پرنس فلپ: ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا کی وفات، برطانیہ بھر میں توپوں کی سلامی پیش کی گئی

فلپ

جمعے کی صبح کو بکنگھم پیلس کی جانب سے ملکہ برطانیہ کے شوہر پرنس فلپ 99 برس کی عمر میں وفات کا اعلان کیا گیا اور بی بی سی کے شاہی نامہ نگار نکولس وِچل کے مطابق ایک ڈیوک کی وفات کے بعد کیا ہوتا ہے، اس کی کچھ تفصیلات سنیچر کو منظر عام پر آئیں گی۔

گذشتہ روز بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا جاری پیغام میں بتایا گیا کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ ملکہ برطانیہ کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ان کے ہردلعزیز شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ وفات پا گئے ہیں۔‘

سنیچر کے روز برطانیہ اور جبرالٹر میں برطانوی وقت 12 بجے ڈیوک آف ایڈنبرا کو توپوں کی سلامی دی گئی۔ سنیچر کو جن مقامات پر توپوں کی سلامی دی گئی ان میں لندن میں ٹاور آف لندن اور وولوچ بیرکس کے علاوہ بیلفاسٹ، کارڈف، ایڈنبرگ، پورٹس ماؤتھ اور ڈیون پورٹ شامل ہیں۔

توپوں کی سلامی میں 40 منٹ کے لیے ہر ایک منٹ میں ایک راؤنڈ (کل 41 راؤنڈز) فائر کیے گئے۔ جنگی بحری جہازوں ایچ ایم ایس ڈائمنڈ اور ایچ ایم ایس مونٹ روز سمیت سمندری بحریہ کے جہازوں نے بھی ڈیوک آف ایڈنبرا کو توپوں کی سلامی دی۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیوک آف ایڈنبرا نے دوسری جنگ عظیم کے دوران بحریہ کے افسر کی حیثیت سے نیوی میں خدمات انجام دیں تھیں۔

عوام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے گھروں، آن لائن یا ٹی وی سے بندوقوں کی سلامی کے مناظر دیکھیں۔

سنیچر کو ملک بھر کے کھیل کے میدانوں میں ڈیوک آف ایڈنبرا کی وفات پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور کھلاڑیوں نے بازؤں پر کالی پٹیاں بھی باندھی۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

ارل آف ویسیکس شہزادہ ایڈورڈ اور ان کی اہلیہ کونٹس آف ویسیکس صوفیا نے ونڈزر محل میں ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی۔ سنیچر کی صبح اس جوڑے نے تقریباً ایک گھنٹے تک ملکہ برطانیہ کے ساتھ وقت گزارا۔

،تصویر کا ذریعہPA Media

آگے کیا ہونے والا ہے؟

پیر کو ہاؤس آف کامنز میں ممبران اسمبلی ڈیوک کو خراج تحسین پیش کریں گے۔

تدفین کے اگلے دن برطانوی وقت کے مطابق آٹھ بجے تک تمام سرکاری عمارتوں پر یونین اور قومی جھنڈے سرنگوں رہیں گے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ملکہ برطانیہ اب حکومت کی موجودہ ہدایات اور سماجی دوری کے رہنما قواعد کے مطابق آخری رسومات اور تدفین میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

ونڈزر کاسل کے باہر کیا مناظر ہیں؟

بی بی سی کی نامہ نگار برائے شاہی امور سارہ کیمبل کے مطابق شاہی اور سرکاری عمارتوں پر تو یونین جیک سرنگوں ہیں لیکن ونڈزر پیلس میں ایسا نہیں اور یہاں پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوتا۔

ملکہ محل میں مقیم ہیں اور سوگ میں ہیں لیکن انھیں تدفین کے انتظامات کے بارے میں فیصلے کرنے ہیں۔ جیسے ہی انھوں نے ان منصوبوں کی منظوری دی ہے، ان کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

شاہی خاندان کی جانب سے ڈیوک کی وفات کی خبر جاری کیے جانے کے بعد لوگ ونڈزر کاسل کے دروازوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ رات پیلس کے دروازوں کے باہر جو پھولوں رکھے گئے تھے وہ کل رات پیلس کے اندر لے جائے جا چکے ہیں۔

پھول لانے کے بجائے خیراتی ادارے کو عطیہ کرنے کی درخواست کے باوجود، آج صبح کئی اور گلدستے گیٹ کے باہر رکھے گئے ہیں۔ عوام ملکہ اور ملک کی خدمت میں طویل زندگی گزارنے والے شہزادہ فلپ کی خدمات کی معترف ہے۔

اس گلدستوں پر ایک پیغام میں لکھا ہے: ’غیر معمولی آدمی، غیر معمولی زندگی، قومی ہیرو۔۔۔ مزید کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان پھولوں کے ساتھ لگے ایک کارڈ پر لکھا تھا ’ریسٹ اِن پیس شہزادہ فلپ۔‘ ایک اور کارڈ میں ملکہ برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

ڈیوک آف ایڈنبرا کی وفات کے اعلان کے بعد محل کے دروازے پر ان کی وفات کا نوٹس چسپاں کر دیا گیا۔

ڈیوک کی وفات کے ردعمل میں ونڈزر میں سوگ کا ماحول ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں انھوں نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے۔ انھوں نے اپنے آخری ایام اپنی اہلیہ یعنی ملکہ برطانیہ کے ہمراہ گزارے۔

شہزادہ فلپ نے شہزادی الزبتھ سے سنہ 1947 میں ان کے ملکہ بننے سے پانچ برس قبل شادی کی تھی اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیر تک قائم رہنے والا شاہی جوڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

پرنس فلپ کی وفات کی خبر ملتے ہی سوگوران بکنگھم پیلس کے باہر پہنچ گئے

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ شہزادہ فلپ لاتعداد نوجوانوں کے لیے ایک مثال تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شاہی خاندان اور شہنشاہیت کو چلانے میں مدد دی تاکہ وہ ایک ایسا ادارہ بنا رہے جو کہ ہماری قومی زندگی کے توازن اور خوشی کے لیے بلاشک و شبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کا کہنا تھا کہ وہ ڈیوک کی وفات پر ’افسردہ‘ ہیں۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بذاتِ خود، سکاٹ لینڈ کی حکومت اور سکاٹ لینڈ کے لوگوں کی جانب سے ملکہ برطانیہ اور ان کے خاندان سے انتہائی گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔‘

10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ جب انھیں ڈیوک کی وفات کی خبر ملی تو انھیں ’شدید افسوس ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شہزادہ فلپ نے برطانیہ کی کئی نسلوں، پورے کامن ویلتھ اور پوری دنیا سے محبت سمیٹی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

بکنگھم پیلس کا سٹاف پرنس فلپ کی وفات کا نوٹس پیلس کے دروازے پر چسپاں کرنے کے لیے لا رہا ہے

بورس جانسن نے اس سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والے شاہی جوڑے میں ڈیوک کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ بھی یاد کیا کہ شہزادہ فلپ دوسری عالمی جنگ میں لڑنے والے ان آخری افراد میں سے تھے جو اب تک زندہ رہے۔

جانسن کا کہنا تھا کہ ’اس تنازع سے انھوں نے خدمت کرنے کا جذبہ سیکھا جس کا اطلاق انھوں نے جنگ کے بعد کے زمانے میں کیا۔‘

آرچ بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبائے نے کہا ہے کہ ’انھوں (پرنس فلپ) نے ہمیشہ دوسروں کے مفادات کو اپنے پر ترجیح دی، اور ایسا کرتے ہوئے، مسیحی اقدار کی بہترین مثال پیش کی۔‘

مقامی افراد کی بڑی تعداد اس خبر کو سنتے ہی ونڈزر کاسل کے باہر جمع ہوئی اور دروازوں پر پھولوں کے گلدستے رکھے گئے۔ تاہم حکومت کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیشِ نظر وہ شاہی خاندان کے زیرِ استعمال عمارتوں کے گرد نہ جمع ہوں اور نہ ہی ان کے باہر پھول رکھیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

بکنگھم پیلس کے گیٹ پر ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ کی وفات کی اطلاع لگا دی گئی ہے

بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار نکولس وچیل کا کہنا ہے کہ ’یہ پوری قوم کے لیے اداسی کا لمحہ ہے‘ اور ’خاص طور پر یہ ملکہ برطانیہ کے لیے اداسی کا لمحہ ہے جنھوں نے اپنے شریک حیات کو کھویا جو 73 برس ان کے ساتھ رہے۔ یہ اس سے کہیں طویل عرصے کا ساتھ ہے جو ہم سوچ بھی سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق شہزادہ فلپ نے ’ملکہ برطانیہ کے دور میں بہت اہم خدمات پیش کیں۔‘ انھوں نے ڈیوک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اس سوچ میں مکمل طور پر یقین رکھتے تھے کہ جو کردار ملکہ نبھا رہی ہیں وہ انتہائی اہم ہے اور ان کی اس حوالے سے مدد کرنا ان کا فرض ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ رشتہ اور ان کے درمیان شادی کے بندھن کی مضبوطی ہی ملکہ کے کامیاب دورِ حکمرانی کی وجہ بنی۔‘

،تصویر کا ذریعہTIM GRAHAM/PA

،تصویر کا کیپشن

شہزادہ فلپ نے شہزادی الزبتھ سے سنہ 1947 میں ان کے ملکہ بننے سے پانچ برس قبل شادی کی تھی اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیر تک قائم رہنے والا شاہی جوڑا تھا

یاد رہے کہ مارچ میں ڈیوک آف ایڈنبرا کو ایک ماہ تک علاج کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ وہ لندن کے ہسپتال میں دل کو لاحق عارضے کے علاج کے لیے داخل تھے۔

شہزادہ فلپ اور ملکہ برطانیہ کے چار بچے، آٹھ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اور 10 پڑپوتے پڑپوتیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں تھے۔

ان کے پہلے بیٹے شہزادہ چارلس سنہ 1948 میں پیدا ہوئے جس کے بعد ان کی بہن شہزادی این سنہ 1950 میں، شہزادہ اینڈریو سنہ 1960 میں جبکہ شہزادہ ایڈورڈ سنہ 1964 میں پیدا ہوئے۔

شہزادہ فلپ 10 جون 1921 میں یونانی جزیرہ کورفو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد شہزادہ اینڈریو بادشاہ جارج اول کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔

ان کی والدہ شہزادی ایلس لارڈ لوئس ماؤنٹبیٹن کی بیٹی تھیں اور ملکہ وکٹوریا کی پڑنواسی تھیں۔

برطانیہ بھر میں سیاست دان ڈیوک کی وفات پر سوگوار ہیں۔ لیبر جماعت کے سربراہ سر کیرسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ’ایک غیرمعمولی عوامی خادم کو کھو دیا ہے۔‘

ویلز کے فرسٹ منسٹر مارک ڈریکفورڈ کا کہنا تھا کہ ڈیوک نے ’شاہی خاندان کے لیے بے لوث جذبے کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔‘

پارلیمان کی جانب سے ڈیوک کو پیر کے روز خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا اور ایوانِ زیریں کا اجلاس برطانیہ کے وقت کے مطابق ڈھائی بجے ہو گا۔