نیوزی لینڈ میں حمل ضائع ہونے پر چھٹی کا قانون: ’حمل ضائع ہونا کوئی ایک دن میں ختم ہو جانے والا کام نہیں‘

عورتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دنیا کے کئی مالک میں مِسکیرج کی صورت میں چھٹی کی سہولت دی جاتی ہے

نیوزی لینڈ کی جانب سے ایک قانون منظور کیا گیا ہے جو کہ والدین کو حمل ضائع ہونے کے بعد تنخواہ سمیت چھٹی لینے کا حق دے گا۔

دنیا بھر سے تین خواتین نے بی بی سی سے اس قانون پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی وجہ سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔

’حمل ضائع ہونا ایک صدمہ ہے، یہ کسی بھی دوسرے نقصان جیسا ہے‘

جب ڈنیز ایونز نے اپنا بچہ کھویا تو بہت کم افراد کو معلوم تھا کہ وہ حاملہ ہیں۔ انھیں حاملہ ہوئے ابھی چھ ہفتے ہی ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے کچھ انتہائی قریبی دوستوں یہاں تک کہ اپنے والد کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا تھا۔

ڈنیز ایونز ایک صحافی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب ان کا حمل ضائع ہوا تو اس دوران انھیں کام کے حوالے سے خاصی پریشانی اٹھانا پڑی۔

’بطور فری لانس صحافی اگر آپ اپنے کام کے لیے شفٹ پر نہیں آتے تو آپ کو تنخواہ نہیں دی جاتی۔ آپ ایک طویل وقت کے لیے چھٹیاں نہیں لے سکتے کیونکہ آپ نے اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں اور میں دوسروں کو مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہDenise Evans

،تصویر کا کیپشن

فری لانس صحافی ڈینس ایونز کو خدشہ تھا کہ اسقاط حمل کے بعد کام نہ کرنے کی وجہ سے انھیں مالی طور پر نقصان اٹھانا پڑے گا

ڈنیز برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں اور اس کے علاوہ بھی دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی حمل ضائع ہونے یا مردہ بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کو باضابطہ طور پر تنخواہ سمیت چھٹی نہیں دی جاتی۔ اس کے برعکس انھیں اس کے لیے بیماری کی صورت میں مختص کی گئی چھٹیوں یا اپنے افسران کی ہمدردی پر انحصار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ جسمانی اور جذباتی اعتبار سے بہتر محسوس کر سکیں۔

نیوزی لینڈ اس سلسلے میں قانون سازی کرنے والا ایک اور ملک بن گیا ہے اور یہاں کی پارلیمان نے اس قانون کو متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ اس کے مطابق زندگی کے کسی بھی مرحلے پر حمل ضائع ہونے یا مردہ بچے کی پیدائش کے بعد تین روز کی تنخواہ سمیت چھٹی دی جائے گی۔

ڈنیز کا کہنا ہے کہ ’حمل ضائع ہونا کوئی ایک دن میں ختم ہو جانے والا کام نہیں۔ مجھے اس کے جسمانی اثرات مکمل طور پر زائل ہونے میں چھ ہفتے لگ گئے تھے۔ حمل ضائع ہونے کا صدمہ شدید ہوتا ہے اور یہ آپ کو کمزور کر دیتا ہے۔‘

’آپ اس دوران جذباتی اعتبار سے اتنی ساری چیزوں سے گزر رہے ہوتے ہیں کہ (اس طرح کا قانون) آپ کی پریشانیوں میں کمی لا سکتا ہے۔ تین دن بظاہر تو کم لگتے ہیں لیکن یہ پھر بھی معنی رکھتے ہیں۔‘

’آپ بیمار ہونے کے لیے چھٹی مانگ سکتے ہیں لیکن اب آپ کو یہ معلوم ہے کہ اس دوران آپ کی تنخواہ نہیں کٹے گی۔ اس سے ہم آہنگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔‘

یہ قانون صرف نیوزی لینڈ میں ہی نہیں

،تصویر کا ذریعہGraham Eva

،تصویر کا کیپشن

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی کی طرف سے پیش کیا گیا بل متفقہ طور پر منظور ہو گیا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

حمل ضائع ہو جانے پر خواتین کو تنخواہ سمیت چھٹی دینے کا قانون نیوزی لینڈ سے پہلے نکاراگوا، پاناما، موریطانیہ اور انڈونیشیا میں بھی مختلف اشکال میں لاگو ہو چکا ہے لیکن دوسرے ملکوں میں ان چھٹیوں کا دورانیہ مختلف ہے۔

انڈیا میں میٹرنٹی بینفٹ ایکٹ کو اس برس ساٹھ سال مکمل ہو جائیں گے اور یہ اس نوعیت کے قوانین میں صف اول کے قوانین میں شامل ہے جہاں خواتین کو حمل ضائع ہونے کی صورت میں چھ ہفتوں کی تنخواہ سمیت چھٹی دی جاتی ہے اور جو خواتین مزید پیچیدگیوں یا خرابی صحت کا شکار ہو جاتی ہیں ان کو مزید ایک ماہ کی چھٹی مل سکتی ہے۔

بنگلورو میں رہنے والی ایک خاتون پریا شرما کا کہنا ہے کہ یہ قانون اتنا پرانا ہے کہ ہم اسے اب اپنا حق سمجھتے ہیں۔ پریا شرما تین مرتبہ اسقاط حمل سے گزر چکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ علم نہیں تھا کہ نیوزی لینڈ اور دوسرے ملکوں میں اس طرح کے قوانین موجود نہیں اور لوگوں کو اس دوران اپنی بیماری یا دوسری چھٹیاں لینی پڑتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دوسرے شعبوں میں استحصالی اور پدارنہ رویوں کے باوجود یہ قوانین خواتین کے لیے بہت مددگار ہیں۔

وہ ایک بچے کی ماں ہیں لیکن ایک مرتبہ ان کا حمل ضائع ہو گیا اور دو مرتبہ ان کو اپنی زچگی کو ختم کرانا پڑا۔ وہ ایک مقامی کمپنی میں کام کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کے مینیجر ایک مرد ہیں جو بہت تعاون کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب تک آپ کو چھٹیاں کرنی ہیں آپ کر سکتی ہیں اور انھیں چھٹیوں کے بارے میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان کے بقول یہ کسی کی زندگی بچانے کے مترادف ہے۔

چھٹیوں کے بارے میں کوئی پریشانی نہ ہونے کی وجہ سے جلد صحت یابی میں بھی مدد ملتی ہے اور اس دوران انھیں اپنے والدین کے گھر، جو کسی دوسرے شہر میں رہتے ہیں، جانے اور واپس آنے میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

حمل ضائع ہونے جانے کا دھبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دنیا کے کئی معاشروں میں مسکیرج کے بعد خواتین اکیلے اپنی تکلیف سے نمٹتے پر مجبور ہوتی ہیں

خواتین کے صحت کے دیگر مسائل کی طرح حمل ضائع ہونے کے موضوع پر بھی عالمی سطح پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔ چار میں سے ایک زچگی کے دوران 28 ہفتوں سے پہلے ہی حمل ضائع ہو جاتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال 26 لاکھ بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت میں خواتین بچوں اور کم عمر لڑکیوں کی صحت سے متعلق مسائل کی اسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نانو سمیلیلہ کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کے بعد عورت ہر صورت میں ہمدردی اور مدد کی مستحق ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’خواتین کو حمل ضائع ہو جانے پر شدید صدمے اور شرمندگی سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کو اس بارے میں بات بھی نہیں کرنے دی جاتی۔ اس صورتحال میں وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور حتیٰ کہ اپنے شریک حیات سے بھی قطع تعلق کر لیتی ہیں جس سے وہ تناہی کا شکار ہو کر اپنے ہی غم میں پھنس جاتی ہیں۔‘

اتنے صدمات کا یکجا ہونا ہر گز قابل قبول نہیں

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Aya Al-Salchi

،تصویر کا کیپشن

عایا الساچی تین مرتبہ اس تجربے سے گزر چکی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان مسائل پر کھلے عام بات ہونی چاہیے

عایا الساچی حمل ضائع ہونے کے اپنے ذاتی تجربات پر بات کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ وہ اپنے آپ کو بدقسمت تصور کرتی ہیں کیونکہ ان کا پہلا حمل 16 ہفتوں کے بعد ضائع ہو گیا اور ان کو اس کے بعد پوری مدد اور ہمدردی حاصل رہی۔

’ہمیں کہا جاتا ہے کہ حمل ٹھہرنے کے بارہ ہفتوں سے پہلے اس بارے میں کسی سے بات نہ کریں اور میں نے ایسا ہی کیا۔‘

عایا عراق میں پیدا ہوئیں اور ان کا بچپن لیبیا میں گزرا جس کے بعد وہ کینیڈا منتقل ہو گئیں۔

حمل ضائع ہو جانا کوئی اچھی بات نہیں سمجھی جاتی اور انھیں اس کا اسوقت تک اندازہ نہیں تھا جب تک وہ خود اس تجربے سے نہیں گزریں۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں زیادہ بات کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جس معاشرے سے ان کا تعلق ہے وہاں اس کو اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔

عایا نے کہا کہ ان کے ملک اور معاشرت میں جو خواتین ماں بنتی ہیں ان کو بڑے احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جو خواتین ماں نہیں بن سکتیں ان کو لوگ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے جیسے کہ ان میں کوئی نقص ہو۔

’میں حمل ضائع ہو جانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی اور مجھے علم ہے بہت سے لوگوں کے لیے یہ بہت شرم کی بات ہے۔‘

کینیڈا میں موجودہ قوانین کے تحت خواتین 20 ہفتوں سے پہلے حمل ضائع ہو جانے کی صورت میں بیماری کی چھٹیاں لے سکتی ہیں۔ اس کے بعد حمل ضائع ہونے یا مردہ بچے کی پیدائش پر وہ میٹرنٹی کی تمام سہولیات کی مستحق ہوتی ہیں۔

آسٹریلیا میں جن عورتوں کا حمل 12 ہفتوں سے پہلے ضائع ہوتا ہے انھیں بغیر تنخواہ کے چھٹی ملتی ہے لیکن برطانیہ میں 24 ہفتوں کے بعد حمل گر جانے کی صورت میں تنخواہ سمیت چھٹی دی جاتی ہے۔ امریکہ میں جہاں نوکری کے دوران بہت کم چھٹیاں دی جاتی ہیں وہاں آجر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عورت کا حمل گر جانے کی صورت میں اسے چھٹی نہ دے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

نیوزی لینڈ کی رکن پارلیمان گنی اینڈرسن کو امید ہے کہ اس بل کی وجہ سے حمل ضائع ہونے کے بعد کوئی عورت اپنی تکلیف میں اپنے آپ کو بے سہارا محسوس نہیں کرے گی

فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت

عایا جانتی ہیں کہ ان کے آجر کا روبہ بڑا ہمدردانہ تھا ۔ اپنا پہلا حمل گر جانے کے بعد انھوں نے چھٹی لی لیکن اس کے بعد دو مرتبہ جب انھیں دوبارہ اس تلخ تجربے سے گزرنا پڑا جو رات کے وقت ہوا تو انھوں نے دوسرے دن گھر سے کام کرنے کے لیے اپنی حاضری لگا دی۔

نیوزی لینڈ میں متعارف کرایا جانے والا یہ قانون مثبت ہے کیونکہ اس سے خواتین کو اس بارے میں بات کرنے کا حوصلہ ملے گا اور اس سے شرمندگی کا پہلو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ان کے اس قانون کی تعریف کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے بات کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

یہ ایک عام بات ہے اور خواتین کو اس سے نکلنے اور صحت یاب ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ ایک محظ اتفاق ہے کہ اس قانون کو نیوزی لینڈ میں ایک خاتون رکن پارلیمان جنی اینڈرسن نے پیش کیا اور خاتون وزیراعظم نے منظور کیا۔

عایا نے کہا کہ عالمی سطح پر اس بات پر بحث کی جا رہی ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں خواتین کو شامل کیا جانا چاہیے اور کس طرح خواتین پالیسیوں کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

عایا کے خیال میں خواتین کی پالیسی سازی میں شمولیت انتہائی ضروری ہے خاص طور پر ان سے متعلق مسائل کے حل کے لیے قانون سازی میں۔

’نیوزی لینڈ نے ایک مثال قائم کی ہے۔ جیسنڈا آرڈن ایک بااختیار وزیر اعظم ہیں اور میری خواہش ہے کہ ہم ان جیسی ایک اور بنا سکیں۔‘

نیوزی لینڈ کی رکن پارلیمان گنی اینڈرسن نے بی بی سی کو بتایا کے حمل ضائع ہونا ایک دھبے کی طرح ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو خاموشی سے اذیت برادشت کرنا پڑتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے بہت سے ایسی کہانیاں سنی ہیں جہاں عورتوں اور مردوں دونوں کو اس اذیت سے گزرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کی مثالیں بھی ہیں کہ دوسرے دن ہی خواتین کو کام پر حاضر ہونا پڑا ہو جبکہ کچھ آجر اچھے ہوتے ہیں وہ چھٹیاں دے دیتے ہیں لیکن قانون میں اسے حق کے طور تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

ان کے خیال میں اس قانون نے یقنی طور پر ایک موقع فراہم کیا ہے کہ اس موضوع پر بات کرنے کا حوصلہ پیدا ہو اور اسقاط حمل اور مردہ بچوں کی پیدائش جیسے مسائل پر آگاہی اور ذہنی وسعت پیدا ہو۔