برطانیہ کی 2030 تک کی خارجہ پالیسی رپورٹ جاری: ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ، توجہ بحرِ ہند اور بحر الکاہل کی طرف

HMS Queen Elizabeth

،تصویر کا ذریعہPA Media

برطانیہ اپنی خارجہ پالیسی پر ایک سال طویل جائزہ لینے کے بعد اپنی توجہ ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی طرف بڑھانے کا عزم کرنے جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے جوہری ہتھاروں کی کمی کی پالیسی تبدیل کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

برطانیہ کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کہا گیا کہ چین کی طرف سے ’سسٹیمک چیلنج‘ پر بھی زیادہ کام کیا جائے گا۔

اس سے پہلے سنہ 2010 کے ایک منصوبے کے تحت جوہری ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کم کر کے 180 کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب کہا گیا ہے کہ یہ حد 260 ہو گی۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ بحرِ ہند اور بحر الکاہل کے خطے میں سٹریٹجک اتحاد کو فروغ دے گا اور اسے 'دنیا کے جغرافیائی-سیاسی مرکز میں تیزی سے بنتا ہوا' مرکزی خطہ قرار دے رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ملک کے دارالعوام میں نئی خارجہ پالیسی کے خدو خال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بریگزٹ کے بعد ملک کو مخالف اقدار رکھنے والے ممالک کا مقابلہ کرنے کا فن از سر نو سیکھنا ہو گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کا دفاعی اتحاد اور یورپ میں امن اور سکیورٹی کا قیام برطانیہ کی اہم ترجیحات میں شامل رہے گا۔

مزید پڑھیے:

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ سٹریٹیجی برطانیہ کو 'بری طرح کمزور' ملک بنا دے گی۔

یہ رپورٹ اس وقت پیش کی گئی ہے جب برطانوی حکومت پر حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے ہانگ کانگ، اوئعور مسلمانوں اور انسانی و جمہوری حقوق جیسے معاملات کے بارے میں چین کے خلاف ایک سخت موقف اختیار کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

برطانیہ کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ تازہ ترین نظر ثانی رپورٹ ایک سال میں تیار کی گئی ہے اور 100 سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ میں برطانیہ کی سنہ 2030 تک کی ترجیحات طے کی گئی ہیں۔

اس سے قبل ملک ے وزیر خارجہ ڈومینِک راب نے کہا تھا کہ برطانیہ کے چین کے ساتھ تعلقات 'مثبت' ہیں جو کہ تجارت اور سرمایہ کاری سے بڑھ کر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ تعاون کیے بغیر آب و ہوا کی تبدیلی پر 'ڈائل شفٹ' کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

بی بی سی ریڈیو 4 کے آج کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے صنعتی راز اور ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت سے متعلق انتظام کرنے میں بھی 'مشکل مسائل' پیدا ہوں گے۔

لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ 'اس سے (یعنی چین کی مخالفت سے) کوئی فائدہ نہیں ہو گا، مجھے نہیں لگتا کہ چین کے ساتھ پرانی طرز کی سرد جنگ کی ذہنیت میں لوٹنا بہتر ہوگا۔'

جب ان سے اصرار کیا گیا کہ آیا برطانیہ کو چین کے بارے میں اپنا مؤقف سخت کرنا چاہئے جیسا کہ چین مخالف کہلانے والے لوگ کو کا مطالبہ ہے تو ڈومینک راب نے جواب دیا: 'چین نے اب یہاں رہنا ہے۔'

مسٹر راب نے یہ بھی کہا کہ ان کی مربوط جائزے والی پالیسی کے حصے کے طور پر مزید جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہوسکتی ہے کیونکہ وہ عالمی خطرات کے خلاف 'حتمی انشورنس پالیسی' ہیں۔

سفارتی نامہ نگار جیمز لینڈال کا تجزیہ

کئی برسوں سے دنیا میں برطانیہ کے مقام کی حیثیت کا تعین یورپی یونین کی رکنیت اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات سے کیا جاتا رہا ہے۔

یہ دونوں کے مابین اکثر ایک پل کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔

لیکن بریگزٹ نے یہ سب تبدیل کر دیا ہے۔ لہذا اب حکومت برطانیہ اس بات کی تلاش میں ہے کہ وہ ایک نیا عالمی کردار ادا کرے۔

خارجہ پالیسی کا مربوط جائزہ کہلانے والے نظر ثانی کی رپورٹ میں اب زیادہ توجہ بحرِ ہند اور بحر الکاہل کے خطوں کی جانب دی گئی ہے۔

حکومت ایک ایسے خطے میں برطانیہ کی تجارت، سلامتی اور سفارت کاری کو بڑھانا چاہتی ہے جہاں اقتصادی ترقی کی شرح نمو بہت زیادہ ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ نئی شراکت داریایں بھی قائم کرنا چاہتا ہے کیونکہ برطانیہ ایشیاء کے سب سے بڑی طاقت، یعنی چین کے ساتھ، اپنے تعلقات میں بہتری چاہتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس نئے 'انڈو-پیسیفک جھکاؤ' کا اصل میں عملی طور پر کیا مطلب ہوگا اور کیا یہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر خاطر خواہ توجہ نہ دینے کی قیمت پر کیا جائے گا۔

خارجہ اور دفاعی پالیسی کے بارے میں اس مربوط پالیسی کا طویل عرصے سےانتظار تھا اور اب یہ امریکی ایونِ صدر (وائیٹ ہاوس) کی طرز کا 'سیچوایشن روم' برطانیہ کے کیبینیٹ آفس میں بھی تشکیل دیے جانے کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔

اس میں انسداد دہشت گردی کے ایک نئے آپریشن سنٹر کے منصوبے بھی شامل ہوں گے جس کا مقصد دہشت گردی کے واقعات کے ہونے کی صورت میں ان کا جواب دینے کی رفتار کو بہتر بنانا ہے۔

برطانوی انٹیلیجنس کے ادارے ایم آئی-6 کے سابق سربراہ، سر الیکس ینگر نے آج بتایا کہ مغربی ممالک اور چین کے درمیان کورونا وائرس کی وبا کے دوران رابطوں کا سلسلہ اہم چینلز سے بند ہوچکا ہے اور اب ان رابطوں کو ایک نئے انداز سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ انھوں نے کہا کہ 'نئی سرد جنگ کا اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،' تاہم سر ایلکس نے یہ تسلیم کیا کہ چین اور روس کی حکومتیں دونوں ہی برطانیہ کے لیے 'نسل در نسل' خطرات پیش کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشن

نئی پالیسی کے منصوبوں میں وائیٹ ہاؤس کی طرز پر برطانوی کیبنیٹ آفس میں ایک سیچوایشن روم بنانا بھی شامل ہے۔

اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ یورو-بحر اوقیانوس کے دائرے میں بھی نیٹو دفاعی اور سلامتی کی بنیاد ہے، وہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے تاکہ 'ایک اور آزاد بین الاقوامی نظام تشکیل دیا جاسکے جس میں جمہوریت پروان چڑھ سکے۔'

بی بی سی کے سیکیورٹی کے امور کے نامہ نگار گورڈن کوریرا نے کہا کہ اس جائزے کا مقصد جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا ہوگا، آرٹیفیشل انٹیلیجینس جیسے شعبوں میں ہائی ٹیک کی سرمایہ کاری سے فوج کو جدید بنانے، برطانیہ کی طاقت کو برقرار رکھنے اور گھریلو معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

لیکن انہوں نے کہا کہ ایک ٹیکنالوجیکل 'سپر پاور' بننا اور چین سے مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

لیبر پارٹی کی شیڈو خارجہ سکریٹری لیزا نندی نے کہا کہ حکومت کے الفاظ اور اقدامات کے مابین 'بہت زیادہ فاصلہ' ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومتی پالیسی نے 'ہمارے اپنے گھر کے پچھواڑے میں اپنے دفاع کو نظرانداز کیا ہے۔'

'بلیک ہول'

نظرِ ثانی کے جائزے کی اس رپورٹ کا اجراء بورس جانسن کی جانب سے دفاعی اخراجات میں 16.5 ارب پاؤنڈز کے اضافے کے اعلان کے مہینوں بعد کیا گیا ہے، یہ اخراجات اگلے چار برسوں تک جاری رہیں گے۔

اُس وقت، جانسن نے کہا تھا کہ اس فنڈنگ سے آرٹیفیشل انٹیلیجینس سے وابستہ ایک ایجنسی اور سنہ 2022 تک برطانیہ کا پہلا راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی 'اسپیس کمانڈ' کے ساتھ ساتھ انگلینڈ کے شمال میں سائبر راہداری بنانا بھی شامل ہوگا جس میں نئے نیشنل سائبر فورس کے لئے ہیڈ کوارٹر کی تعمیر بھی شامل ہوں گی۔

لیکن دارالعوام کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے متنبہ کیا ہے کہ محکمہ کی مالی اعانت میں 'بلیک ہول' ملک کی اضافی رقوم کو نگل سکتے ہیں، جبکہ وزارت دفاع کو اس کے موجودہ ترقیاتی پروگراموں کو 17 ارب پاؤنڈز کی پہلے ہی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ مزید 20 ارب پاؤنڈز جس کی فوج سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی اسے بھی موجودہ بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور اراکین پارلیمنٹ نے بھی وزارت دفاع پر مستقبل میں بچت کرنے کے دعووں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا کیا۔

اس کمیٹی کی سربراہ، میگ ہِلئیر نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ دفاع کے لئے اضافی رقم 'مسلسل کمزور' ہوتے ہوئے بجٹ میں بڑھتے ہوئے دیگر اخراجات کی وجہ سے کم نہیں ہونے چاہیے کیونکہ یہ کمی 'برسوں سے ہمارے قومی دفاع اور سلامتی کو گھن کی طرح کھا رہی ہے۔'

وزارت دفاع نے کہا کہ اب دفاع کے لیے مختص رقوم کا اضافہ 'مالی استحکام کو بحال کریں گی۔'