برازیل: خاتون صحافی پر خبر حاصل کرنے کے لیے سیکس کی پیشکش کا الزام صدر بولسونارو کو مہنگا پڑ گیا

برازیل

،تصویر کا ذریعہEPA

برازیل کی ایک عدالت نے ملک کے صدر کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک صحافی کو ہرجانے کے طور پر 20 ہزار ریائیس (ساڑھے تین ہزار ڈالر) ادا کریں۔

برازیلی صدر ہئیر بولسونارو نے گذشتہ برس خاتون صحافی پیٹریشیا کیمپوس میلو پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے ایک شخص کو صدر کے بارے میں منفی معلومات فراہم کرنے کے بدلے میں سیکس کی پیشکش کی تھی۔

فیصلہ دینے والے جج کا کہنا تھا کہ صدر کے بیان کے بعد ان صحافی کی عزت اور وقار مجروح ہوا۔ جج نے برازیلی صدر کو ہرجانے کی مد میں ساڑھے تین ہزار ڈالر کے مساوی رقم دینے کا فیصلہ سنایا۔

صدر بولسانارو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

برازیلی صحافی کیمپوس ایک ایوارڈ یافتہ صحافی ہیں جو کہ برازیلی روزنامہ فولہا ڈی ساؤ پاؤلو کے لیے کام کرتی ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ تمام خواتین کے لیے جیت کی علامت ہے۔

صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے ہراسانی کے واقعات کے خلاف مصروفِ عمل ادارے جرنلسٹ اگینسٹ ہریسمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ برازیل میں کام کرنے والی خواتین رپورٹرز اور صحافت کے لیے ایک بڑا دن ہے۔

ہئیر بولسانارو برازیل کے دائیں بازو کے قدامت پسند صدر ہیں جو کہ اس عہدے پر جنوری 2019 سے فائز ہیں۔ وہ ان صحافیوں کے خلاف عام طور پر جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جو کہ ان کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔

کیمپوس میلو نے فروری 2020 میں صدر کے ان کے بارے میں بیان کے بعد قانونی چارہ جوئی شروع کی۔

روزنامہ فولہا نے صدر پر الزام لگایا کہ انھوں نے مس کیمپوس کی تضحیک کی اور جنسی طور پر ذو معنی الفاظ استعمال کیے۔

اخبار نے صدر بولسونارو کا بیان بھی شائع کیا جس میں صدر کا کہنا ہے کہ اس صحافی کو ان سے متعلق ’کسی بھی قیمت پر ایک بڑی خبر چاہیے تھی۔‘

کیمپوس نے 2018 میں تحقیقاتی خبروں کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس میں صدر پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے صدارتی انتخابات کے دوران واٹس ایپ کے ذریعے اپنے مخالفین کے خلاف مہم جاری کر رکھی تھی۔

جنوری میں کیمپوس نے اسی نوعیت کے ایک اور کیس میں صدر کے بیٹے کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔ ایڈورڈو بولسونارو جو کہ برازیلی پارلیمان کے رکن ہیں، نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ کیمپوس نے ایک شخص کو ’جنسی طور پر لبھانے کی کوشش کی‘ تاکہ وہ انھیں ان کے والد کے خلاف معلومات فراہم کرسکے۔

اس واقعے کے بعد جج نے کہا کہ اس طرح کا تبصرہ اس صحافی کے عزت و وقار پر حملہ ہے اور صدر کے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ کیمپوس کو پانچ ہزار دو سو ڈالر کے لگ بھگ ہرجانہ ادا کریں۔