دن علی الصبح تین بجے اپنے حامیوں کے سامنے جیت کا اعلان کر دیا تھا۔

اس مرتبہ آپ نتائج اتنی جلد آنے کی توقع نہ کریں۔ حکام خبردار کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ نتائج کے سامنے آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے جس میں دن نہیں ہفتے بھی لگ سکتے ہیں کیونکہ اس مرتبہ پوسٹل بیلٹ کے ذریعے زیادہ ووٹ ڈالے جانے کی توقع ہے۔

آخری مرتبہ جب انتخابی نتائج چند گھنٹوں میں سامنے نہیں آئے تھے ہو سنہ 2000 کے انتخاب تھے۔ اس وقت جیتنے والے کا اعلان ایک ماہ کے بعد ہوا جب سپریم کورٹ نے نتائج کی تصدیق کی تھی۔

جیتنے والا امیدوار کب اقتدار سنبھالتا ہے؟

اگر جو بائیڈن الیکشن جیت جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ اقتدار کی منتقلی کا وقت مقرر ہے جس کا مقصد نئے صدر کو اپنی کابینہ کا انتخاب کرنے اور حکمت عملی بنانے کی مہلت دینا ہے۔

نئے صدر اپنے عہدے کا حلف روایتی طور پر 20 جنوری کو اٹھاتے ہیں اور اس تقریب کو افتتاحی تقریب کا نام دیا جاتا ہے جو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل بلڈنگ کی سیڑھیوں پر منعقد ہوتی ہے۔

اس تقریب کے بعد صدر وائٹ ہاؤس منتقل ہو جاتے ہیں اور ان کی چار سالہ مدت صدارت کا باقاعدہ آغاز ہو جاتا ہے۔