آسٹریلیا میں ایک مسلمان حاملہ عورت پر حملے کے مجرم کو تین برس قید کی سزا

حملے کا منظر

،تصویر کا ذریعہNSW POLICE

،تصویر کا کیپشن

سٹِپ لوزینا نے کیفے میں بیٹھی ہوئی رانا ایلسمار کو تابڑ توڑ گھونسے اور لاتیں ماریں

ایک آسٹریلین شہری کو ایک حاملہ عورت کو زدوکوب کا نشانہ بنانے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ شبہ ہے کہ حملے کا محرک مجرم کی اسلام دشمنی ہے۔

سٹیِپ لوزینا نے 32 سالہ رانا ایلسمار پر گذشتہ نومبر میں سڈنی میں حملہ کیا تھا۔

رانا ایلسمار 38 ہفتے کی حاملہ تھیں جب ایک کیفے میں چائے پینے کے دوران لوزینا ان کی میز پر گیا اور ان سے پیسے مانگے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران بیان کیا گیا کہ پیسے دینے سے انکار پر لوزینا نے ان پر حملہ کر دیا جس کا محرک مذہبی نفرت تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے چلّا کر کہا کہ ’تم مسلمانوں نے میری ماں کو برباد کر دیا ہے‘ اور رانا ایلسمار پر گھونسے برسانا شروع کر دیے جس سے وہ زمین پر گر پڑیں۔

جب تک وہاں موجود لوگ مجرم کو روکتے حملہ آور مضروبہ کو کم سے کم 14 مرتبہ گھونسے اور لاتیں ماریں چکا تھا۔

وقوعہ کی سکیورٹی ویڈیو سے آسٹریلیا میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہNSW POLICE

،تصویر کا کیپشن

کیفے میں موجود دوسرے افراد نے رانا ایلسمار کو حملہ آور سے بچانے میں مدد دی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

جمعرات کو جج نے فیصلہ سناتے وقت کہا کہ ’حملہ مضروبہ اور ان کے نومولود بچے کے لیے سنگین نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔‘

رانا ایلسمار نے عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور یہ کہ انھیں اپنی اور اپنے بچے کی جان کا خطرہ محسوس ہوا تھا۔

انھوں نے کہا: ’اگر کوئی مداخلت نہ کرتا تو میں مر سکتی تھی۔

’میں نے مکوں سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر اپنا پیٹ زمین کی طرف کر لیا۔ میں اپنے بچے کو بچانا چاہتی تھی۔‘

انھیں معمولی چوٹیں آئی تھیں اور حملے کے تین ہفتے بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔

تاہم عدالت کو بتایا گیا کے ان پر حملے کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور وہ عوامی مقامات پر جانے اور اپنے بچوں سے حملے کے بارے میں بات کرنے سے خوف محسوس کرتی ہیں۔

گذشتہ ماہ انھوں نے کہا تھا، ’اسلام سے نفرت کو ختم ہونا چاہئے۔ عورتوں کے خلاف تشدد رک جانا چاہیے۔‘

لوزینا نے قانونی مدد لینے انکار کر دیا تھا اور اپنا دفاع خود کیا۔ آسٹریلین میڈیا کے مطابق سماعت کے دوران وہ کئی مرتبہ بے ربط بولتے رہے۔

جج نے اس بات کا خاص طور سے ذکر کیا کہ مجرم ’سکِٹزوفرینیا اور طویل عرصے سے نفسیاتی امراص کا شکار ہے۔‘

سنہ 2022 میں وہ پرول پر رہائی کے اہل ہو جائیں گے۔