بوئنگ 777: امریکہ میں انجن فیل ہونے کے واقعے کے بعد یونائیٹڈ ایئرلائنز نے طیارے گراؤنڈ کر دیے

بوئنگ 777، یونائیٹڈ ایئر لائنز

،تصویر کا ذریعہEPA/Hayden Smith

امریکی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز نے کہا ہے کہ وہ اپنے 24 بوئنگ 777 طیاروں کو گراؤنڈ کر رہے ہیں۔ سنیچر کو پرواز کے دوران ان کے ایک طیارے کا انجن فیل ہو گیا تھا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

اس طیارے میں 231 مسافر اور عملے کے 10 افراد موجود تھے۔ طیارے کو ہنگامی صورتحال میں ڈینور ایئرپورٹ پر واپس اتار دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

طیارے سے ٹوٹ کر الگ ہونے والے پرزے قریب ایک رہائشی علاقے سے برآمد ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد جاپان نے اس انجن (پریٹ اینڈ وٹنی 4000) کے تمام بوئنگ 777 طیاروں کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بوئنگ نے جاپان کی اس تجویز کی حمایت میں کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہے اور تب تک تمام بوئنگ 777 طیارے جن کی ساخت انھی انجنز سے کی گئی ہے، کی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

بوئنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 69 بوئنگ 777 طیارے موجود ہیں جن میں یہ انجن نصب ہے۔

،تصویر کا ذریعہChad Schnell via Storyful

امریکہ کی فیڈرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (ایف اے اے) کے مطابق یونائیٹڈ وہ واحد کمپنی ہے جو یہ طیارے استعمال کر رہی ہے۔ دیگر طیارے جاپان اور جنوبی کوریا میں استعمال ہو رہے ہیں۔

پرواز کے دوران کیا ہوا؟

ایف اے اے کا کہنا ہے کہ یونائیٹڈ کی پرواز 328 کو ہونو لولو جانا تھا۔ لیکن اچانک اس کا دائیاں انجن فیل ہو گیا۔

ادارے نے واقعے کے بعد ان بوئنگ 777 طیاروں کا اضافی جائزہ لینے کا حکم دیا ہے جن میں پریٹ اینڈ وٹنی 4000 نامی مخصوص انجن نصب ہے۔

ایف اے اے کے اہلکار سٹیو ڈکسن کا کہنا ہے کہ ’ہم نے گذشتہ روز کے واقعے کے بعد تمام حفاظتی معلومات کا جائزہ لیا ہے۔‘

’ابتدائی معلومات کے مطابق یہ انجن ماڈل صرف بوئنگ 777 طیاروں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں پنکھوں کے بلیڈ اندر سے خالی ہوتے ہیں اور ان کا جلد جائزہ لینا ضروری ہے۔‘

ایف اے اے نے نمائندے بوئنگ اور یہ انجن بنانے والی کمپنی سے ملاقات کریں گے۔

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی ابتدائی تحقیق کے مطابق زیادہ نقصان دائیں انجن کو ہوا۔ اس کے پنکھوں کے دو بلیڈ ٹوٹ گئے اور دوسرے بلیڈز اس سے متاثر ہوئے۔ طیارے کے مرکزی حصے کو صرف معمولی نقصان پہنچا۔

’پرواز میں دھماکہ، دھواں اور جھٹکے‘

اس پرواز میں موجود مسافروں نے کہا ہے کہ ٹیک آف یعنی اُڑان کے وقت ایک ’بڑا دھماکہ‘ سنا گیا تھا۔ ڈیوڈ ڈلوشیا کہتے ہیں کہ ’پرواز میں زور دار جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ہم اونچائی پر نہیں پہنچ پا رہے تھے اور نیچے آنا شروع ہو گئے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے اور میری اہلیہ نے اپنے پرس جیب میں رکھ لیے تھے کہ اگر ہم نیچے گِرتے ہیں تو ہماری شناخت ہو سکے۔‘

مسافر برینڈا ڈان کہتی ہیں کہ ’ایک ’بوم‘ کی آواز آئی تھی۔ ’آپ اسے صاف سُن سکتے تھے۔ ہم (طیارے میں) ہلنا شروع ہو گئے تھے۔ میں اس انجن کے قریب تھی اور میں نے اس میں سے دھواں نکلتے دیکھا۔‘

’مجھے پتا چل گیا تھا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔۔۔ اس کے کچھ پرزے ہماری طرف نکل کر آ رہے تھے۔ میں نے خود سے کہا کہ مجھے نہیں جاننا کہ یہ معاملہ کتنا سنگین ہے، بس میری دعا ہے کہ ہم باحفاظت نیچے اتر جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBroomfield PD

،تصویر کا کیپشن

طیارے سے گِرنے والے پرزے

بروم فیلڈ ٹاؤن کی پولیس نے اس واقعے کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں طیارے کے پرزے ایک گھر کے باہر باغیچے میں پڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ پرزے ایک فٹبال فیلڈ میں بھی گِرے۔ تاہم طیارے سے گِرنے والے پرزوں سے کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

جاپان میں اس انجن کے تمام بوئنگ 777 کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ یہ طیارے اب اگلے نوٹس تک ایئر سپیس میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

حکومت نے ایئر لائنز کو یہ طیارے استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے۔

گذشتہ سال جے اے ایل کی ایک پرواز کو بائیں انجن میں خرابی کے باعث ایئر پورٹ پر واپس اتار دیا گیا تھا۔ یہ طیارے یونائیٹڈ ایئر لائنز کے طیارے جتنا 26 سال پرانا تھا جسے سنیچر کو یہ واقعہ پیش آیا۔

سنہ 2018 میں ہونو لولو روانہ ہونے والے یونائیٹڈ ایئر لائنز کے طیارے کا دائیں جانب موجود انجن خراب ہوگیا تھا۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا تھا کہ پنکھے میں خرابی آئی تھی۔