برطانیہ کا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ: کورونا کی وبا میں پاکستان آنے والوں کو یہ دورہ کتنا مہنگا پڑنے والا ہے؟

  • منزہ انوار
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کورونا، ائیرپورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’روز بیگم کہتی تھیں کہ ٹکٹ کراؤ اور واپس چلو ورنہ پاکستان ریڈ لسٹ میں آ جائے گا۔ ہفتہ پہلے ٹکٹ کروایا اور آج یو کے نے ریڈ لسٹ میں ڈال دیا۔ دو مہنگی ٹکٹس کے پیسے پہلے دے چکا ہوں اب ہوٹل کے 1750 پاؤنڈ بھی بھرنے پڑیں گے۔‘

یہ الفاظ فہیم تنولی کے ہیں۔ فہیم برطانیہ میں ایک کینیڈین کمپنی کام کے ساتھ بطور انجینئر کام کرتے ہیں اور آج کل اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ پاکستان کے دورے پر ہیں۔

فہیم برطانیہ میں ٹائر ٹو ویزے پر ہیں اور انھیں ہر صورت میں مئی سے پہلے برطانیہ پہنچنا ہے لیکن اب وہ پھنس گئے ہیں۔۔۔

اگر وہ مہنگا ٹکٹ خرید کر واپس جاتے ہیں تو انھیں اپنے علاوہ، اپنی اہلیہ اور بیٹے کے مہنگے ٹکٹوں کے علاوہ قرنطینہ کا خرچہ بھی اٹھانا ہو گا جو 1750 پاؤنڈ فی فرد ہے۔ اگر آپ کا خاندان ساتھ ہے تو اس رقم میں کچھ رعایت بھی کی جاتی ہے۔

اس کے باوجود یہ رقم اتنی زیادہ ہے کہ فہیم ادا نہیں کر سکتے لہذ انھوں نے بیوی اور بیٹے کو پاکستان چھوڑ کر اکیلے ہی برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فہیم اور ان کا خاندان ان پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے کسی بیمار عزیز سے ملنے یا کسی شادی میں شرکت کی غرض سے یا برطانیہ میں لاک ڈاؤن سے تنگ آ کر پاکستان میں آزادی سے چند دن گزارنے کا فیصلہ کیا اور اب برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد شہریت نہ ہونے کی صورت میں وہ واپس نہیں جا سکتے یا اگر ان کے پاس برطانیہ کی شہریت یا ریزیڈنسی ویزا ہے تو اس صورت میں بھی انھیں ہوٹل میں قرنطینہ کا خرچہ خود اپنی جیب سے ادا کرنا ہو گا جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

یاد رہے پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر برطانوی حکومت نے گذشتہ روز پاکستان سمیت چار ممالک پر 9 اپریل سے سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری میں 32 ہزار افراد نے برطانیہ سے پاکستان کا سفر کیا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

نئے قواعد کے تحت صرف ان پاکستانیوں کو ہی برطانیہ میں داخلے کی اجازت ملے گی جن کے پاس برطانیہ کی شہریت یا وہاں کا ریزیڈنسی ویزا ہے اور ان کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ ان افراد کو برطانیہ پہنچنے پر 10 دن کے لیے اپنے خرچ پر لازمی قرنطینہ میں بھی رہنا ہو گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں انھیں دس ہزار پاؤنڈ جرمانے یا 10 سال تک قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اور جن پاکستانیوں کے پاس برطانیہ کی شہریت نہیں وہ ان سفری پابندیوں کے اٹھائے جانے تک واپس برطانیہ نہیں جا سکتے۔

کئی امارتی ائیر لائنز پر پابندی اور موجود صورتحال کے پیشِ نظر برطانیہ کے ہوائی ٹکٹ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہیں ہیں اور پاکستان سے واپس جانے والوں کو مہنگے ٹکٹ خریدنے، کورونا ٹیسٹوں کی فیس کے علاوہ اب 10 روز قرنطینہ کا خرچہ بھی دینا پڑے گا۔

بی بی سی نے پاکستان کے دورے پر آئے ایسے ہی چند افراد سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کا یہ دورہ انھیں کتنا مہنگا پڑنے والا ہے۔

فہیم کا کہنا ہے کہ وہ چند مہینے قبل اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ پاکستان آئے تھے اور اس وقت ان کے واپسی کے ٹکٹ اتحاد ائیر لائن کے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ وہ ایبٹ آباد میں اپنے گھر سے کام کرنے کے قابل تھے لہذا اتحاد ائیر لائن پر پابندی لگنے کے بعد انھوں نے اس امید پر اپنے قیام کی مدت بڑھا دی تھی کہ شاید صورتحال تبدیل ہو جائے۔

فہیم کے مطابق وہ برطانیہ میں ٹائر ٹو ویزا پر ہیں اور زیادہ سے زیادہ چھ میہنے ہی قیام کر سکتے ہیں یعنی انھیں مئی سے قبل برطانیہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے اتحاد ائیر لائن کا ٹکٹ ضائع ہونے کے بعد چند دن قبل انھوں نے برٹش ائیر ویز کا ٹکٹ خریدا۔

انھوں نے بتایا کہ برٹش ائیر کے ٹکٹ بھی تین، تین لاکھ کے ہیں لیکن انھیں خوش قسمتی سے 80 ہزار کا ٹکٹ مل گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ویزے کی وجہ سے اب میں مجبور ہوں اور مجھے ہر حال میں چھ مہینے کی مدت ختم ہونے سے قبل برطانیہ واپس جانا ہے۔ 1750 پاؤنڈ کی رقم میری تنخواہ کا تیسرا حصہ ہے اور اگر میں سارے پیسے انھی چیزوں (ٹکٹ، ٹیسٹ اور قرنطینہ کا خرچہ) کے دے دوں گا تو پیچھے کیا بچے گا۔‘

فہیم کا کہنا ہے کہ انھیں اس نئی پابندی کی منطق سمجھ نہیں آئی ’اگر آپ یہاں سے ایک ٹیسٹ کروا رہے ہیں، وہاں پہنچے پر ٹیسٹ ہو رہے ہیں جن کے پیسے آپ کو یہیں سے ادا کر کے جانا ہیں اور جب گھر میں قرنطینہ کیا جا سکتا ہے تو لازمی ہوٹل قرنطینہ کی کیا ضرورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ بتاتے ہیں کہ میری بیگم سخت غصے میں ہیں ’وہ مجھے کہتی رہی کہ کسی بھی وقت پابندی لگ سکتی ہے، ٹکٹ کر وا لو واپس چلتے ہیں لیکن چونکہ گھر سے کام چل رہا تھا تو میں یہی سوچتا رہا کہ جب تک لاک ڈاؤن ہے، میں کم از کم یہاں اپنے خاندان کے ساتھ کچھ اچھا وقت بتا سکتا ہوں۔‘

مہنگے ٹکٹوں، کورونا ٹیسٹوں کی قیمتوں اور قرنطینہ کی بھاری رقم کے پیشِ نظر فہیمم نے اکیلے ہی برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی اہلیہ اور بیٹے کو صورتحال بہتر ہونے تک یہیں رہنا پڑے گا۔

لیکن یہ صرف فہیم کی کہانی نہیں۔ برطانیہ سے اپنے بیمار والدین سے ملنے اور کاروباری وجوہات کے باعث آنے والے سلمان اشتیاق اور ان کی اہلیہ بھی ان افراد میں شامل ہیں۔

یہ دونوں برطانوی شہری ہیں اور تین ہفتے قبل پاکستان پہنچے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پی آئی اے پر پہلے سے پابندی تھی، پھر اتحاد، قطر اور اماراتی ائیر لائن وغیرہ سب پر پابندی لگ گئی اور ایسے میں سب سے پہلی مشکل تو یہ ہے کہ ہمیں برٹش یا ورجن ائیر کا ٹکٹ لینا پڑ رہا ہے اور ان ائیر لائنز کی اول تو سیٹیں ہی نہیں مل رہیں اور جو مل رہی ہیں وہ انتہائی مہنگی ہیں اور صرف ایک طرف واپسی کے ٹکٹ کی قیمت ریٹرن ٹکٹ سے بھی زیادہ ہے۔‘

تو کیا کچھ عرصہ برطانیہ واپسی کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا؟ اس کے جواب میں سلمان کہتے ہیں کہ ’میری کام کے حوالے سے کمٹمنٹس ہیں اور میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ دیر کر سکتا ہوں اور اس کے بعد مجھے ہر صورت میں واپس جانا ہے اور اپنا اور اپنی اہلیہ کے قرنطینہ کی رقم ادا کرنا پڑے گی۔‘

ہم نے سلمان سے پوچھا کہ کیا وہ ان نئی پابندیوں کو جائز سمجھتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ جس وقت برطانیہ سے غیر ضروری سفر پر پابندی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کافی خطرناک ہو سکتی ہے، اس وقت پاکستانی وہاں سے چھٹی منانے، شادیوں میں شرکت اور لاک ڈاؤن سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں یہاں آ گئے کیونکہ شادیوں کا سیزن چل رہا تھا لہذا پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے پیشِ نظر یہ توقع تو کی جا رہی تھی کہ برطانیہ ایسی پابندیاں لگا سکتا ہے۔‘

’برطانیہ نے پچھلے پانچ سے چھ مہینے سے مکمل لاک ڈاؤن اور بڑی مشکل سے صورتحال کو کچھ حد تک قابو کیا ہے اور اب جب اتنے زیادہ زیادہ لوگ پاکستان سے واپس برطانیہ میں داخل ہونا چاہیں گے تو برطانوی حکومت انھیں کیسے اجازت دے سکتی ہے۔‘

سلمان کے مطابق ائیر لائن کے مہنگے ٹکٹ، کورونا ٹیسٹ کی قیمت 250 پاؤنڈ کے علاوہ جہاں تک 1750 پاؤنڈ قرنطینہ کا خرچہ ادا کرنے کی بات ہے، وہ اسے بالکل جائز نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گھر میں قرنطینہ کیا جا سکتا ہے یہ ہوٹل میں قرنطینہ اور وہ بھی اتنی زیادہ رقم۔۔۔ بہت عجیب سے قواعد ہیں لیکن مجبوری ہے عمل تو کرنا پڑے گا۔‘

ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ بعض پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے کووڈ کے دوران سفر کی جائز یا قانونی وجوہات کی شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری میں 32 ہزار افراد نے برطانیہ سے پاکستان کا سفر کیا۔

اس کے بعد گڈ فرائیڈے اور ایسٹر کی چھٹیوں پر ہزاروں افراد پاکستان آئے ہیں۔

مجبوری یا شادی میں شرکت یا محض چھٹی گزارنے کی غرض سے آنے والے سبھی افراد موجود صورتحال میں نو اپریل سے پہلے پہلے برطانیہ پہنچنا چاہ رہے ہیں لیکن ہوائی ٹکٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق غیر ملکی ائیرلائنز کی جانب سے ایک طرف کے ٹکٹ کی قیمت تین لاکھ 50 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔

پی آئی اے کے سی ای او کا کہنا ہے کہ حکومتی ہدایات پر انھوں نے 9 اپریل سے پہلے اپنی پروازوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔ سی ای او ارشد ملک کے مطابق اضافی پروازوں کے ساتھ اب 4 تا 9 اپریل پی آئی اے کی پانچ پروازیں برطانیہ کے لیے روانہ ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اضافی پروازوں کا مقصد تارکین وطن کی مشکلات آسان کرنا اور کرایوں کو کنٹرول کرنا ہے۔

تاہم اسلام آباد میں ایک ٹریول ایجنسی سے وابستہ فیضان نے بی بی سی کو بتایا کہ پی آئی کی دو فلائٹس لگی ہیں لیکن ان میں ٹکٹ کی فروخت بند ہے۔

فیضان کے مطابق برٹش اور ورجن ائیر کے علاوہ ترکی اور گلف کی ان ڈائریکٹ فلائٹس، ان چاروں میں سے فی الحال اول تو کسی ائیر لائن کا کوئی ٹکٹ نہیں مل رہا اور اگر ہے بھی تو ترکی اور گلف کی ان ڈائریکٹ فلائٹس میں ایک طرف کے اکانومی ٹکٹ کی قیمت اس وقت دو لاکھ 80 ہزار سے شروع ہو رہی ہے جبکہ بزنس کلاس کی قیمت ساڑھے چار سے پانچ لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

اور برٹش اور ورجن کے اکانومی ٹکٹ کی قیمت تین لاکھ 50 ہزار سے شروع ہو رہی ہے۔

دوسری جانب ورجن ائیر کے مطابق لاہور اور اسلام آباد سے لندن اور ہیتھرو کی پروازیں 9 اپریل تک معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور اس کے بعد شیڈول میں تبدیلی زیرِ غور ہے۔

ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والوں کے لیے قرنطینہ قواعد کیا ہیں؟

ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے مسافروں کو قرنطینہ ہوٹلوں میں قیام کے لیے 1750 پاؤنڈ فی فرد کی رقم ادا کرنا ہو گی۔

مسافروں کو برطانیہ پہنچنے سے قبل بکنگ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے قرنطینہ ہوٹل میں کمرا بک کروانا ہو گا۔

کسی ایک فرد کے لیے قرطینہ ہوٹل کی فیس 1750 پاؤنڈ ہے جس میں ٹرانسپورٹ اور ٹیسٹوں کی لاگت بھی شامل ہے۔ ایک اضافی بالغ یا 12 سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے یہ فیس 650 پاؤنڈ ہے اور پانچ سے 12 سال تک کے بچے کے لے 325 پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔

سرکاری طور پر منظور شدہ ہوٹل میں قرنطینہ نہ کرنے کی صورت میں مسافروں کو دس ہزار پاؤنڈ تک جرمانے یا 10 سال قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سکیرٹری صحت میٹ ہینکوک کے مطابق ایئر لائنز اور ٹریول کمپنیوں کو قانونی طور پر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مسافروں نے روانگی سے قبل نئے اقدامات کے لیے معاہدہ کرلیا ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں ائیر لائن کمپنیوں اور مسافروں پر جرمانہ عائد ہو گا۔

برطانیہ کا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ

گذشتہ روز برطانوی شہریوں کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچانے کے لیے حکومت نے فلپائن، پاکستان، کینیا اور بنگلہ دیش پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان چار ممالک کو انگلینڈ کی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچایا جا سکے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگلے جمعہ (9 اپریل) سے ان ممالک سے آنے والے مسافروں پر سفری پابندی نافذ ہوگی۔

یاد رہے برطانیہ کی اس ریڈ لسٹ میں 35 ممالک شامل ہیں اور 9 اپریل کے بعد ان کی تعداد 39 ہو جائے گی۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک سے آنے والے ایسے افراد جن کے پاس برطانیہ یا آئرلینڈ کی شہریت موجود ہو یا کسی تیسرے ملک کے ایسے شہری جن کے پاس برطانیہ کا ریزیڈنسی ویزا موجود ہو، انھیں برطانیہ پہنچے پر 10 دن تک سرکاری طور پر منظور شدہ ہوٹل میں لازمی قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نئے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کون کون سے افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے؟

ایسے افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے جو برطانیہ یا آئرلینڈ کی شہریت رکھتے ہیں یا جن کے پاس برطانیہ کا ریزیڈینسی ویزا موجود ہے۔

ان افراد کو برطانیہ پہنچنے پر 10 دن تک ہوٹل میں لازمی قرنطینہ میں رہنا ہو گا اور اس کا خرچہ بھی خود ادا کرنا ہو گا۔

برطانوی شہریوں کے پاکستان کا سفر کرنے سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کریسچئن ٹرنر کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بیرونِ ملک سے آنے والوں پر سختی سے نظر رکھے ہوئے ہے لہذا صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ’ریڈ لسٹ‘ یعنی ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن پر سفری پابندیاں عائد ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازیں جاری رہیں گی تاہم ان کے شیڈول میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

،تصویر کا ذریعہ@baewellmm & @salaaamah

پاکستان میں سوشل میڈیا پر بیشتر افراد برطانوی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔

کئی صارفین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستانی حکومت کو اس وقت لینا چاہیے تھا جب برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم سامنے آئی تھی اور برطانیہ سے پروازوں پر اسی وقت پابندی لگا دیتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہ@wasifch21

جبکہ کئی ایسے بھی ہیں جو سفری پابندی کو جائز مانتے ہیں۔

شاہ نامی صارف نے لکھا: ’میں یہاں رہتا ہوں اور اس وقت بغیر وجہ یو کے سے باہر جانے پر 5000 پاؤنڈ جرمانہ ہے مگر اپنے لوگ سفر کے لیے ڈاکٹر عدنان جیسے لوگوں سے جھوٹے ٹیسٹ اور رپورٹیں لیے بیٹھے ہیں۔ اسی لیے اب یہ قانون لایا گیا کہ ہوٹل قرنطینہ کروا کر اس امیر قوم سے پیسے کمائے جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@mahmood95089319

کچھ افراد پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کریسچئن ٹرنر اور وفاقی وزیر زلفی بخاری سے بھی مدد مانگتے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہ@Azhar54762366

دوسری جانب کچھ صارفین برطانوی حکومت کے اس فیصلے کو متعصبانہ مانتے ہیں اور انھیں اس بات پر زیادہ غصہ ہے کہ انڈیا میں کورونا کے زیادہ متاثرین سامنے آ رہے ہیں تو انڈیا کو ریڈ لسٹ میں کیوں نہیں ڈالا۔

بریڈ فورٹ سے برطانوی ایم پی ناز شاہ نے اس حوالے سے برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب کو لکھا گیا ایک خط بھی شئیر کیا ہے۔