نہر سوئز میں دیو ہیکل بحری جہاز پھنس گیا: ’الیکٹریشن کی غلطی یا سب ایک ساتھ فون چارج کر رہے تھے؟‘

نہر

،تصویر کا ذریعہReuters

آپ نے سڑکوں پر ٹریفک جام کا تو سنا ہوگا یا ان کا تجربہ کیا ہوگا، لیکن کیا آپ کبھی مال بردار بحری جہازوں کے ٹریفک جام کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، اور وہ بھی ایسے مقام پر جسے دنیا بھر میں کارگو ترسیل کے لیے اہم ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔

ہم بات کر رہے ہیں مصر کی معروف نہر سوئز کی جہاں گذشتہ روز ایک دیو ہیکل مال برادر بحری جہاز کے پھنسنے کی وجہ سے وہاں پر تمام مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت بند کر دی گئی ہے کیونکہ 'ایور گیون' نامی جہاز قابو میں نہ رہا اور سمت مُڑ جانے سے اس نے نہر کو بلاک کر دیا۔

'ایور گیون' نامی بحری جہاز کا شمار دنیا کے سب سے بڑے مال بردار جہازوں میں ہوتا ہے اور اس کی لمبائی چار سو میٹر ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً 60 میٹر ہے۔

امدادی ٹگ بوٹس کی مدد سے اس جہاز کو ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہیں لیکن اتنے بڑے حجم کے جہاز کو دیکھتے ہوئے خدشات ہیں کہ وہ اس مقام پر اگلے کئی روز تک پھنسا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

نہر سوئز کا حجم اتنا بڑا ہے کہ کئی دیو ہیکل بحری جہاز یہاں سے گزر سکتے ہیں

واقعہ رونما کیسے ہوا؟

منگل کے روز یہ واقعہ نہر سوئز میں واقع بندرگاہ کے شمال میں پیش آیا جب ایور گیون جہاز نہر سوئز سے گزرتے ہوئے بحیرہ روم کی جانب گامزن تھا جب جہاز مقامی وقت کے مطابق صبح 7.40 پر تکنیکی خرابی کی وجہ سے اپنے توازن اور سمت برقرار نہ رکھ سکا۔

دوسری جانب جہاز چلانے والی کمپنی ایور گرین مرین کارپس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہوا کے تیز جھکڑ کی وجہ سے جہاز پھنس گیا۔

اس سفر میں میں ایور گوین چین سے نیدرلینڈز کے شہر راٹرڈیم جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ سوئز کنال بحیرہ احمر کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے اور وہ بحری جہازوں کو ایشیا کو یورپ سے ملانے کا سب سے تیز سمندری راستہ ہے۔

پاناما میں رجسٹر کیے جانے والا جہاز ایور گیون 2018 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے ایور گرین مرین کمپنی آپریٹ کرتی ہے۔

انسٹا گرام پر جولین کونا نامی صارف نے تصویر شئیر کی جس میں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ایور گیون جہاز کنال میں پھنسا ہوا ہے اور اس کے لیے راستہ بنانے کے لیے زمین کھودنے والی مشین جہاز کے آگے موجود ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ کھدائی کرنے میں مصروف ہے۔

عالمی تجارت پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے'

امریکہ میں مقیم بحری امور کے تاریخ دان ڈاکٹر سال مرکوگلیانو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نوعیت کے واقعات بہت شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں لیکن 'ان کی وجہ سے عالمی تجارت پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔'

'یہ نہر سوئز میں پھنس جانے والا دنیا کا سب سے بڑا جہاز ہے۔ اگر اسے وہاں سے ہٹایا نہیں جا سکا تو پھر اس پر لدے ہوئے سامان کو نکالنا پڑے گا۔'

ڈاکٹر سال مرکوگلیانو نے بتایا کہ غالباً جہاز کا انجن اور سٹیرنگ خراب ہو گئے تھے جس کی وجہ سے جہاز کنال میں پھنس گیا۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ایسا ہوا کیوں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سوئز کنال میں کوئی بحری جہاز پھنسا ہو۔ 2017 میں ایک جاپانی جہاز وہاں پھنس گیا تھا تاہم اس چند گھنٹوں میں نکال لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ڈیڑھ سو سال قبل بنائی جانے والی سوئز کنال 193 کلو میٹر طویل اور اس کی چوڑائی 205 میٹر ہے

نہر سوئز کی کیا اہمیت ہے؟

ڈیڑھ سو سال قبل بنائی جانے والی سوئز کنال 193 کلو میٹر طویل اور اس کی چوڑائی 205 میٹر ہے اور اس کنال کے راستے میں میں تین قدرتی جھیلیں بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عالمی بحری تجارت کا دس فیصد حصہ اس کنال سے گزرتا ہے۔

سنہ 2015 میں مصری حکومت نے نہر کو وسعت دینے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا تاکہ جہازوں کو گزرنے میں آسانی ملے۔

اصلی نہر سوئز کا افتتاح 1869 میں ہوا تھا اور اسے مکمل ہونے میں دس برس کا عرصہ لگا تھا

سوئز نہر سنہ 1956 سے مصر کے قومی افتخار کی علامت بنی ہوئی ہے جب صدر جمال عبدالناصر نے برطانیہ اور فرانس سے لے کر اسے قومیا لیا تھا اور جس کے بعد ان دونوں ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا تھا۔

اس نہر پر تنازع اس کے بعد سنہ 1968 اور سنہ 1973 میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کا باعث بنا۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

،تصویر کا ذریعہVesselfinder.com

،تصویر کا کیپشن

ایور گیون جہاز نہر سوئز میں جس جگہ پھنسا ہوا ہے

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس واقعے کی تصاویر اور خبر سامنے آنے کے بعد طرح طرح کے مزاحیہ تبصرے دیکھنے میں سامنے آئے۔

صارف شوو رامداس سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھتے ہیں کہ 'اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا برا دن گزر رہا ہے، تو اس جہاز کے عملے کے بارے میں سوچیں جن کی وجہ سے اتنا بڑا جہاز نہر سوئز میں پھنس چکا ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف وہاں پر ٹریفک جام ہو گیا ہے بلکہ لاکھوں ڈالروں کا فی گھنٹہ نقصان بھی ہو رہا ہے۔

صارف این ساؤتھ لکھتے ہیں کہ ایور گیون کے پھنس جانے سے بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور نہر سوئز میں مال بردار جہازوں کی قطار میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔

ایک صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جب آپ کسی انٹرن کو کام کرنے کے لیے کہہ دیں تو یہ ہوتا ہے۔‘

ایک اور صارف مارک ایل لکھتے ہیں کہ ’میرے مینٹل بلاک کا اس بلاک سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے جو اس وقت دنیا کی مصروف ترین آبی گزر گاہ پر ہو رہا ہے۔‘

جہاز میں فنی خرابی کی وجہ وہ مد نظر رکھتے ہوئے ایک اور صارف نے پوچھا کہ کیا یہ جہاز کے الیکٹریشن کی غلطی تھی یا جہاز کا عملہ ایک ساتھ اپنے فون چارج کر رہا تھا۔