امریکی صدارتی انتخاب 2020: کملا ہیرس، کشمیر اور ’مودی کے دوست‘ صدارتی الیکشن پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں؟

  • برجیش اپادھیائے
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
کملا، ٹرمپ، مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ میں جاری صدارتی انتحابات کی مہم میں دونوں بڑی جماعتیں، ریپبلیکنز یا ڈیموکریٹس، انڈین نژاد امریکیوں کے دل جیتنے کی کوششوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔

اگرچہ تاریخی طور پر امریکہ میں مقیم انڈین برادری کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی جانب رہا ہے لیکن کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے لیے اس برادری کے دل جیتنے میں اب تک کامیاب رہے ہیں؟

یہ اگست کے ایک سنیچر کی صبح کی بات ہے جب فلوریڈا کی ایک بڑی کاروباری شخصیت ڈینی گیکوارڈ بمشکل جاگے ہی تھے کہ ان کے فون کی سکرین روشن ہو گئی۔

گذشتہ رات ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی جانب سے ایک نیا اشتہار جاری کیا گیا تھا اور صبح سویرے ہی ڈینی گیکوراڈ کے واٹس ایپ پر پیغامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ان پیغامات میں جو ویڈیو تھی وہ اُسی رات وائرل ہو چکی تھی۔ اس ویڈیو میں صدر ٹرمپ اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی ہیوسٹن میں منعقد ہونے والے ایک بڑے جلسے میں سٹیج پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چل رہے تھے اور دونوں طرف سے تعریفوں کے پھول نچھاور ہو رہے تھے۔

اس وقت تک سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو دس لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی تھی اور گیکوارڈ کے واٹس ایپ گروپ میں شامل تقریباً دو ہزار انڈین امریکی اسے آپس میں دھڑا دھڑ شیئر کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن

ہیوسٹن میں منعقد ہونے والی ریلی کا ایک منظر جو دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا تھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس دن کی بات کرتے ہوئے فلوریڈا کی اس بڑی کاروباری شخصیت اور ریاست فلوریڈا کی ریپبلکن اشرافیہ کے جانے پہچانے مسٹر گیکوارڈ کا کہنا تھا کہ انڈین نژاد امریکیوں میں اتنا جوش و خروش پایا جاتا تھا کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

گیکوارڈ کے بقول ’اگر انڈین امریکی چاہتے ہیں کہ امریکہ میں اُن کی بات سُنی جائے، تو ٹرمپ کی شکل میں خدا نے انھیں بہترین موقع دیا ہے۔‘

گیکوارڈ کو یقین ہے کہ جس طرح ریپبلیکن جماعت انڈین امریکی برادری کی جانب ہاتھ بڑھا رہی ہے، تین نومبر کے انتخاب پر اس کے اثرات گہرے ہوں گے۔

اگرچہ ڈیموکریٹس ٹرمپ اور مودی کی یاری کے معاملے پر ڈھینگیں نہیں مار سکتے لیکن ان کے پاس سینیٹر کملا ہیرس موجود ہیں جو پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار ہیں اور انڈین امریکی ووٹرز کے حوالے سے مخالف جماعت کو چینلج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ پارٹی میں سینیٹر کملا ہیرس کی موجودگی نے جماعت کے انڈین نژاد حامیوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا ہے۔

کملا ہیرس کی شناخت ایک سیاہ فام امریکی کی ہے کیونکہ ان کے والد جمیکن نژاد امریکی ہیں لیکن انتخابی مہم کے دوران وہ اکثر اپنی والدہ شیمالا گوپلن کا ذکر کرتی رہی ہیں، جو وفات پا چکی ہیں۔ کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ بائیو میڈیکل کے شعبے سے منسلک تھیں اور نوجوانی میں انڈیا چھوڑ کر امریکہ آ گئی تھیں۔

کچھ عرصے پہلے تک اکثر انڈین امریکیوں کا خیال تھا کہ مِس ہیرس سیاہ فام ہیں لیکن وہ جس طرح اپنی والدہ کا ذکر کرتی ہیں اور پیدائشی طور پر انڈین ہونے پر فخر کرتی ہیں، اس سے لگتا ہے کہ انڈین برادری میں انھوں نے بہت سے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔

ریاست میسی چُوسٹ میں مقیم انڈین امریکی صنعتکار رمیش کپور کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی پر ہیرس کے اثرات پارٹی کے لیے فنڈز اکھٹا کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی تقریبات میں نظر آتے ہیں۔

مثلاً ستمبر کے آخری ہفتے میں جو بائیڈن کے لیے جب ایک آن لائن تقریب منعقد ہوئی تو محض ایک رات میں 33 لاکھ ڈالر جمع ہو گئے تھے حالانکہ پارٹی کا ہدف 15 لاکھ ڈالر تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کملا ہیرس انڈیا کے ساتھ اپنے تعلق کا ذکر فخر سے کرتی رہی ہیں

کپور کے بقول ’یہ کسی بھی جماعت کے لیے ایک رات میں اتنی زیادہ رقم اکھٹی کرنے کا ایک نیا ریکارڈ تھا۔ یہاں تک کہ جو بائیڈن نے بھی اعتراف کیا کہ اس کی وجہ کملا ہیرس تھیں۔‘

کپور خود ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے اس قسم کی کئی تقریبات منعقد کرتے رہے ہیں اور وہ یہ کام سنہ 1988 سے کرتے آ رہے ہیں جب مائیکل ڈُکاکس پارٹی کے صدارتی امیدوار تھے۔

انڈین امریکی ووٹروں کی تعداد کتنی ہے، اس حوالے سے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے اندازے کے مطابق یہ تعداد 16 سے 20 لاکھ کے درمیان ہے۔

ان ووٹروں کی اکثریت ان ریاستوں میں رہتی ہے جہاں معلوم ہی ہوتا ہے کہ کون سی جماعت جیتے گی تاہم مشی گن اور پینسلوینیا جیسی ریاستوں میں بھی انڈین نژاد امریکیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جہاں سنہ 2016 میں بھی کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا اور دونوں جماعتوں کے ووٹوں میں فرق بہت کم رہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ دونوں جماعتیں انڈین امریکیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔

گیکوارڈ کہتے ہیں کہ اب ہم انڈین امریکی، محض بینک سے رقم نکلوانے والے ’اے ٹی ایم نہیں رہے۔ ہمارے ووٹوں کی ایک اپنی حیثیت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈین امریکی برادری میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کشمیر پر مودی کے مؤقف کے بڑے حامی ہیں

اس انتخاب میں گیکوارڈ کو بھی یہ انفرادی ہدف ملا ہے کہ وہ ریاست فلوریڈا میں ریپبلکن پارٹی کے انڈین امریکی ووٹروں میں کم از کم دس فیصد کا اضافہ کریں گے جہاں دونوں جماعتوں میں سخت مقابلہ ہو گا۔

اگرچہ ریپبلکن پارٹی ایک عرصے سے انڈین امریکی برادری میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن اس حوالے سے انھیں پہلی مرتبہ کچھ کامیابی سنہ 2016 میں حاصل ہوئی تھی۔

اس وقت لوگوں کو لگا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بقول ان کے ’انتہا پسندانہ اسلامی دہشت پسندی‘ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو امریکہ میں مقیم ہندو برادری کی اکثریت کے خیالات سے ہم آہنگ ہے۔

اس کے علاوہ انڈین امریکی برادری میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کشمیر پر مودی کے مؤقف کے بڑے حامی ہیں۔

مسٹر کپور کا خیال ہے کہ جب بھی امریکہ میں شہری اور انسانی حقوق کا سوال اٹھے گا تو ڈیموکریٹ پارٹی ان کے خیالات کی ترجمانی کرے گی۔

اسی لیے جب بائیڈن اور ہیرس نے کشمیر کے حوالے سے انڈین حکومت کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا تو اسے انڈین امریکی برادری میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔

لیکن کپور کے بقول یہ کہنا بالکل درست نہیں ہو گا کہ انڈیا کے لیے بائیڈن کے مقابلے میں ٹرمپ بہتر ثابت ہوں گے۔

’ڈیموکریٹس جانتے ہیں کہ انڈین امریکیوں کے لیے کشمیر اتنا ہی اہم ہے جتنا یہودی امریکیوں کے لیے یروشلم۔‘