نہر سوئز میں پھنسا بحری جہاز ’سیدھا کر لیا گیا‘، گزرگاہ خالی کرنے میں وقت لگ سکتا ہے

نہر سوئز

،تصویر کا ذریعہInstagram/geografiageral

نہر سوئز کے بیچ تقریباً ایک ہفتے سے پھنسے ہوئے بحری جہاز کو زمین کی گرفت سے آزاد کروا لیا گیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق 400 میٹر لمبے اس بحری جہاز کو موڑ کر سیدھا کر لیا گیا ہے اور نہر کے کنارے سے جہاز کا سامنے کا حصہ علیحدہ ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی ہے جس میں جہاز کو ایک بار پھر نہر میں تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم بعد میں جہاز کے مالک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک جہاز کا صرف رخ موڑا جا سکا ہے۔

اس بحری جہاز کے پھنسنے سے نہر سوئز، جو کہ دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، بری طرح بلاک ہو گئی اور جہاز رانی کی کمپنیوں کو اپنے بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرنا پڑا جس کی وجہ سے عالمی سطح پر سامان کی آمد و رفت میں تاخیر آئی ہے۔

اس وقت 300 سے زائد دیگر بحری جہاز نہر سوئز کی دونوں جانب رکے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اتوار کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے سوئز کینال اتھارٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جہاز کے بالکل اگلے حصے کے عین نیچے ایک بڑی چٹان دریافت ہوئی ہے جس کی وجہ سے جہاز کو نکالنے کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔

تاہم اب یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ نہر میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کچھ ہی دیر میں بحال ہو سکے گی جس کے بعد تقریباً 9.6 ارب ڈالر یومیہ کے رکے ہوئے سامان کی ترسیل کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

سوئز کنال حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کی سمت کو 80 فیصد درست کر لیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نہر میں تیرنے کے قابل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

حکام کا مزید کہنا ہے کہ جیسے ہی جہاز کو کنارے سے ہٹا کر ایک مخصوص مقام پر لے جایا جائے گا، نہر میں آمد و رفت کا سلسلہ بحال ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ ایور گیوِن نامی یہ عظیم الجثہ بحری جہاز منگل سے نہر سوئز کے بیچ پھنسا ہوا ہے اور سنیچر کو اونچی لہروں کے دوران اسے نکالنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہے۔

دوسری جانب مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے حکم دیا ہے کہ پھنسے ہوئے بحری جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے اس سے کنٹینر اتارنے کی تیاریاں شروع کی جائیں۔

اس کام کے لیے کنٹینرز کو کسی اور جہاز پر لادا جائے گا یا نہر کے کنارے پر اتار دیا جائے گا۔

برطانوی چیمبر آف شپنگ کے صدر جان ڈینہوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹینروں کو دوسرے جہاز میں منتقل کرنے کے لیے حکام کو ایسی کرین لانی ہوں گی جو کہ دو سو فٹ کی اونچائی تک پہنچ سکیں۔

،تصویر کا ذریعہVesselFinder

،تصویر کا کیپشن

جہاز کے اگلے حصے کو نہر کے کنارے سے تقریباً 100 میٹر دور سرکایا جا چکا ہے

’اگر ہم منتقل کرنے کے عمل میں لگ جاتے ہیں تو اس میں کئی ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔‘

سنیچر کے روز اس جہاز کو نکالنے کے لیے ہزاروں ٹن ریت کینال کے کنارے سے ہٹائی جاتی رہی اور اسے کھینچنے کے لیے بلند لہروں کے وقت 14 چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔

تیز ہواؤں اور لہروں کے باعث یہ عمل اور بھی پیچیدہ ہوگیا تاہم سوئز کینال اتھارٹی کے چیئرمین جنرل اوسامہ ربی نے بتایا کہ چھوٹی کشتیاں جہاز کو دونوں جانب سے تقریباً 30 ڈگری تک سرکانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے چھوٹی کشتیاں ہارن بجا کر اس چھوٹی سی کامیابی کا جشن منا رہی ہیں۔

تاہم حکام نے کہا ہے کہ اس عمل میں تھوڑی بہت پیشرفت ہوئی ہے اور انھیں امید ہے کہ اتوار کی شام تک جہاز کو وہاں سے نکال لیا جائے گا۔

کچھ بحری جہازوں نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے افریقہ کے گرد سے گھوم کر جانے والا سمندری راستہ اختیار کر لیا ہے۔

نہر سوئز اتنی اہم کیوں ہے؟

دنیا بھر میں ہونے والی تجارت کا 12 فیصد حصہ سوئز کینال سے ہو کر گزرتا ہے۔

یہ کینال نہ صرف بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو آپس میں جوڑتا ہے بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر ترین سمندری راستہ بھی ہے۔

تجارت کے لیے متبادل راستہ کیپ آف گُڈ ہوپ ہے جو کہ افریقہ کے انتہائی جنوب میں ہے تاہم یہ راستہ نہر سوئز کے مقابلے میں دو ہفتے زیادہ وقت لیتا ہے۔

لوئڈز لسٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بحری جہاز کے پھنس جانے سے ہر روز نو اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا سامان رُک رہا ہے جو کہ ایک گھنٹے میں 40 کروڑ ڈالر کے برابر ہے۔

جنرل اسامہ ربی نے بتایا کہ اس نہر کی بندش کی وجہ سے مصر کو روزانہ ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مصر، امریکہ، چین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے دی جانے والی مدد کا شکر گزار ہے۔

شام کے حکام نے نہر سوئز میں ٹریفک پھنس جانے کے بعد ایندھن کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس جنگ زدہ ملک کو پہلے ہی بجلی کی کمی اور مہنگائی کا سامنا ہے۔

کیا کوئی متبادل راستہ ہے؟

اگر ریت کو ہٹانے اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بحری جہاز کو نکالنے کا عمل ناکام ہوجاتا ہے تو امدادی ٹیم کو جہاز سے کچھ کنٹینر نکالنے پڑیں گے۔

جنرل اسامہ ربی نے کہا ہے کہ پھنسے ہوئے بحری جہاز کے نیچے سے پانی گزرنا شروع ہو گیا ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ہم امید کررہے ہیں کہ یہ بحری جہاز کسی بھی وقت وہاں سے پھسل کر باہر نکل آئے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اس بحری جہاز کو ہلکا کرنے کے لیے جہاز پر لدے ہوئے 18 ہزار 300 کنٹینروں کو جہاز سے اتارا نہیں جائے گا۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق دو لاکھ ٹن وزنی اور 400 میٹر لمبائی والے اس بحری جہاز کے پھنسنے کی وجہ تیز ہوائیں اور ریت کا طوفان تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

تاہم جنرل ربی کا کہنا ہے کہ موسمی حالات جہاز کے پھنسنے کی 'مرکزی وجہ‘ نہیں تھے۔

'ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ تکنیکی مسائل یا انسانی غلطیاں ہوں، لیکن یہ سب ہمیں تفتیش کے بعد پتہ چلے گا۔‘

ایور گیوِن بحری جہاز کو تائیوان سے تعلق رکھنے والی کمپنی ایورگرین میرین چلاتی ہے جبکہ اس کی مالک جاپانی کمپنی شاؤ کسین ہے۔

شاؤ کسین کمپنی کے صدر یوکیٹو ہیگاکی نے جمعے کے روز کہا کہ جہاز کو نقصان نہیں پہنچا اور ایک بار جہاز اس جگہ سے نکل گیا تو دوبارہ چلنا شروع ہو جائے گا۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

اس بحری جہاز کے پھنسنے کی خبر نے ٹوئٹر پر مسلسل کئی روز سے دھوم مچائی ہوئی ہے۔ کئی صارفین جہاں جہاز کی بخیریت واپسی کی امید کر رہے ہیں وہیں کچھ افراد اس حوالے سے طنز و مزاح اور میمز بھی پوسٹ کررہے ہیں اور پاکستانی صارفین بھی اس کام میں پیش پیش ہیں۔

ایک پاکستانی صارف زوہیر نانجیانی نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہمارے ڈپٹی کمشنروں کو بھیجیں تاکہ وہ سوئز نالے کو چوڑا کرنے کے لیے گھنٹوں کے اندر وہاں سے تجاوزات کا خاتمہ کریں۔ اس کے بعد وہ سیوریج لائنوں کا رخ یہاں موڑ سکتے ہیں تاکہ کینال میں جہاز کو اونچا کرنے کے لیے مزید پانی آ جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@znanjiani

ایک اور صارف ارحم نے لکھا کہ پاکستانی حکومت کو نہر سوئز پر انڈر پاس یا اوور پاس بنانے کی پیشکش کرنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@arhumI92

ایک صارف نے مشورہ دیا کہ کنگ کانگ اور گوڈزیلا اس جہاز کو مل کر اٹھا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@aqibdar53

تو ایک صارف سوال کرتے ہوئے نظر آئے کہ کیا جہاز کے نیچے مکھن رکھ کر پھسلانے کی کوئی کوشش کی گئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@cheryleosborne

لیکن ان طنز و مزاح سے بھری ٹویٹس کے درمیان کچھ سنجیدہ تبصرے بھی تھے۔ ایک پاکستانی صارف عامر کھوکر نے لکھا کہ سوئز کینال جیسے واقعات مستقبل میں بھی پیش آئیں گے اور اسی وجہ سے ہمیں ایک متبادل راستے کی ضرورت ہے جو کہ پاکستان ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@aamir_rk_