ارجنٹینا: وہ لڑکیاں جو اپنے والد کے ہاتھوں اذیتیں سہنے والے افراد کو انصاف دلوانا چاہتی ہیں

  • ولیریا پیراسو
  • بی بی سی ورلڈ سروس
پاؤلا اور ان کے والد
،تصویر کا کیپشن

پاؤلا کو اپنے بچپن میں پتا نہیں تھا کہ ان کے والد سیکریٹ ایجنٹ (جاسوس) ہیں

’ابو کیا آپ نے واقعی سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا ہے؟‘

یہ ایک ایسا سوال نہیں جو بہت سے لوگ اپنے والدین سے پوچھنا چاہیں گے لیکن ارجنٹینا میں چند نوجوان خواتین کے ایک گروہ کے لیے یہ ایک ایسا سوال بن گیا تھا کہ جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتی تھیں۔

جب اگست کی ایک شام کو انالیا کالینیک کے گھر فون کی گھنٹی بجی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ یہ فون کال ان کے خاندان کا شیرازہ بکھیر دے گی۔

وہ ان کی والدہ کی کال تھی۔ انھوں نے بتایا ’دیکھو پریشان نہ ہونا، ابو جیل میں ہیں۔‘ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’فکر نہ کرو، یہ صرف سیاست ہے۔‘

’اس فون کال سے پہلے میں نے کبھی اپنے والد کی نوکری کو آمریت سے نہیں جوڑا تھا۔ دور دور تک بھی نہیں۔۔۔‘

انالیا کے والد ایڈوارڈو ایمیلیو کالینیک پولیس کے سابق افسر تھے جو سنہ 1976 سے 1983 کے دوران فوج کے دور حکومت میں ملازم رہے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں جن میں فوجی دور کے حراستی مراکز میں گرفتاری، تشدد اور قتل کے 180 مقدمات شامل ہیں۔

سات برس تک قائم رہنے والے فوجی دورِ حکومت میں نظریاتی طور پر اختلاف رکھنے والے کمیونسٹ، سوشلسٹ، یونین لیڈرز، طلبہ اور فنکاروں سمیت ہر اس شخص کو ختم کیا گیا جسے فوج خطرہ سجھتی تھی۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اس دوران کالینیک جیسے سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں تقریباً 30 ہزار افراد کو اغوا کر کے غیر قانونی طور پر قید میں ڈالا گیا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

لیکن سنہ 2005 تک انالیا کو اپنے والد کے اس ’خفیہ راز‘ کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں تھا۔ جب انھیں والدہ کی فون کال آئی تو اس وقت ان کی عمر 25 برس تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کالینیک کو حراست میں لے لیا گیا اور ان کی اہلیہ کی امید کے باوجود انھیں کبھی رہا نہیں کیا گیا۔ سنہ 2010 میں انھیں انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ انالیا کہتی ہیں کہ ان کے والد نے ان سے پوچھا کہ ’کیا تم سمجھتی ہو کہ میں کوئی شیطان صفت انسان ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ مجھ سے کیا توقع کر رہے تھے کہ میں کیا کہوں؟ وہ میرے پیارے ابو تھے۔ میں ان کے بہت قریب تھی۔۔۔ میں حواس باختہ ہو گئی۔‘

پاؤلا (جنھوں نے بی بی سی سے شناخت ظاہر نہ کرنے کا کہا ہے) کو بھی اپنے والد کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات سننے کو ملے۔

جب وہ 14 برس کی تھیں تو ان کے والد انھیں اور ان کے بھائی کو ایک کیفے لے کر گئے اور انھیں بتایا گیا کہ وہ ایک خفیہ اہلکار رہے ہیں۔ بعد میں پاؤلا کو پتہ چلا کہ ان کے والد ایک جاسوس تھے جو کہ بائیں بازو کے گروہوں میں شامل ہو جاتے تھے اور حکام کو بتاتے تھے کہ کون لوگ ان گروہوں میں ہیں تاکہ انھیں پکڑا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

فوجی انقلاب کے بعد 24 مارچ 1976 کو ارجنٹینا کے صدر ایزابیل پیرون کے صدارتی محل کے باہر مسلح افواج

پاؤلا کہتی ہیں کہ ’جب سے مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ جو بھی میں آمریت کے بارے میں جانتی تھی وہ میرے والد نے کیا تھا یا پھر وہ ان کے لیے کام کرتے تھے، تو میں شرم محسوس کرنے لگی، جیسے کہ میں بھی ان کی شریکِ جرم تھی۔‘

’اب مجھے اس کا علم ہے اور میں اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ یہ ایسے ہے کہ جیسے میرے پاس ایک راز ہے جسے میں اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتی۔‘

اپنے خاندان کی اس تاریخ کو سمجھنے میں ان بیٹیوں کو برسوں لگے مگر حال ہی میں انھوں نے محسوس کیا کہ اب انھیں اس پر بات کرنی چاہیے۔ وہ اس گروہ کا حصہ ہیں جو خود کو ’نسل کشی کے مرتکب افراد کے بیٹے، بیٹیوں اور رشتہ داروں‘ کا گروہ کہتا ہے۔

وہ عوامی سطح پر اپنے باپ کے عوامل پر ان کی مذمت کرتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ان میں سے اکثر خاندان بدر ہو چکی ہیں۔

خاندان کا راز

انالیا کالینیک جو اب ایک ماہر نفسیات اور سکول ٹیچر ہیں، سنہ 1980 میں پیدا ہوئی تھیں جب جنتا بائیں بازو کے حامیوں کے خلاف جنگ کر رہی تھی۔ انھیں زیادہ تر اس دور کے بعد کے اپنے پولیس افسر والد یاد ہیں۔ وہ اپنے والد کو بار بی کیو بناتے ہوئے، اپنی بیٹیوں کو کھیل کے کلب اور فشنگ ٹرپس پر لے جاتے ہوئے یاد کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمارا ایک نہایت مضبوط مڈل کلاس خاندان ہے، جس میں میری تین بہنیں، ہماری گھر چلانے والی والدہ اور والد شامل تھے جو پیار کرنے والے خاندان کے سربراہ اور کفیل تھے۔

چاروں بہنوں کی جلد ہی شادی ہو گئی تھی اور انھیں سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

انالیا کہتی ہیں کہ ’ہمارے لیے ہمیشہ میرے والد، ایک پولیس اہلکار تھے۔ میں نے ان سے کبھی نہیں پوچھا کہ وہ کیا کرتے تھے۔‘

،تصویر کا کیپشن

انالیا کا اپنے والد کے ساتھ بہت محبت والا تعلق تھا

انھیں یاد ہے کہ اپنی والدہ کا فون آنے کے ایک دن بعد وہ ان کے ساتھ اپنے والد سے ملنے جیل گئی تھیں۔

جب ہم نے ان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ’وہ میرے بارے میں جو بھی کہیں ان کی بات پر یقین مت کرنا، یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے۔‘

انھوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ انھیں کسی بھی چیز پر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں اور یہ کہ وہ ’جنگ‘ لڑ رہے تھے اور اب بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بدلہ لینے کے لیے انھیں ستا رہے ہیں۔‘

انالیا کہتی ہیں کہ ’مجھے ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا اور مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔‘

انالیا کے لیے آمریت ماضی کی کوئی چیز تھی اور اپنے والد کی قید کے ابتدائی چند برسوں تک تو وہ اسے جھٹلاتی رہیں۔

،تصویر کا کیپشن

انالیا اپنے والدین اور بہنوں کے ہمراہ

وہ کہتی ہیں ’سب ٹھیک ہے لیکن میرے والد کا اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ میں اس وقت تک یہ سوچتی رہی کہ یہ کوئی غلطی ہو گی لیکن جب کیس شروع ہوا تو مجھے پتہ چلا کہ چیزیں ویسی نہیں تھیں جیسی میرے ابو ہمیں بتاتے رہے تھے۔‘

جب انھوں نے اپنے والد کے خلاف موجود کیسز کی فائلیں پڑھنا شروع کیں تو ان کے والد کا ماضی ان کے سامنے کھلا۔ وہ زندہ بچ جانے والوں کی آوازوں میں 800 سے زیادہ صفحات پر مشتمل دہشت انگیز واقعات کا ایک ڈھیر تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’میں نے ان میں حراستی مراکز کی تفصیلات پڑھیں جہاں فوج اغوا کر کے لوگوں کو رکھتی تھی۔ یہ ایک نقشے کی طرح تھا اور مجھے اس میں اپنے باپ کو رکھنا تھا، جو کہ انتہائی ناقابلِ برداشت تھا۔‘

،تصویر کا کیپشن

ال اومپو کا وہ سابق قید خانہ جہاں کالینیک کام کرتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق 17 مہینوں میں وہاں کوئی 500 قیدی رکھے گئے تھے

متاثرہ افراد کالینیک کو ان کے اصلی نام سے نہیں جانتے تھے۔ خفیہ جیلوں میں جہاں انھوں نے کام کیا، وہ ’ڈاکٹر کے‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، جیسا کہ زیادہ تر لوگ اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے کرتے تھے۔

’مجھے پتہ ہے کہ لوگ انھیں یہ کہتے تھے کیونکہ انھوں نے ایک بار میری دادی کو یہ بتایا تھا اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہ عرفیت کہاں سے آئی تو انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ہمیشہ بہت صاف رہتے تھے اور وکیل کی طرح نظر آتے تھے اور یہاں ہم وکلا کو ڈاکٹر کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ (لیکن) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس لیے ہو کہ وہ ٹارچر چیمبر میں ’ڈاکٹر‘ کی طرح ہوں جسے وہ ’آپریٹنگ تھیٹر‘ کہتے تھے۔

انالیا نے آخر کار اپنے والد کے ساتھ ان کے جیل کے سیل میں ملاقات کی۔

’اور جب میں نے یہ کیا، تو مجھے ایک بہت ناراض شخص ملا جس نے بلاجواز، جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور ایسا کرتے ہوئے انھوں نے میرے بدترین شکوک و شبہات کی تصدیق کی کہ انھوں نے اس سب میں ذاتی طور پر حصہ لیا تھا۔‘

،تصویر کا کیپشن

حراستی مرکز میں قید لوگ ایڈورڈو کالینیک سے ڈرتے تھے اور انھیں ’ڈاکٹر کے‘ کے نام سے جانتے تھے

انالیا کہتی ہیں کہ اس شخص کے ساتھ محبت کا رشتہ اور بچپن کی بہت سی خوشگوار یادوں نے معاملات کو مزید مشکل بنا دیا تھا۔

’پہلے مجھے ان سے دور ہونے کی ضرورت تھی۔ میں کہا کرتی تھی کہ ’ٹھیک ہے، ایک طرف میرے والد ہیں اور دوسری طرف ایک اذیت دینے والا۔‘ مجھے اس کی ضرورت تھی، ورنہ میرا سر ہی پھٹ جاتا لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ درحقیقت یہ وہی شخص ہے۔ یہ ہمیشہ وہی شخص تھا۔‘

’اس وقت بغیر جانے، جیل میں ہونی والی وہ گفتگو میری آخری گفتگو تھی جو میں نے اپنے والد سے کی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہCIJ

،تصویر کا کیپشن

مقدمے کی سماعت کے دوران کالینیک، انھیں دسمبر 2010 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی

’آپریٹنگ تھیٹر‘

ان مقدمات میں درجنوں گواہوں نے ایڈوارڈو کالینینک کی شناخت کی کہ وہ تین مختلف خفیہ حراستی مراکز میں تفتیش اور تشدد کی کارروائیوں میں شامل رہے تھے۔

انھوں نے ان کی شناخت ایک نوجوان کی حیثیت سے کی جو اس وقت 20 کی دہائی میں تھا اور جس کی آواز اونچی تھی اور وہ چھوٹے قد کا ہٹا کٹا، موٹی گردن اور مونچھوں والا شخص تھا۔

بچ جانے والوں کے عدالت میں بیانات کے مطابق ’اندر‘ ان کا بہت ڈر تھا اور وہ ’انتہائی ظالمانہ کردار‘ کے مالک تھے۔ بہت سے تو بچ ہی نہیں سکے۔ آج تک بہت سے قیدیوں کا تو کچھ پتہ ہی نہیں اور امکان ہے کہ ان کو قتل کر دیا گیا ہو گا۔

16 برس کی انا ماریا کیریگا تین ماہ کی حاملہ تھیں جب انھیں حراستی مرکز میں لے جایا گیا۔ انھیں یاد ہے کہ ’ڈاکٹر کے‘ نے جب انھیں غسل خانے میں دیکھا تو انھیں زور سے لات ماری۔ ایک موقع پر وہ اس بات پر ناراض ہوئے کہ انھوں نے اپنے اغوا کاروں کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ حاملہ ہیں۔ انھوں نے چلا کر کہا کہ ’کیا تم چاہتی ہو کہ میں تمہاری ٹانگیں کھولوں اور اسقاط حمل پر مجبور کروں؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فوج نے نظریاتی حریفوں کے خلاف کھلی جنگ کر دی تھی

میگویئل ڈی آگسٹینو نے بھی شناخت کی کہ کالینیک ان تین افراد میں سے ایک تھے جنھوں نے لگاتار پانچ دن تک ایک نوک دار برقی راڈ سے انھیں ایک خفیہ جیل کے نام نہاد ’آپریٹنگ تھیٹر‘ میں اذیتیں پہنچائیں۔ وہاں انھیں تقریباً ایک سال رکھا گیا تھا۔

ڈیلیا باریرا اس وقت 22 سال کی تھیں جب انھیں گھر سے اٹھا کے لے جایا گیا۔ مردوں کے ایک گروہ نے ان کے سر پر بندوق رکھ کر انھیں اغوا کیا اور ان کی اندام نہانی کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ چیک کیا کہ کہیں وہاں انھوں نے سائینائیڈ کی گولیاں تو چھپا نہیں رکھیں جن سے وہ اپنی جان لے لیں۔ وہ انھیں ال اٹلیٹکو لے گئے، جو کہ وہ خفیہ جیل تھی جہاں اس وقت کالینیک تعینات تھے۔

باریرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور مجھے اردگرد سے آوازیں آ رہی تھیں۔ ’انھوں نے مجھے برہنہ کیا اور ایک دھات کے بستر پر ٹانگیں کھول کر باندھ دیا۔ انھوں نے بجلی کے جھٹکوں سے کام شروع کیا۔ انھوں نے مجھ پر ایک پولیس سٹیشن میں بم رکھنے کا الزام لگایا جو میں نے نہیں کیا تھا اور وہ کچھ ساتھی عسکریت پسندوں کے نام جاننا چاہتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔‘

،تصویر کا ذریعہARCHIVO CONADEP

،تصویر کا کیپشن

ملک بھر میں تقریباً 600 خفیہ جیلیں تھیں جہاں قیدیوں کو سات سال کے دوران رکھا گیا

وہ 92 دن کی نظر بندی کے دوران ایک موقع پر کالینیک سے اس وقت ملیں جب ان کی آنکھوں پر پٹی ذرا ڈھیلی تھی۔

’بری طرح پیٹنے کے بعد مجھے ان کے پاس لے جایا گیا۔ میں نے سوچا کہ جنھیں سب ’ڈاکٹر کے‘ کے نام سے پکار رہے ہیں، وہ ضرور کوئی ڈاکٹر ہی ہوں گے۔‘

’میں نیچے سے ان کا چہرہ دیکھ سکتی تھی۔ یہ ایک ایسا چہرہ ہے جسے میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ جب مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں کسی ملزم کی شناخت کر سکتی ہوں تو میں نے کہا، ’وہ ہیں وہاں، ڈاکٹر کے۔‘

،تصویر کا ذریعہCONADEP

،تصویر کا کیپشن

ان حراستی مراکز کے زیادہ تر قیدیوں کا کبھی پتہ ہی نہیں چلا جہاں کالینیک تعینات تھے

’کوئی ثبوت نہیں‘

ایک سال چلنے والا مقدمہ جس میں دسمبر 2010 کو کالینیک کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، اس تاریخی حساب کتاب کا حصہ تھا جو آمریت کے خاتمے کی تقریباً چار دہائیوں بعد بھی ارجنٹائن میں جاری ہے۔

انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ایک ہزار سے زیادہ سابق فوجی اور پولیس افسران کو بھاری سزائیں سنائی گئی ہیں اور اب بھی تقریباً 370 مقدمات جاری ہیں لیکن وہ تمام لوگ انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے گئے جنھوں نے منظم ریاستی جبر میں حصہ لیا تھا۔

بہت سارے مقدمات میں سزا دینے کے لیے مناسب ثبوت موجود نہیں تھے، جیسا کہ پاؤلا کے والد کے کیس میں۔

،تصویر کا ذریعہCIJ

،تصویر کا کیپشن

دوسری قطار میں بائیں طرف کالینیک اپنے نوٹس کو پڑھتے ہوئے

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ انھوں نے کیا، کیا تھا کیونکہ انھوں نے مجھے بتایا تھا۔ مجھے پتہ ہے کہ وہ اس کا حصہ تھے کیونکہ انھوں نے مجھے بتایا تھا۔‘‘

’بقول ان کے، انھوں نے ’بغاوت کے خلاف جنگ‘ میں حصہ لیا تھا۔ اور ان کا سر فخر سے اونچا تھا، وہ اپنے آپ کو ہیرو کی طرح محسوس کرتے تھے۔‘

اس وقت تک وہ سمجھتی تھیں کہ ان کے والد ایک وکیل ہیں۔ انھوں نے کبھی بھی اپنے والد کو پولیس کی وردی میں نہیں دیکھا تھا۔

’وہ اس وقت 20 کی دہائی میں تھے اور گھر میں موجود تصاویر میں وہ پولیس اہلکار بالکل نہیں دکھائی دیتے تھے۔ ان کے لمبے بال تھے، بڑے کالروں والی جدید شرٹس پہنتے تھے۔۔۔ وہ 1970 کی دہائی کے کسی بھی نوجوان لڑکے کی طرح دکھائی دیتے تھے۔‘

،تصویر کا کیپشن

پاؤلا: ’مجھے پتہ ہے کہ ہماری ایک خوش و خرم خاندان والی تصاویر ہیں لیکن میرے پاس ان کی خوش کن یادیں نہیں ہیں‘

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب پاؤلا نے تانا بانا جوڑا تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کے والد لوگوں کو اٹھا کر خفیہ حراستی مراکز میں لے جایا کرتے تھے۔

بالکل انالیا کی طرح پاؤلا نے بھی ان سے آمنے سامنے بات کی۔

’میں نے ان سے کہا: ’آپ لوگوں کو اذیت نہ پہنچائیں۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ انھوں نے کچھ کیا ہے یا نہیں، اگر انھوں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو قانون کا استعمال کریں۔ لوگوں پر تشدد نہ کریں‘ اور میں نے یہ گفتگو کئی بار کی۔‘

ان کے والد کا جواب تھا کہ حکام ’دہشت گردوں‘ سے نمٹ رہے تھے اور ’کمیونسٹ آ رہے تھے۔‘ پاؤلا کہتی ہیں کہ انھیں نہیں پتہ کہ ان کے والد کے ہاتھوں پر ناحق افراد کا خون ہے، لیکن انھوں نے کبھی معافی نہیں مانگی۔

’وہ دہشت گردی کی مشین کا ایک ضروری پرزہ تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ جرائم کرنا پڑتے تھے اور انھوں نے کبھی انھیں جرائم تسلیم ہی نہیں کیا تھا، وہ انھیں کارروائیاں کہتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1977 میں بیونس آئرس میں پولیس کا چھاپہ

حقیقت کے انکشاف کے دس سال بعد پاؤلا نے اپنے والد کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر دیے۔

’میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ یہ کوشش کی تھی۔ لیکن میں ہمیشہ اس کے پاس واپس چلی جاتی، اس کی بنیادی وجہ تھی کہ میری والدہ مجھے یہ کہتی تھیں۔ خاندان آخر خاندان ہی ہوتے ہیں۔۔۔‘

’جب میری والدہ کا انتقال ہوا، تو شاید میں نے آزادانہ طور پر محسوس کیا ہو گا، آپ کو تو سمجھ آ جائے گی؟ کہ اب میرے پاس کوئی نہیں جو کہے کہ مجھے آپ کو ملنا چاہیے۔ میں نے اس کے بعد پھر انھیں کبھی نہیں دیکھا۔‘

سنہ 2019 کے اواخر میں انھیں پتہ چلا کہ ان کے والد کو شدید فالج کے حملے کے بعد ہسپتال داخل کیا گیا ہے اور اس وقت انھوں نے سوچا کہ کیا انھیں اپنے باپ سے ملنے جانا چاہیے۔

وہ نہیں گئیں اور جب ان کے باپ کا انتقال ہوا تو وہ جنازے میں بھی نہیں گیئں۔

’میں نے سوچا کہ جنازے میں شرکت کرنا ان لوگوں کی توہین ہو گی جو واقعی ان سے پیار کرتے تھے لیکن اس کے علاوہ، میرا ایک حصہ ایسا بھی تھا جو میری زندگی میں میرے والد کی عدم موجودگی پر پہلے ہی افسوس کا اظہار کر چکا تھا۔ لہذا مجھے واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔‘

اجتماعی بغاوت

کچھ سال پہلے ، انالیا اور پاؤلا ایک دوسرے اور فوجی اور پولیس افسران کے بہت سے دوسرے بچوں سے ملیں جنھوں نے اپنے اپنے باپ کے اعمال کی مذمت کی تھی۔

یہ اتفاقاً نہیں ہوا تھا۔ اس کا آغاز صدر موریسو میکری کی سینٹر رائٹ حکومت کے دور میں سنہ 2017 میں ہونے والے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں ہوا تھا، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی پامالی کرنے کے جرم میں سزا پانے والے سینکڑوں افراد کی رہائی ہو سکتی تھی جن میں ایڈوارڈو کالینیک بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہHISTORIAS DESOBEDIENTES

،تصویر کا کیپشن

انالیا (مرکز میں) دوسرے افراد کے ساتھ مظاہرہ کرتے ہوئے

اس کے نتیجے میں تقریباً پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے اور مطالبہ کیا اس فیصلے کو واپس لیا جائے اور ایسا ہی ہوا۔

انالیا کہتی ہیں کہ ’یہ حقیقت کہ میرے والد جیل میں ہیں ارجنٹائن کے معاشرے کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہے۔ اس لیے میں نے محسوس کیا کہ مجھے خاموشی توڑنے کی ضرورت ہے۔ میں کہنا چاہتی تھی کہ یہ واضح ہو جائے کہ پیچھے نہیں مڑ سکتے۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے باپ اپنے جرائم کی سزا بھگتیں۔‘

انالیا نے اپنے خیالات کو فیس بک پر ایک منشور میں شائع کیا تھا۔ دوسرے بیٹے اور بیٹیوں نے اسے پڑھا۔

’اور یہ سب وہاں سے شروع ہوا ۔۔۔ ہمارا رابطہ ہوا، ہم ملے۔ ہم نے کہا کہ یہ تنہا برداشت کرنا بہت کٹھن ہے۔ ہم نے اکٹھے ہو کر مظاہروں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ پہلی بار ہم چار افراد تھے، سبھی خواتین، بھرپور توانائی اور جوش و خروش کے ساتھ۔‘

انھوں نے اپنے آپ کو ’نافرمان کہانیاں‘ کہا کیونکہ وہ خاندان کا چپ کا قانون توڑ رہی تھیں۔ اکثر نے کافی عرصے سے اپنے والد اور دیگر کو ملنا بند کر دیا ہے اور انالیا کی طرح کئی اور کے بھی بھائی بہن ہیں جو ان سے نہیں بولتے۔

،تصویر کا ذریعہVALERIA PERASSO

،تصویر کا کیپشن

پاؤلا اپنی کتاب ’ڈس اوبیڈیئنٹ رائٹنگز‘ میں سے اقتباس پڑھتے ہوئے

پاؤلا کہتی ہیں کہ ’میں اپنے جیسے دوسروں کو ڈھونڈ کر بہت خوش ہوئی تھی، مجھے پتا تھا کہ میں اکیلی نہیں ہو سکتی!‘

’وہ مجھے ایسے سمجھ سکتی ہیں جیسے کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے معالج کے علاوہ اپنے والد کے بارے میں کسی سے بات نہیں کر سکتی تھیں اور 23 ​​سال کی خاموشی کے بعد کھڑے ہونے اور بولنے کی صلاحیت کا حصول ایک زبردست احساس تھا۔

اب 80 افراد پر مشتمل گروپ، جس میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، ہفتہ وار ملتا ہے۔ وہ ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں، احساسات اور سیاست پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اگلی عوامی نمائش کا منصوبہ بناتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہVALERIA PERASSO

،تصویر کا کیپشن

برونو انالیہ کا سب سے بڑا بیٹا ہے جو مظاہروں میں ان اکثر ان کے ساتھ آتا ہے

ان لوگوں کی ایک مہم کا محور یہ بھی ہے کہ ان سب کے سزا پانے والے اور ملزم والد اپنے جرائم کا اعتراف کریں۔

انالیا کا کہنا ہے کہ ’میں ابھی بھی اس بات کی منتظر ہوں کہ وہ بات کریں۔ مجھے پتہ ہے کہ میرے والد کے پاس اپنے متاثرین کے بارے میں معلومات ہیں۔ دوسرے عہدیداروں کے بر خلاف جو بہت بوڑھے یا سٹھیائے ہوئے ہیں، میرے والد چیزوں کو سمجھتے ہیں اور ان کی یادداشت بھی بہت اچھی ہے اور اس بات کا احساس کہ انھوں نے کچھ نہ کہنا منتخب کیا ہے اور یہ کہ ان کی پیچیدہ خاموشی ابھی بھی تکلیف پہنچا رہی ہے، مجھے واقعی تکلیف پہنچاتا ہے۔‘

چونکہ ان کے والد نہیں بولتے، لہذا ’نافرمان کہانیاں‘ کے اراکین چاہتے ہیں کہ ارجنٹائن کے پینل کوڈ میں ترمیم کی جائے جس سے بچوں کو والدین کے خلاف عدالت میں گواہی دینے کی اجازت ملے تاکہ انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت ان پر مقدمہ چل سکے۔

انالیا کہتی ہیں کہ سماجی طور پر ایک پدر شاہی معاشرے میں اپنے والد کے خلاف بولنے کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ ’آپ کے والد، آپ کا خون۔ ٹھیک ہے، لیکن اگر آپ کے والد اذیت دینے والے یا ریپ کرنے والے یا چور ہیں تو پھر؟ آپ کچھ نہیں کہہ سکتے؟

’لوگ اس پر سوال بھی نہیں اٹھاتے۔ ٹھیک ہے، تو پھر اب وقت ہے کہ ہم کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہVALERIA PERASSO

،تصویر کا کیپشن

مارچ 2019 میں یادوں کا قومی دن

عوام کی نظر میں

2018 میں 24 مارچ کو ’نافرمان کہانیاں‘ فوجی بغاوت کی برسی کے دن سڑکوں پر نکل آئیں۔ ان کے مختلف رنگوں کے بینرز پر لکھا تھا، ’ہم نسل کشی کرنے والوں کے لواحقین ہیں۔‘

انالیا کہتی ہیں کہ لوگ انھیں دیکھ کر حیران ہوئے۔ کچھ لوگ رو پڑے، اگرچہ بہت سے لوگوں نے ان کی تعریف کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ مجرموں کے لواحقین کے گروہ نے اس طرح کا عوامی مؤقف اختیار کیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہVALERIA PERASSO

،تصویر کا کیپشن

بہت سے لوگوں نے ’نافرمان کہانیاں‘ کی مارچ کی تعریف کی اور تالیاں بجائیں

لیکن ہر کوئی ان کی اس ’سرگرمی‘ کے لیے تیار نہیں۔ متاثرین کے کچھ لواحقین اور زندہ بچ جانے والوں کے لیے یہ ایک پریشان کن بات بھی ہے۔

زندہ بچ جانے والی ایک ڈیلیا باریرا نے 2019 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ان ’نافرمان‘ بیٹوں اور بیٹیوں کے پاس بولنے کے لیے کافی مواقع میسر تھے اور انھوں نے پہلے ایسا نہیں کیا، ایسا کیوں ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ وہ ان پر اعتماد نہیں کرتیں، خاص طور پر ان پر جو کہتی ہیں کہ اب اپنے والد سے پیار کرتی ہیں، باوجود اس کے جو انھوں نے کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آپ نسل کشی کے مرتکب شخص کو پیار نہیں کر سکتے۔ مجھے بتائیں کہ آپ اس سے پیار نہیں کرتے تو پھر شاید یہ الگ کہانی ہو۔‘

،تصویر کا کیپشن

ڈیلیا بریرا نے اپنے اغوا کے بارے میں کئی مرتبہ بیان دیا ہے اور ان کے سابق شوہر ابھی بھی لاپتہ ہیں

سزا یافتہ مجرموں کے بیٹے اور بیٹیوں کے لیے یہ اکثر زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔

انالیا کہتی ہیں کہ ’دیکھو، میں اپنے آپ سے ہر وقت پوچھتی ہوں، ہم ہمیشہ اجتماعی طور پر گفتگو کرتے ہیں: کیا آپ اس شخص سے محبت کرنا چھوڑ سکتے ہیں؟ آپ پیار کو کس طرح مٹاتے ہیں؟ آپ اپنی اچھی یادیں کیسے ڈیلیٹ کرتے ہیں؟ میں اس باپ سے دور ہونے سے انکار کرتی ہوں جسے میں کبھی پیار کرتی تھی، میرے اندر ایک حصہ ہے جو اس کو پکڑ کر رکھنا چاہتا ہے۔ لہذا میں ان تضادات کے ساتھ رہتی ہوں۔‘

کچھ اس سے بھی آگے نکل گئی ہیں اور اپنے آپ کو ’سابق بیٹیاں‘ کہنے لگی ہیں یا پھر انھوں نے نام تبدیل کرنے کی باضابطہ درخواستیں دی ہوئی ہیں۔

انالیا کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ ذاتی نوعیت کا فیصلہ ہے لیکن میرے لیے اس سے کچھ نہیں بدلے گا۔ میں اپنے والد کو کنیت رکھنے کا حق نہیں دوں گی۔ یہ میری کنیت بھی ہے، میرا خاندان، میری تاریخ بھی۔‘

پاؤلا اس سے متفق ہیں۔

،تصویر کا ذریعہVALERIA PERASSO

،تصویر کا کیپشن

للیانا فُریو (بائیں) ایک سزا یافتہ آرمی آفیسر کی بیٹی ہیں، انھوں نے انالیہ کے ساتھ ’نافرمان کہانیاں‘ کی بنیاد رکھی تھی

جب ان کے والد زندہ تھے تو انھوں نے انھیں بتایا تھا کہ ’آپ نے بہت سے لوگوں سے بہت ساری چیزیں لیں ہیں۔ آپ میرا نام نہیں لے سکتے۔ آپ نے اسے داغدار کیا ہے، آپ نے اسے آلودہ کیا ہے۔ میں اسے صاف کروں گی۔‘

والد کی موت کے بعد سے وہ اجتماعی مظاہرے کرنے والے گروہ سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ آمریت کے خلاف ان کے اخلاقی مؤقف اور اس میں ان کے والد کے کردار کے بارے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

’میں اب بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرتی ہوں کہ اس پر بولوں اور شاید دوسرے لوگوں کو بھی بیدار کروں، ارجنٹائن اور پوری دنیا میں، قطع نظر اس کے کہ ان کے مجرم کے ساتھ کس قسم کے تعلقات ہیں۔ اس لیے یہ لڑائی کبھی ختم نہیں ہو گی۔‘