ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ: برطانیہ کا جنگی بحری بیڑہ دنیا کے دورے پر کیوں جا رہا ہے؟

  • جوناتھن بیل
  • دفاعی نامہ نگار، بی بی سی نیوز
بحری بیڑہ

،تصویر کا ذریعہPA Media

برطانیہ ایک عالمی دورے پر جانے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ دورہ رائل نیوی کے ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ نامی طیارہ بردار بحری جہاز کی شکل میں ہوگا۔ اس کے ساتھ جنگی بحری جہازوں کا ایک بیڑے بھی شامل ہے۔

برطانیہ کی رائل نیوی کا کہنا ہے کہ یہ دور حاضر کی سب سے طاقتور بحری تعیناتی ہو گی۔

برطانوی حکومت کیریئر سٹرائیک گروپ نامی اس بحری دستے کو ’عالمی برطانیہ‘ کی ایک مضبوط علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔ اور اسے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے رائل نیوی کی بحالی اور یورپ کی نمایاں بحری طاقت کے وعدے کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے پورٹسمتھ کے بحری اڈے پر ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ جنگی بیڑے پر اس کی پہلی آپریشنل تعیناتی سے قبل وقت گزارا۔

لیکن کیا یہ عالمی دورہ قومی طاقت کی علامت یا پرچم لہرانے کی مشق سے زیادہ بھی کچھ ہے؟ اور آدھی دنیا کے بحری سفر کرنے کا مقصد کیا ہے؟

اگلے 28 ہفتوں میں برطانیہ کا یہ کیرئیر سٹرائیک نامی بحری دستہ 26 ہزار میل کا سفر کرے گا جو خط استوا سے زمین کے گرد چکر سے بھی زیادہ ہے۔

برطانیہ کا ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ جنگی بحری بیڑہ سب سے پہلے بحیرہ روم سے سفر کا آغاز کرے گا۔ یہاں سے یہ اپنے ایف 35 طیاروں کو اڑانے کا ارادہ رکھتا ہے جو عراق میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کریں گے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

یہ اس کا پہلا جنگی معرکہ ہوگا حالانکہ برطانیہ کی رائل ائیر فورس یہ مشن گذشتہ سات برسوں سے قبرص میں قائم اپنے زمین فضائی اڈے سے کر رہی ہے۔ اس کے بعد مشرق کی جانب جانے کا فیصلہ شاید زیادہ متنازع ہے۔ یہ حملہ آور دستہ نہرِ سوئز کے ذریعے بحر ہند اور بحرِ فلپائن تک جائے گا۔

ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ بیڑے کا راستے میں عمان، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت متعدد بندرگاہوں پر رکنے کا ارادہ ہے۔

امریکہ کی طرح برطانیہ بھی چین کے بڑھتے قدموں کا جواب دے رہا ہے لیکن امریکہ کے برعکس برطانیہ کا اثر و رسوخ اور وسائل کم ہیں۔ برطانوی خارجہ پالیسی کے لیے اس کا مطلب امریکہ کی طرح 'مرکز' بننے کے بجائے ایشیا کی جانب مناسب 'جھکاؤ' ہے۔

،تصویر کا ذریعہMOD

اس کیرئیر سٹرائیک دستے میں کیا کچھ شامل ہیں؟

برطانوی ایچ ایم ایس طیارہ بردار جنگی بیڑے کے ساتھ رائل نیوی کے دو جنگی بحری جہاز، دو بحری بیڑے، دو سپلائی شپ اور ایک زیرِ سمندر زیرک صلاحیت کی حامل آبدوز شامل ہے۔

اس کے علاوہ اس دستے میں ایک امریکی بحری جنگی بیڑہ اور ڈچ جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔

طیارہ بردار جنگی بیڑے پر برطانیہ کے ساتھ طیارے کے مقابلے میں امریکہ کے دس ایف 35 طیارے موجود ہوں گے۔

حکومت کا اصرار ہے کہ اس دستے میں اتحادیوں کی شمولیت کمزوری کے بجائے طاقت کی علامت ہے لیکن یہ اس بات کی جانب بھی ایک اشارہ ہے کہ برطانیہ کی مسلح افواج تعداد میں کم ہے اور اپنے بل بوتے پر اب کم ہی کچھ کر سکتی ہیں۔

یہ جنگی دستہ بحیرہ جنوبی چین سے بھی گزرے گا جہاں چین اپنے علاقائی پانیوں تک اپنا تسلط بڑھا رہا ہے۔

لیکن برطانوی سیکرٹری دفاع بین ویلیس نے زور دیا ہے کہ برطانیہ کسی 'محاذ آرائی' کا خواہشمند نہیں ہے۔ بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ دستہ اپنے جہاز رانی کی آزادی کے حق کا مظاہرہ کرے گا۔

لہٰذا اس کی توقع نہ رکھی جائے جو سنہ 2018 میں ہوا تھا جب رائل نیوی کا ایک جنگی جہاز ایچ ایم ایس البیون جان بوجھ کر متنازع پارسل جزیرے کے قریب سے گزرا تھا، جس پر بیجنگ کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ حساسیت برطانیہ کی چین کے بارے میں پالیسی میں ابہام کو نمایاں کرتی ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی چین سے تجارتی نہیں بلکہ تعمیری تعلقات کی خواہشمند ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

دو سابق دفاعی سربراہوں نے سٹرائیک گروپ کو مشرق بھیجنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔

لارڈ نکولس ہیوٹن نے حال ہی میں ممبران پارلیمنٹ کو بتایا کہ 'بیجنگ کے ساتھ جگہ کے حصول کا بہترین طریقہ یہ ضروری نہیں تھا'، جبکہ لارڈ ڈیوڈ رچرڈز نے کہا کہ برطانیہ کو اپنی توجہ ملک کے قریب 'نیٹو اور یورو-اٹلانٹک کے علاقے پر مرکوز رکھنی چاہیے۔'

وسیع بحری تجارتی مشن

لیکن اس بحری تعیناتی کا مقصد خطے میں تجارت کو فروغ دینا اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانا بھی ہے۔

یہ سمندر میں جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ سمیت اتحادیوں کے ساتھ فوجی مشقیں کرے گا۔ بندرگاہوں کے دوروں کے دوران، ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ ایک بہت بڑا تجارتی اور سفارتی مشن بنے گا۔

رائل نیوی کے سربراہ ایڈمرل ٹونی رڈاکن کے الفاظ میں ’بحریہ اور تجارت لازم و ملزوم ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی سے پتہ چلتا ہے کہ بحریہ 'برطانیہ کا پرچم لہرا رہی ہے اور عالمی برطانیہ' کے وزیر اعظم کے ویژن کو آگے لے کر چل رہی ہے۔

سفارتی ڈرامہ

کچھ تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کو سخت پیغام بھیجنے کے اور بہت سے بہتر طریقے ہو سکتے ہیں۔

دفاعی اور سکیورٹی تھنک ٹینک، روس میں فوجی علوم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پیٹر رابرٹس کا کہنا ہے کہ رائل نیوی اپنی دو قاتل شکاری آبدوزیں روانہ کرسکتا تھا۔

ان کا مشورہ ہے کہ اگر وہ شمال کی سمت آرکٹک برف کے نیچے سے روانہ ہو جائیں اور پھر بحر الکاہل میں جا کر نکلیں تو روسی اور چینی دونوں طرز عمل کو چیلنج کرنے پر اس کا زیادہ اثر ہوتا۔

قومی سلامتی کے سابق مشیر لارڈ پیٹر ریکٹس کا خیال ہے کہ اس کریئر سٹرائیک بحری دستے کو 'اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی علامت' کے طور پر مشرق میں بھیجنا اب بھی مناسب ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ ایک عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ سفارتی ڈرامہ ہے۔‘