ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ: امریکی صدر کا مواخذہ تو ہو گیا لیکن کیا وہ اپنے آپ کو معاف بھی کر سکتے ہیں؟

امریکہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ٹرمپ پہلے صدر ہیں جن کا دو مرتبہ مواخذہ ہو گیا ہے

گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ مواخذہ ہو گیا تھا اور وہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں پہلے صدر بن گئے تھے جن کا دو بار مواخذہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس سب کے درمیان میڈیا میں آنے والی خبروں کے باعث یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اپنے دور کے اختتام سے قبل خود کو معاف کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کانگریس کی عمارت پر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے دھاوا بولنے پر ڈونلڈ ٹرمپ پر 'بغاوت پر اکسانے' کے الزامات لگائے گئے تھے جس کے بعد ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ پر صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے جھوٹے دعوؤں سے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام لگا کر ان کا مواخذہ کیا گیا۔

رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ کو اب ایوان بالا یعنی سینیٹ میں مقدمے کا سامنا ہے لیکن ایسا آئندہ بدھ سے پہلے ممکن نہیں جب وہ صدارت کا عہدہ چھوڑیں گے اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ٹرمپ اپنے آپ کو معافی دے سکتے ہیں

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی رفقا سے اس امکان پر بات کی ہے کہ وہ اپنی صدارت کے آخری دنوں میں اپنے آپ کو معافی دے دیں۔

صدر ٹرمپ پہلے ہی بہت سے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں نیویارک کی ریاستی حکام کی یہ تفتیش بھی شامل ہیں کہ کیا انھوں نے ٹیکس حکام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

کیا صدر اپنے آپ کو معاف کر سکتے ہیں؟

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آئین میں اس بارے میں درج چند الفاظ اور اس کے وسیع اطلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ آج تک کسی امریکی صدر نے ایسا نہیں کیا ہے۔

کچھ قانونی ماہرین ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس ضمن میں وہ محکمۂ انصاف کی طرف سے دی گئی اس رائے کو بنیاد بناتے ہیں جو امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن کے استعفیٰ دینے سے پہلے دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو معاف نہیں کر سکتے۔

یہ رائے قانون کے اس بنیادی اصول پر دی گئی تھی کہ کوئی بھی شخص اپنے ہی مقدمہ کا جج نہیں ہو سکتا۔ تاہم کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین اپنی ذات کو معافی دینے کے امکان کو رد نہیں کرتا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

مواخذے کی کارروائی

الزامات کو کانگریس میں پیش کیے جانے کا مطلب ہے مواخذہ جس کی بنیاد پر سینیٹ میں سماعت کی جاتی ہے۔ ایوان نمائندگان میں یہ ساری کارروائی سیاسی ہوتی ہے نہ کہ فوجداری۔

امریکہ کا آئین کہتا ہے کہ صدر کو اس کے عہدے سے علیحدہ کر دیا جائے گا، اس کے مواخذے اور جرائم ثابت ہونے پر جن میں بغاوت، رشوت ستانی، دوسرے بڑے جرائم یا غیر اخلاقی حرکات آتی ہیں۔

ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز رائے شماری کی گئی۔ ٹرمپ کی رپبلکن جماعت کے دس ارکان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ووٹ دیا اور مواخذے کے حق میں 232 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 197 ووٹ آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس سے قبل بھی صدر کا یوکرین کی مدد سے اپنے انتخاب کو یقینی بنانے کے الزام میں مواخذہ کیا گیا تھا۔ سینیٹ نے صدر کو اس الزام سے بری کر دیا تھا۔

اب امریکہ کی تاریخ میں وہ پہلے صدر بن گئے ہیں جن کا دو مرتبہ مواخذہ ہونے کے بعد ان پر لگائے گئے الزامات پر سینیٹ میں سماعت ہو گی۔

اب اس کے بعد کیا ہو گا؟

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان سینیٹ میں مطلوبہ تعداد حاصل کر پائیں گے جہاں ایوان کی کل نشستوں میں سے ان کے پاس صرف نصف ہیں۔

اگر ٹرمپ کو سینیٹ میں مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے تو قانون سازوں کو ایک اور قرار داد پر ووٹ دینا ہوں گے اور وہ صدر ٹرمپ کو تاحیات سیاست میں نااہل قرار دینے کے متعلق ہو گی۔

صدر ٹرمپ جو کہ سنہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دے چکے ہیں اس قرار داد کے منظور ہونے کے بعد اپنی پوری زندگی کسی عوامی عہدے کے لیے اہل نہیں رہیں گے اور کسی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ صدر ٹرمپ کے لیے یہ مواخذے کا سب سے سنگین نتیجہ ثابت ہو گا۔

صدر کو سینیٹ نے اگر مجرم ٹھہرا دیا تو پھر ان کو 'امریکہ میں کسی بھی 'اعلیٰ، امانتدارانہ اور منفعت بخش عہدے' کے لیے نااہل قرار دینے کی قرار داد صرف سادہ اکثریت سے منظور ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

صدر 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

رپبلکن جماعت میں جو لوگ چار سال بعد صدارتی انتخاب کے امیدوار بننے کے خواہش مند ہیں اور جو لوگ صدر ٹرمپ کو پارٹی میں دیکھنا نہیں چاہتے ان کے لیے اپنے راستے کے ایک پتھر کو راہ سے ہٹانے کے لیے یہ ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن ایسا کچھ بھی ٹرمپ کے صدر کے عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ممکن نہیں ہے۔

سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے رہنما میچ میکونیل کہہ چکے ہیں کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے سے پہلے ٹرمپ کے خلاف منصفانہ اور غیر جانبدارنہ سماعت کے مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اس لیے ضروری ہے کہ تمام تر توجہ پرامن انتقال اقتدار پر دی جائے۔

اس امکان پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کو انھیں ان تمام مراعات سے بھی محروم کر دیا جائے جو 1958 کے سابق صدور کے قانون کے تحت کسی بھی سابق صدر کو دی جاتی ہیں جن میں پینشن، صحت کی انشورنس اور ٹیکس دھندگان کے پیسوں سے تاحیات ذاتی سیکیورٹی۔

اگر صدر ٹرمپ کو ان کے صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد مجرم قرار دیا جاتا ہے تو ان کو یہ تمام مراعات حاصل کرنے کا استحقاق ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک سینیئر رکن کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کی جماعت مواخذے میں لگائے گئے الزامات سینیٹ میں سماعت کے لیے اس وقت تک نہ بھیجیں جب تک جو بائیڈن کے صدر بننے کے سو دن مکمل نہیں ہو جاتے۔

اس صورت میں صدر بائیڈن کو اپنی کابینہ کے ارکان کی سینیٹ سے توثیق اور کورونا وائرس جیسے اہم مسائل پر اپنی پالیسی واضح کرنے اور اس پر عملدرآمد شروع کرنے کا موقع مل جائے گا۔ دوسری صورت میں سینیٹ کو تمام اہم امور چھوڑ کر مواخذے کی سماعت کرنا ہو گی۔

صدر کا دوسری مرتبہ مواخذہ ہونے کے بعد اب تمام نظریں سینیٹ پر لگی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اس بات پر تیار ہو گی کہ صدر کو ہٹایا جائے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ 17 رپبلکن ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کم از کم 20 رپبلکن ارکان نے صدر کو مجرم ٹھہرانے کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے لیکن سینیٹ میں یہ کارروائی کب ہو گی اس بارے میں ابھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔