ٹوئٹر: کیا کسی کی ٹویٹ 29 لاکھ ڈالر میں خریدنا عقل مندی ہے؟

  • جسٹن ہارپر
  • بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہSOPA Images

ٹوئٹر کے بانی جیک ڈورسی کی پہلی ٹویٹ کو 2.9 ملین ڈالر میں خریدنے والے شخص کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی سرمایہ کاری تھی۔

ملائیشیا میں مقیم سینا ایستاوی کہتے ہیں کہ ‘ڈیجیٹل اثاثے کی شکل میں یہ انسانی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ کون جانتا ہے کہ 50 سال بعد انسانی تاریخ کی پہلی ٹوئیٹ کی قیمت کیا ہو۔‘

انھوں نے اپنی خریدی ہوئی ٹویٹ کا موازنہ لیو نارڈو ڈا ونچی کی معروف پینٹگ مونا لیزا سے کیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹوئٹر کے بانی کی اپنے ہی پلیٹ فارم پر پہلی ٹوئیٹ ایک انتہائی قیمتی ڈیجیٹل اثاثہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جیک ڈورسی نے اپنی پہلی ٹویٹ میں صرف یہ لکھا تھا کہ ’میں اپنا ٹوئٹر سیٹ اپ کر رہا ہوں‘ اور یہ 21 مارچ 2006 کو شائع کی گئی۔

حال ہی میں اسے جیک ڈورسی نے اپنی فلاحی تنظیم ’گیو ڈائریکٹلی افریقہ ریسپانس‘ کے لیے نیلام کیا تھا۔

سینا ایستاوی خود ایک کرپٹو کرنسی کمپنی بریج اوریکل کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور انھوں نے یہ ٹوئٹ ایتھر (جو کہ بٹ کوائن کے مقابلے کی ایک اور کرپٹوکرنسی ہے) کے ذریعے خریدی۔

یہ ٹویٹ ایک این ایف ٹی (نان فنجیبل ٹوکن) کے طور پر بیچی گئی جو کہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کون کسی فوٹوز، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن میڈیا کا مالک ہے۔

این ایف ٹیز اس سال انتہائی مقبول ہو گئے ہیں اور انتہائی مہنگا ڈیجیٹل آرٹ ورک اس کے ذریعے بیچا جا رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 29 سالہ سینا ایستاوی کہتے ہیں کہ ‘میرے خیال میں یہ ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے اور ابھی تو صرف یہ آغاز ہے۔ تمام قسم کا ڈیجیٹل آرٹ، میوزک، فوٹوز، ٹوئٹس، بلاگ پوسٹس سب کچھ این ایف ٹی کی شکل میں خریدا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان کے سرمایہ کار اور ساتھ کام کرنے والے اس سرمایہ کاری پر انتہائی خوش ہیں کیوںکہ انھیں معلوم ہے کہ اس مخصوص این ایف ٹی کی مستقبل میں قیمت کیا ہو سکتی ہے اور اس کا سوشل میڈیا پر اثر کیا ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBridge Oracle

،تصویر کا کیپشن

سینا ایستاوی خود ایک کرپٹو کرنسی کمپنی بریج اوریکل کے چیف ایگزیکٹو ہیں

قیمت زیادہ نہیں؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اگرچہ اس ٹویٹ کی قیمت نے کچھ لوگوں کو حیران کیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک شاطر سرمایہ کاری ہو۔

ایک سوشل میڈیا ماہر کیتھی ہیکل کا کہنا ہے کہ ‘اس کو بیان کرنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں اس پہلی ٹویٹ کو ایک نایاب کتاب کی طرح دیکھا جائے گا۔‘

‘ٹوئٹر نے مواصلات کا ایک نیا دور شروع کیا اور اس ٹوئیٹ نے اسے لانچ کیا تھا۔‘

جیک ڈورسی کی ٹویٹ کو ویلیوایبلز نامی ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے بیچا گیا جو کہ ایک امریکی کمپنی سینٹ کی ملکیت ہے۔

سینٹ کے شریک بانی کیمرون ہیجازی کا کہنا ہے کہ یہ اب تک اس پلیٹ فارم پر بکنے والا سب سے مہنگا اثاثہ تھا۔

‘میں ہکا بکا رہ گیا تھا مگر حیران نہیں تھا۔ اس اثاثے کی قیمت سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور ہمیں خوشی ہے کہ یہ پیسے ایک اچھے کام کے لیے استعمال ہوں گے۔‘

این ایف ٹی کی مارکیٹ اس وقت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے اور یہ وہی بلاک چین ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے جس پر کرپٹو کرنسیاں جیسے کہ بٹ کوائن وغیرہ بنتے ہیں۔

تاہم ابھی اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ صارفین ایک دوسرے کے سوشل میڈیا پوسٹس کو کس قدر اہمیت دیں گے۔