برطانیہ میں حادثاتی طور پر قرون وسطیٰ کی ’خفیہ‘ سرنگ کی دریافت

سرنگ

،تصویر کا ذریعہWESTERN POWER DISTRIBUTION

جنوبی ویلز میں قرونِ وسطیٰ کا ایک ’خفیہ‘ سرنگ کا نظام دریافت ہوا ہے۔ یہ دریافت ایک الیکٹریکل کمپنی کی ٹیم نے اس وقت کی جب وہ وائے ویلی، مونمتھ شائر کے علاقے ٹنٹرن میں بجلی کے ایک کھمبے کو منتقل کر رہے تھے۔

ویسٹرن پاور ڈسٹریبیوشن نامی اس کمپنی نے کہا ہے کہ اس زیر زمین سرنگ کا تعلق بارہویں صدی سے ہے جو کسی بھی آرڈیننس سروے کے نقشے پر دکھائی نہیں دیتی۔

ویلز میں ماحولیات، تاریخی اور ثقافتی ورثے کے ادارے کاڈ سے مشاورت کے بعد ویسٹرن پاور کمپنی نے آثار قدیمہ کی تفتیش کے لیے یہاں جاری اپنا تمام کام روک دیا ہے۔

سرنگ کی دریافت کے وقت یہ ٹیم اپنے ایک کسٹمر کی پراپرٹی پر کھدائی کا کام کر رہی تھی، جو ویلز اور انگلینڈ کے درمیان سرحد کے قریب ’قدرتی طور پر انتہائی خوبصورت علاقے‘ میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہWESTERN POWER DISTRIBUTION

ٹیم کی رہنمائی کرنے والے ویسٹرن پاور کے ٹیکنیشن ایلین گور نے کہا کہ ’ہماری کسی بھی ڈرائنگ یا ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں دکھایا گیا جو اس بات کی نشاندہی کرے کہ اس سائٹ کے بارے میں کوئی غیر معمولی بات ہے۔‘

’کھدائی کا کام شروع ہونے کے فوراً بعد ہماری ٹیم نے غیر معمولی دریافت کی جسے انھوں نے شروع میں ایک غار سمجھا تھا۔‘

پرجوش اور متاثر کن

مسٹر گور نے کہا کہ کام فوری طور پر روک دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا: ’میں دیگر کھدائیوں میں بھی شامل رہا ہوں جہاں ہم نے ایسے پرانے کنویں اور تہ خانوں کو دریافت کیا، جو کسی منصوبے پر دکھائی نہیں دیتے لیکن اس جیسا دلچسپ اور متاثر کن کچھ نہیں۔‘

چار فٹ اونچی یہ سرنگ اینجیڈی بروک کے متوازی ایک فٹ پاتھ کے نیچے چھپی ہوئی تھی اور وادی کے ساتھ ساتھ بروک کے راستے کی جانب چلتی دکھائی دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہWESTERN POWER DISTRIBUTION

مسٹر گور نے یہ بھی کہا کہ کاڈ کے ایک ماہر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس دریافت سے ’بہت متاثر‘ اور ’مسحور‘ ہوئے ہیں۔

ویسٹرن پاور کا کہنا تھا کہ سرنگوں کا جال اٹھارہویں صدی سے شروع ہونے والے کسی نقشے پر ظاہر نہیں ہوا اور نہ ہی مقامی باشندوں یا حکام میں سے کسی کو اس بارے میں معلومات ہیں۔

مسٹر گور نے کہا کہ تحقیقات کا نتیجہ اخذ ہونے میں ’برسوں لگ سکتے ہیں۔‘