شہزادہ فلپ: کسی کے لیے ’مقدس شخصیت‘ تو کسی کے لیے زندگی بھر کے ساتھی

شہزادہ فلپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1965 میں شہزادہ فلپ کینیڈا کے دورے پر

ڈیوک آف ایڈنبرا جنھیں دنیا کا سب سے مشہور شوہر کہا جا سکتا ہے 99 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

اُنھوں نے اپنی زندگی کے 70سے زیادہ سال ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے سائے میں گزارے لیکن انکی نمایاں شخصیت سے ظاہر تھا کہ وہ محض ایک روایتی شوہر نہیں ہوں گے۔

تو ملکہ کا ساتھ دینے والا یہ شخص کون تھا اور اس نے ملکہ سے شادی کیسے کی۔

ملکہ کا شوہر جو کبھی بادشاہ نہیں بنا

سب سے پہلے تو یہ کہ ڈیوک جنھیں شہزادہ فلپ بھی کہا جاتا ہے کبھی بھی شاہی تخت کی قطار میں نہیں تھے اور اُنھیں کبھی بادشاہ کا خطاب نہیں ملا، ہاں ان کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس اس قطار میں ہیں۔

ایسا اس لیے ہے کیونکہ برطانیہ میں اگر کوئی عورت بادشاہ سے شادی کرتی ہے تو اسے ملکہ کا خطاب ملتا ہے لیکن اگر کوئی مرد ملکہ سے شادی کرتا ہے تو اسے بادشاہ کا خطاب نہیں ملتا۔

شہزادہ فلپ اور ملکہ الزبتھ کے چار بچے ہیں۔ 72 سالہ شہزادہ چارلس، 70 سالہ شہزادی این، 61 سالہ شہزادہ اینڈریو اور 57 سالہ شہزادہ ایڈورڈ۔

کہا جاتا ہے کہ جب بچے چھوٹے تھے تو فلپ ہمیشہ اپنی مرضی چلاتے تھے۔

شاہی سوانح نگار انگرِڈ سیوارڈ نے شہزادہ اینڈریو کے حوالے سے ان کے بچپن کے بارے لکھا ہے کہ ’ملکہ سے شفقت ملتی تھی جبکہ تربیت اور فرائص سکھانے کا کام شہزادہ فلپ کا تھا۔‘

لیکن اینڈریو کو یہ بھی یاد ہے کس طرح ان کے والد وقت نکال کر رات کو سونے سے پہلے اپنے بچوں کو کہانیاں سنایا کرتے تھے اور ان سے کہانیاں سنا کرتے تھے۔

شہزادہ فلپ نے اپنی طویل زندگی میں اپنے آٹھ پوتے پوتیوں کو پروان چڑھتے دیکھا اور 10 پڑ پوتے پوتیوں کو خوش آمدید کہا۔

،تصویر کا کیپشن

شاہی خاندان کا شجرہ جو نو اپریل 2021 کو تیار کیا گیا

اُنھوں نے زندگی کہاں سے شروع کی

بکِنگھم پیلس تک پہنچنے کا شہزادہ فلپ کا سفر 1922 میں سنگترے کے بکسے سے بنائے جانے والے پالنے سے شروع ہوا۔

شہزادہ فلپ 10 جون 1921 کو یونانی جزیرے کورفو میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ یونان کے شہزادہ اینڈریو اور شہزادی ایلس کی سب سے چھوٹی اولاد اور واحد بیٹے تھے۔

اس وِراثت کی وجہ سے وہ یونان اور ڈنمارک کے شہزادے تھے لیکن پیدائش کے ایک سال بعد ہی بغاوت کے بعد ان کے خاندان کو ملک سے نکال دیا گیا۔

برطانیہ کا ایک جنگی جہاز اُنھیں اٹلی لے آیا۔ شہزادہ فلپ اس وقت پھلوں کی ایک ٹوکری سے بنائے گئے پالنے میں تھے۔

،تصویر کا ذریعہTopham/Topham Picturepoint/PA

،تصویر کا کیپشن

یونان سے جلا وطنی کے بعد شہزادی ایلس اور شہزادہ فلپ

انکی پرورش کیسے کی گئی

فلپ کا بچپن تاریک اور بکھرا ہوا تھا اور اُنھیں کئی تکالیف سے گزرنا پڑا تھا۔

سنہ 1930 میں جب وہ آٹھ سال کے تھے تو ان کی ماں کو ذہنی حالت خراب ہونے کے سبب نفسیاتی مرکز میں داخل کروا دیا گیا۔

آنے والے سالوں میں فلپ نے اپنے والدین کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا۔ ان کے والد اپنی داشتہ کے ساتھ فرینچ ریویرا منتقل ہو گئے اور یہاں برطانیہ میں ان کی والدہ کے رشتے داروں نے ان کی پرورش میں مدد کی۔ بعد میں فلپ نے اپنی والدہ کی ہی نسبت سے اپنے نام میں ماؤنٹ بیٹن کا اضافہ کر لیا۔

ان کی نو عمری سکاٹ لینڈ کے ایک بورڈنگ سکول گورڈنسٹاؤن میں گزری جس کے ہیڈ ماسٹر کرٹ ہان نامی ایک یہودی تھے جنھیں نازیوں پر تنقید کرنے پر جرمنی سے نکال دیا گیا تھا۔

سکول نے فلپ کی شخصیت کو مضبوط بنایا اور خود انحصاری کے اُن کے جذبے کو سنوارا۔ سکول کے سخت نظام کے تحت طالبِ علموں کو کڑکتے جاڑوں اور بارش میں صبح جلدی اٹھنا پڑتا اور طویل دوڑ لگوائی جاتی۔ ہان کا خیال تھا کہ اس سے جوانی کے زہریلے جذبات سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKeystone Features/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

سکول کا نظام بہت سخت تھا۔ سنہ 1956 کی اس تصویر میں بچے کسرت کرتے دکھائی دے رہے ہیں

سنہ 1937 میں فلپ کی چار بہنوں میں سے ایک سیسل اپنے جرمن شوہر، دو بچوں اور ساس کے ساتھ طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔ حادثے کے وقت فلپ کی بہن حاملہ تھیں۔

سیسل نے حال ہی میں نازی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس کا جرمنی پر تقریباً پورا کنٹرول تھا۔ سولہ سال کے فلپ نے اپنی بہن کے جنازے میں شرکت کی جہاں لوگ ہٹلر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

بعد میں فلپ نے اس دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارا کنبہ بکھر گیا، میری ماں بیمار تھیں، بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، میرے والد جنوبی فرانس میں تھے اور مجھے اس سے سمجھوتا کر کے آگے بڑھنا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

گورڈنسٹاؤن سکول میں لڑکوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ مشکل مشقیں بھی کروائی جاتی تھیں

فلپ نے ملکہ کا دل کیسے جیتا؟

جب فلپ سکول کی تعلیم سے فارغ ہوئے تو برطانیہ جرمنی کے ساتھ جنگ کے دہانے پر تھا۔ اُنھوں نے برطانیہ کی نیول اکیڈمی برٹینیا رائل نیول کالج، میں داخلہ لیا اور خود کو ایک بہترین کیڈٹ ثابت کیا اور اپنی کلاس میں اول نمبر پر رہے۔

جب شہنشاہ جارج نے جولائی سن 1939 میں اکیڈمی کا سرکاری دورہ کیا تو فِلِپ کو ان کی نوعمر بیٹیوں شہزادی الزبتھ اور شہزادی مارگریٹ کا دل بہلانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

شہزادیوں کی گورنیس ماریئن کرافورڈ کے مطابق فلپ نے اس موقع پر کافی ’شیخیاں بگھاری‘ تھیں۔ اس کے کچھ ہی وقت بعد واضح ہو گیا تھا کہ فِلِپ نے 13 برس کی الزبتھ کو کافی متاثر کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPress Association

،تصویر کا کیپشن

شہزادہ فلپ کی نایاب تصویر جو الزبتھ سے ملنے سے ذرا پہلے کی تھی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پرنس فلپ نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا اور پہلی بار فوجی کارروائی کا حصہ بحرِ ہند میں بنے۔ اکتوبر 1942 آتے آتے ان کی عمر 21 سال تھی اور وہ رائل نیوی کے کم عمر ترین فرسٹ لیفٹنینٹس میں شامل تھے۔

نو عمر شہزادی اور نیول افسر نے خط و کتابت کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ جاری رکھا۔ سن 1943 میں کرسمس کے آس پاس، جب فلپ شاہی خاندان کے ساتھ وقت گزار کر واپس چلے گئے تھے تو شہزادی کی ڈریسِنگ ٹیبل پر فِلِپ کی نیول وردی میں ملبوس ایک تصویر نمودار ہوئی۔ یہ ایک خاموش طبع مگر پکے ارادوں والی نوجوان خاتون کی طرف سے واضح اشارہ تھا۔

کچھ شاہی معاونین ایسے بھی تھے جنھیں اس جوڑے کا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک وقت پر ایک اہلکار نے فلپ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ’ناپختہ، بدسلوک، ان پڑھ‘ ہیں ’اور شاید وفادار ثابت نہ ہوں۔‘

لیکن مستقبل کی ملکہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

فلپ کی سوانح عمری لکھنے والے مصنف فلپ ایڈے کے مطابق سن 1946 میں فلپ کے ہاتھوں لکھے گئے خطوط سے ایک ایسے پرجوش نوجوان کی تصویر ابھرتی ہے جسے زندگی میں ایک نیا مقصد مل گیا تھا۔

اپنی ہونے والی ساس کو لکھے گئے ایک خط میں وہ لکھتے ہیں، ’مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ اچھا ہو رہا ہے میں اس کا مستحق نہیں ہوں۔ جنگ سے زندہ بچ جانا اور اس میں فتح کا منہ دیکھنا، اس کے بعد آرام اور خود کو سنبھالنے کا موقع ملنا، مکمل طور پر محبت ہو جانا، اس سب سے اپنے سارے مسائل، یہاں تک کہ دنیا بھر کے مسائل بھی چھوٹے اور غیر اہم معلوم ہونے لگتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1947 میں منگنی کے اعلان کے بعد ملکہ الزبتھ اور شہزادہ فلپ بکنگھم پیلِس کے باہر

شہنشاہ جارج نے فلپ کو اپنی بیٹی سے شادی کی اجازت دے دی۔ لیکن اس سے پہلے کچھ چیزیں بدلنا ضروری تھا۔

یونان اور ڈنمارک کا سابق شہزادہ اب برطانوی شہری بن گیا۔ اس نے باضابطہ طور پر چرچ آف انگلینڈ میں شمولیت اختیار کی اور اپنے تمام غیر برطانوی القاب ترک کر دیے۔

بیس نومبر 1947 کے دن جب ان کی شادی ہوئی تو اُنھیں ڈیوک آف ایڈنبرا کے خطاب سے نوازا گیا، اور اس نام نے ان کا عمر بھر ساتھ دیا۔ اس وقت ان کی عمر 26 سال تھی، اور ان کی نئی دلہن کی 21۔

اس شاہی جوڑے کو فرصت کے صرف چار سال ہی ملے، جس دوران ان کے ہاں دو بچوں کی پیدائش ہوئی۔

وہ دونوں سنہ 1952 میں اپنے دولت مشترکہ کے دورے پر کینیا میں ایک گیم لاج میں تھے جب الزبتھ کے والد بادشاہ جارج ششم کی موت کی خبر ان تک پہنچی۔ بادشاہ کی عمر اس وقت 56 سال تھی۔

کمانڈر مائیکل پارکر ڈیوک آف ایڈنبرا کے دوست اور نجی سیکرٹری تھے۔ وہ اُس لمحے کو جب فلپ کو احساس ہوا کہ ان کی اہلیہ اب ملکہ ہیں، بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’ان کو دیکھ کر ایسا لگا کہ ساری دنیا کا بوجھ ان پر آ گرا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں کبھی کسی کے لیے اتنا افسوس نہیں ہوا۔ اُنھوں نے ایک گہرا سانس لیا، ایسے جیسے وہ صدمے میں ہوں۔ اُنھیں فوراً احساس ہو گیا تھا کہ ان دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ بے فکر زندگی ختم ہو گئی تھی۔'

فلپ کی نیوی میں آگے بڑھنے کی خواہشات پر روک لگا دی گئی۔ نئی ملکہ کو اپنے شوہر کی اپنے ساتھ ضرورت تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

1950 میں شہزادی الزبتھ اور شہزادہ فلپ اپنی بیٹی شہزادی این اور شہزادہ چارلس کے ساتھ

ڈیوک آف ایڈنبرا کو ملکہ کا ساتھی نامزد کیا گیا۔ ان کا مرکزی کام اور کردار اپنی بیوی کی مدد اور حمایت کرنا تھا۔

سن 1950 کی دہائی میں ایک دیرینہ جھگڑے کی شروعات ہوئی۔ فلپ چاہتے تھے کہ شاہی خاندان کو ان کے نام ماؤنٹ بیٹن سے پکارا جائے۔

جب ملکہ کو شاہی خاندان کا اپنا نام ’ونڈزر‘ برقرار رکھنے پر راضی کیا گیا تو فلپ نے غصے میں کہا، 'میں اس ملک کا واحد مرد ہوں جسے اپنے ہی بچوں کو اپنا نام دینے کی اجازت نہیں! میں ایک کیڑا ہوں اور کچھ نہیں!'

ان کے لیے اس نئے محدود رول میں اپنے لیے مقصد تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔ تاہم فطری طور پر فِلِپ حقیقت پسند تھے۔

فِلِپ نے بادشاہت کو کیسے تبدیل کیا؟

ڈیوک اپنے خاندان کا یونان سے جبری انخلا کبھی نہیں بھول پائے اور ان کے خیال میں بادشہتوں کو قائم رہنے کے لیے خود کو نئے زمانے کے رنگوں میں ڈھالنے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے غیر رسمی عشائیوں کا انعقاد کیا جہاں معاشرے کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے افراد ملکہ سے مل سکتے تھے۔

شاہی محل میں کام کرنے والے ’فٹ مین‘ کے بالوں پر پاؤڈر لگانے کی رسم ختم ہوئی۔ اور جب اُنھیں پتا چلا کہ شاہی محل میں صرف شاہی خاندان کے لیے ایک مخصوص کچن چلتا ہے تو اُنھوں نے اسے بند کروا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بکنگھم پیلِس میں کھانے کی میز

کچھ تبدیلیاں ذاتی بھی تھیں اور ان سے گیجٹس کے لیے فلپ کے بچوں جیسے شوق کا پتا چلتا ہے۔ الزبتھ کی بطور ملکہ تاج پوشی سے پہلے جب فلپ اور مستقبل کی ملکہ سنہ 1949 میں کلیرنس ہاؤس منتقل ہوئے تو فلپ نے خوشی خوشی کئی نئی مشینیں اور آلات لگوائے جن میں سے ایک ایسا بھی تھا جو بٹن دباتے ہی ان کی الماری سے ایک سوٹ باہر نکال دیتا تھا۔

ڈیوک نے سنہ 1969 میں نشر کی جانے والی شاہی خاندان کے شب و روز کے بارے میں بی بی سی کی ڈاکیومنٹری فلم کی بھی کافی حمایت کی۔ اس ڈاکیومنٹری کو اب ٹی وی نشریات میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

اس میں ملکہ اپنے گھوڑے کو گاجریں کھلاتی، ٹی وی دیکھتی، اور بالمورل میں ایک باربی کیو پر سلاد کے بارے میں بات کرتی ہوئی نظر آئیں، جہاں ساتھ ہی ان کی بیٹی شہزادی این ساسیجز پکا رہی تھیں۔

بکمگھم پیلس میں فِلِپ نے انٹرکوم فون لگوا دیے تاکہ نوکروں کو ہر بار ہاتھ سے لکھے پیغامات ان کی بیگم تک نہ پہنچانے پڑیں۔

وہ سفر کے دوران اپنا سامان خود اٹھاتے تھے، اور اپنے کمروں میں ہی ایک الیکٹرک فرائنگ پین میں اپنا ناشتہ خود تیار کرتے تھے، اس وقت تک جب تک ملکہ نے ناشتے میں سے آنے والی بو کے بارے میں شکایت کی۔

،تصویر کا کیپشن

شاہی خاندان پر بننے والی دستاویزی فلم کی تیاری میں شہزادہ چارلس نے پوری دلچسپی لی

وہ اپنا وقت کیسے گزارتے تھے؟

برطانوی تاریخ میں ملکہ کے ساتھی کے طور پر طویل ترین عرصہ گزارنے والے پرنس فلپ نے تقریبا 22 ہزار 191 تقاریب میں اکیلے شرکت کی۔ سنہ 2017 میں جب وہ اپنے شاہی فرائض سے سبکدوش ہوئے تو وہ 780 سے زیادہ اداروں اور تنظیموں کے صدر یا رکن تھے۔

ملکہ کے ساتھ دولت مشترکہ اور دیگر ممالک کے سرکاری دوروں کے دوران اُنھوں نے 143 ممالک کا سفر کیا۔

ان میں جنوبی بحر الکاہل کا ملک وانواٹو شامل تھا جہاں ایک برادری اُنھیں ایک قدیم سپاہ سالار کا دوسرا جنم مانتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

وانواٹو میں تننا جزیرے کے لوگ شہزادہ فلپ کو مقدس شخصیت مانتے ہیں

لیکن ان کی سب سے دیرپا میراث سن 1956 میں قائم کیا جانے والا ڈیوک آف ایڈنبرا ایوارڈ ہے، جو اُنھوں نے اپنے سابق ہیڈ ماسٹر کرٹ ہاہن کے کہنے پر شروع کیا۔

اس کے تحت 14 سے 25 برس کے نوجوان بطور رضاکار کام کر کے، جسمانی مشقت کے ذریعے یا پھر کوہ پیمائی یا سمندری سفر جیسی کسی مہم کا حصہ بن کر یہ ایوارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ سنہ 2016 میں اس سکیم میں حصہ لینے والوں کی تعداد 13 لاکھ تھی اور ان کا تعلق دنیا بھر کے 130 ممالک اور علاقوں سے تھا۔

بی بی سی سے اس ایوارڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پرنس فلپ نے کہا تھا، 'اگر آپ ایسا کچھ کر سکیں کہ نوجوان کسی ایک شعبے میں کامیابی حاصل کر لیں، تو پھر کامیابی کا وہ احساس کئی دوسرے شعبوں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔'

اپنے فارغ وقت میں فلپ ایک باصلاحیت کھلاڑی تھے۔ اُنھوں نے گورڈنسٹون میں سمندری جہاز چلانا سیکھا، اور آئیل آف وائٹ میں منعقد ہونے والے ریگٹا میں باقاعدگی سے حصہ لیتے رہے۔

اُنھیں گھڑ سواری کا بھی شوق تھا اور ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ کے چار بہترین پولو کھلاڑیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

وہ ماحولیات اور جنگلی حیات کے لیے بھی کافی متحرک تھے اور سنہ 1961 میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (یو کے) کے صدر بنے۔ تاہم اسی سال اُنھیں اس وقت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا جب ان کی ملکہ کے ساتھ انڈیا میں شیر کا شکار کرتے ہوئے ایک تصویر منظر عام پر آئی۔

،تصویر کا ذریعہCENTRAL PRESS/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشن

1961 کی اس تصویر میں ملکہ اور شہزادہ فلپ شیر کے شکار کے بعد جے پور کے مہا راجا اور مہا رانی کے ساتھ

ان کے اپنے، اور ملکہ کے الفاظ میں

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اُنھوں نے برطانیہ کے لیے کیا کیا ہے تو فلپ نے اسی صاف گوئی سے جواب دیا جس کے لیے وہ مشہور تھے، 'میں جتنا کچھ کر سکتا تھا میں نے اپنی طرف سے وہ سب کیا ہے۔ کچھ کو لگتا ہے وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ کچھ کو لگتا ہے نہیں۔ اس میں آپ کیا کر سکتے ہیں۔ میں جس طرح کام کرتا ہوں اسے بدل نہیں سکتا۔ میں ایسا ہی ہوں۔ جنھیں پسند نہیں، اُنھیں عادت ڈالنی ہوگی۔'

پرنس فِلِپ کئی بار تنازعات کا شکار بھی ہوئے، جیسے کہ سنہ 1986 میں جب اُنھوں نے چین میں برطانوی طالب علموں کے ایک گروپ سے کہا، 'کچھ اور عرصہ یہاں رہ گئے تو تم سب کی آنکھیں بھی چھوٹی چھوٹی ہو جائیں گی۔'

ناقدین نے کہا کہ وہ بار بار اس طرح کی باتیں کرنے کے عادی ہیں اور دراصل اصل دنیا سے دور ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک الگ زمانے کی پیداوار ہیں اور صرف مذاق کر رہے تھے۔

محل کے اندر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنسی مذاق ہی نے پرنس فلپ اور ملکہ کو اتنے سال ساتھ رکھا۔ جبکہ پرنس فلپ خود کہہ چکے ہیں کہ راز دراصل ملکہ کی برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ملکہ الزبتھ اور شہزادہ فلپ 2007 میں

ایک زمانہ تھا جب ملکہ اپنی تمام تقاریر ’میرے شوہر اور میں۔۔‘ سے شروع کیا کرتی تھیں۔ ساٹھ کی دہائی میں اس بات پر ان کا مذاق بنایا گیا۔ اُنھوں نے یہ جملہ استعمال کرنا ضرور چھوڑ دیا لیکن اس کے پیچھے جو جذبہ تھا وہ برقرار رہا۔

دونوں کی شادی کی 50 ویں سالگرہ پر ملکہ برطانیہ نے کہا تھا، 'اکثر یہ ہوا ہے کہ پرنس فلپ کو مجھے بولتے ہوئے سننا پڑتا ہے۔ کئی مرتبہ ہم میری تقریر سے پہلے اس کے بارے میں بات کرتے ہیں، اور جیسا کہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں وہ مجھے اپنے تاثرات سے بہت واضح طور پر آگاہ کرتے ہیں۔ ان کے لیے اپنی تعریف سننا آسان نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ اس طویل عرصے میں میری طاقت رہے ہیں۔ وہ اس کا کبھی اعتراف نہیں کریں گے لیکن میں، اور ان کا پورا خاندان، اور یہ ملک، اور کئی دیگر ممالک ان کے قرضدار ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

شہزادہ فلپ کی یہ تصویر 2 اگست 2017 کی ہے

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔