امریکہ کے نئے صدر بائیڈن کے دور میں انڈین نژاد امریکی چھائے رہ سکتے ہیں

  • زبیر احمد
  • نمائندہ بی بی سی، نئی دہلی
مودی ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مودی اور ٹرمپ کی گہری دوستی سے ایسا لگتا تھا کہ انڈین-امریکی کمیونٹی کا روایتی جھکاؤ ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹ کر رپبلکن پارٹی کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن ایسا نھیں ہوا

گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیوسٹن میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک ریلی نکالی تھی جس میں تقریباً 50 ہزار ہند-امریکیوں نے شرکت کی تھی۔

منتظمین نے اس پروگرام کا نام 'ہاؤڈی مودی' رکھا تھا۔ اس ریلی میں وزیر اعظم مودی نے ایسی پیش گوئی کی تھی جیسے کہ نومبر 2020 میں ہونے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ جیت رہے ہیں۔ فروری 2020 میں مودی نے انڈین شہر احمد آباد میں ہیوسٹن سے بھی زیادہ بڑی ریلی میں ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔

مودی اور ٹرمپ کی گہری دوستی سے ایسا لگتا تھا کہ انڈین-امریکی کمیونٹی کا روایتی جھکاؤ ڈیموکریٹک پارٹی سے ہٹ کر رپبلکن پارٹی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انتخابات کے قریب ہونے والے ایک سروے کے مطابق رپبلکن پارٹی کی جانب یہ میلان مکمل حمایت میں تبدیل نہیں ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیے

بہرحال انتخابات کے بعد کرائے گئے ایک سروے سے یہ ظاہر ہوا کہ رپبلکن پارٹی کو ہند نژاد ووٹروں کے نسبتاً کچھ زیادہ ووٹ ملے، لیکن 72 فیصد انڈین نژاد امریکیوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن اور نائب صدر کی امیدوار کملا ہیرس کو ووٹ دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

'ہاؤڈی مودی' ریلی کام نہیں آئی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

'ہا‎‎ؤڈی مودی' ریلی میں شرکت کرنے والوں میں ایم آر رنگاسوامی بھی تھے جو 'انڈیا ڈیاسپورا' نامی ادارے کے بانی ہیں۔ انھوں نے نیو یارک ٹائمز اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ریلی میں شرکت کرنے والوں میں اکثریت پہلی نسل کے انڈین امریکیوں کی تھی جنھوں نے سنہ 2016 میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔

انڈین نژاد امریکی شہری ملک کی 32 کروڑ آبادی میں 1.5 فیصد سے بھی کم ہیں لیکن وہ امریکہ کی کامیاب برادریوں میں شامل ہیں۔ 2015 میں ان کی اوسط آمدنی ایک لاکھ ڈالر فی کس تھی جو کہ قومی اوسط کے دگنے سے ذرا ہی کم ہے۔

یہ برادری رپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی دونوں کو کھل کر فنڈز دیتی ہے، لہذا قائدین ان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ تقریباً 20 سے 25 سال قبل اس برادری نے سلیکون ویلی کے عروج میں اپنے کردار کے لیے شہرت حاصل کی تھی۔ اس سے قبل مقامی امریکیوں نے تعلیم، محنت اور کاروبار میں ترقی کے معاملے میں اس کمیونٹی کی اہمیت کا اعتراف کیا تھا۔

حالیہ انتخاب میں بھی انڈین-امریکن ووٹروں نے ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس کی ایک بڑی وجہ کملا ہیرس تھیں، جن کی والدہ کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے ہے اور ان کے والد کا تعلق کیریبین ملک جمیکا سے ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جو بائیڈن اور کملا ہیرس ٹیم نے اپنی انتظامیہ کے لیے انڈین نژاد 20 امریکی ممبروں کا اعلان کیا یا ان کی تقرری کی۔

امریکی انتخابی نظام کے مطابق نامزد امیدواروں کے ناموں کو سینیٹ سے منظوری ملتی ہے۔ اس ٹیم میں 13 خواتین ہیں اور اس میں ڈاکٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو اوباما انتظامیہ میں کام کرنے کا تجربہ ہے اور تقریباً سبھی لبرل نظریہ کے حامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیرا ٹنڈن: ڈائریکٹر برائے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ

نیرا ٹنڈن نائب صدر کملا ہیرس کے بعد سب سے اہم انڈین نژاد شخصیت ہوں گی۔ جو بائیڈن نے سینٹر فار امریکن پروگریس نامی ادارے کی صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نیرا ٹنڈن کو آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اگر سینیٹ نے ان کی تقرری کی تصدیق کردی تو وہ اس عہدے کی سربراہی کرنے والی سیاہ فام نسل کی پہلی خاتون ہوں گی۔

آفس آف منیجمنٹ اینڈ بجٹ کی ڈائریکٹر کی حیثیت سے وہ انتظامیہ کے اخراجات اور پالیسی منصوبوں کی ذمہ دار ہوں گی۔ نیرا ٹنڈن کے والدین کا انڈیا سے رشتہ تھا لیکن ان کی طلاق کے بعد نیرا کو اس کی والدہ نے پالا اور ان کی دیکھ بھال کی۔

غربت و افلاس کے ایام کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے حال ہی میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ جب ان کے والدین کے درمیان طلاق ہوئی تو وہ کم عمر تھیں اور ان کی والدہ کا انحصار سرکاری امدادی پروگرام پر تھا۔ 'اب ہمیں ایسے ہی سرکاری پروگراموں کی امداد اور یہ یقینی بنانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ ہم جیسے خاندان فخر کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔'

اس عہدے کو حاصل کرنے کے لیے انھیں سینیٹ کی منظوری کی ضرورت ہے جو کہ ایک مشکل امر ہوسکتا ہے کیونکہ انھوں نے رپبلکن پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کے خلاف بہت ٹویٹس کی ہیں جو انھیں ناپسند ہیں۔ انھوں نے نامزدگی کے بعد سے اس طرح کے ایک ہزار سے زیادہ ٹویٹس کو حذف کردیا ہے لیکن رپبلکن پارٹی ان ٹویٹس کو فراموش نہیں کر سکی ہے۔

پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سینیٹر لنڈسے گراہم نے ان کے نام کے اعلان کے بعد انھیں ایک 'عجیب اور ذہنی طور پر غیر متوازن' شخص قرار دیا۔ پارٹی کے ایک اور سینیٹر نے انھیں 'ریڈیو ایکٹو' کہا جس کا مطلب ہے کہ وہ ایسی تفرقہ انگیز شخصیت ہیں کہ ان سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر ویوک مورتی: امریکی سرجن جنرل

کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنا جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہوگی اور ڈاکٹر ویوک مورتی کی سربراہی میں کچھ ہند نژاد ڈاکٹر اس کوشش کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ ان کا کردار بہت اہم ہوگا۔

انھیں صدر کے کووڈ 19 ٹاسک فورس کا شریک چیئرمین اور امریکہ کا سرجن جنرل بھی قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے پہلے بھی سنہ 2014 سے 2017 تک اس عہدے پر کام کیا ہے۔

وہ سنہ 1977 میں برطانیہ میں یارکشائر کے شہر ہڈرز فیلڈ میں پیدا ہوئے لیکن وہ تین سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ میامی چلے آئے۔ ان کے والدین جو خود بھی ڈاکٹر تھے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک سے آئے تھے۔

کووڈ 19 ٹاسک فورس میں ڈاکٹر مورتی کا ساتھ شریک سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ کیسلر اور ڈاکٹر مارسیلہ نونیز سمتھ دیں گے۔ ان تینوں کو ڈاکٹروں کی ایک ٹیم سپورٹ کرے گی جس میں ہند نژاد اتل گاونڈے کا نام اہم ہے۔

وہ نہ صرف ایک سرجن اور پروفیسر ہیں بلکہ سنہ 1998 سے نیو یارک میگزین کے لیے بھی کالم لکھ رہے ہیں۔ اس ٹاسک فورس میں انڈین نژاد سیلین گاؤنڈر کا نام بھی شامل ہے۔

اتل گاوندے کے والدین بھی ڈاکٹر ہیں جن کا تعلق انڈیا کی ریاست مہاراشٹر سے ہے۔ انھوں نے ہارورڈ میڈیکل سکول میں اپنی میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بطور رھوڈز سکالر سیاست اور فلسفہ میں بھی ڈگری حاصل کی۔ وہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ہیلتھ ٹاسک فورس کا اہم حصہ تھے۔

سیلین گاؤنڈر کے نام پر تمل ناڈو کے رہنماؤں میں جوش و خروش پایا گیا ہے اور بہت سے لوگوں نے ٹویٹ کرکے انھیں مبارکباد دی ہے۔ کملا ہیرس کی طرح ان کا آدھا کنبہ تمل ناڈو سے ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر راج نٹراجن گاؤنڈر تمل ناڈو کے ضلع ایروڈ کے ایک گاؤں سے آتے ہیں جبکہ ان کی والدہ فرانسیسی نژاد ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عذرا ضیا: وزارت خارجہ

عذرا ضیا ہند نژاد واحد مسلمان امریکی ہیں جنھیں جو بائیڈن نے وزارت خارجہ کے اہم کردار کے لیے منتخب کیا ہے۔ انھیں وزارت خارجہ میں سول پروٹیکشن، ڈیموکریسی اور ہیومن رائٹس کی سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔

جب انھوں نے سنہ 2018 میں صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں سے ناراض ہو کر استعفیٰ دیا تو ان کے دوستوں نے یہ خیال کر لیا کہ ان کا کیریئر اب ختم ہوچکا ہے، لیکن جو بائیڈن نے انھیں ایک بار پھر خارجہ پالیسیوں میں شامل ہونے کی ذمہ داری دے دی ہے۔

اگر سینیٹ نے ان کے نام کو منظور کرلیا تو وہ انسانی حقوق سے متعلق انتظامیہ کی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اپنے نام کے اعلان کے بعد انھوں نے ٹویٹ کیا کہ امریکہ تنوع اور جمہوری نظریات کے لیے جانا جاتا ہے اور ان نظریات کی حفاظت ان کی کوشش ہوگی۔

وہ اپنے آبائی ملک انڈیا سمیت متعدد ممالک میں امریکی سفیر اور سفارت کار کی حیثیت سے کام کر چکی ہیں۔ ان کا خاندان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے امریکہ پہنچا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ونیتا گپتا: معاون اٹارنی جنرل

45 سالہ ونیتا گپتا شہری حقوق کے ایک مشہور کارکن کے طور پر ملک بھر میں مشہور ہیں۔ انھوں نے اوباما انتظامیہ میں محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

جو بائیڈن نے ونیتا گپتا کے بارے میں کہا: 'وہ امریکہ میں شہری حقوق کی سب سے قابل احترام وکیل ہیں۔'

وینیتا دوسری نسل کی ہند نژاد امریکی ہیں اور خود نسلی امتیاز کا شکار ہونے کے بعد اس کے خلاف لڑنے میں پیش پیش رہی ہیں۔ عام طور پر انڈین نسل کی دوسری اور تیسری نسل کے امریکیوں کا انڈیا کے ساتھ زیادہ رشتہ نہیں ہے لیکن ونیتا اب بھی اپنے والدین کے ملک سے وابستہ ہیں۔

ونیتا گپتا سے نیو یارک ٹائمز نے ایک خاص واقعے کے بارے میں بات کی جس نے انھیں سماجی انصاف کی تحریک دی۔

وہ لندن میں مک ڈونلڈ کی ایک دکان کے باہر اپنے پورے کنبے کے ساتھ کھانا کھا رہی تھیں۔ اسی وقت ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھے کچھ لوگوں نے کہا 'کالو اپنے ملک واپس چلے جاؤ' ونیتا نے کہا: 'یہ ایک بہت پریشان کن واقعہ تھا جس نے مجھ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔'

بائیڈن انتظامیہ میں 20 ہند نژاد افراد میں کئی اور نام بھی ہیں جن مین ویدانت پٹیل کا بھی نام لیا جا رہا ہے جنھیں وائٹ ہاؤس کا ایسوسی ایٹ پریس سکریٹری کہا گیا ہے۔

سینیٹ کو ان کے نام کی تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بائیڈن کی انتخابی مہم کے ایک ٹیم ممبر ہیں اور ان دنوں ان کے ایک ترجمان کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔