امریکی جیل میں مرنے والے قیدی پر پولیس اہلکار کا طنز: ’تمھیں سانس لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘

جیل

،تصویر کا ذریعہMarshall County Jail/WTVF

امریکہ کی ریاست ٹینیسی کی ایک جیل میں پولیس نے ایک قیدی کو منھ کے بل نیچے گرایا اور پھر اسے ایسے تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ سانس گھٹنے کی وجہ سے مر گیا۔

اس دوران یہ شخص پولیس کو یہ دہائیاں دے رہا تھا کہ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے تو ایک پولیس اہلکار نے اس قیدی سے طنزیہ انداز میں کہا: ’تمھیں سانس لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘

ٹینیسی کی جیل سے جاری ہونے والی ایک نئی فوٹیج ملی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سال قبل کیسے پولیس نے 48 برس کے ولیم جینیٹ کو منھ کے بل نیچے گرایا اور انھیں باندھ دیا تھا۔

قیدی ولیم نے مرتے وقت لیوس برگ میں مارشل کاؤنٹی جیل کے عملے سے یہ اپیل کی تھی کہ ’وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں، میری مدد کریں۔‘

قیدی کی موت کی وجہ ’پولیس کی طرف سے‘ اسے زمین پر منھ کے بل گرانے سے دم گھٹنے کو قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

میڈیکل افسر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس موت کو قتل (خطا) قرار دیتے ہوئے موت کی ایک وجہ منشیات کا زیادہ استعمال بھی بتایا۔

حالیہ عرصے میں امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلوئیڈ کے قتل میں پولیس کی طرف سے اس طرح کے تشدد پر بہت تنقید کی گئی۔ یہ واقعہ اس امریکی قیدی کی موت کے 19 دن بعد پیش آیا تھا۔

گذشتہ برس 6 مئی کو ولیم جینیٹ کی سفید فام بیٹی نے عدالت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عمل کے خلاف سول حقوق کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ولیم پانچ بچوں کے والد تھے۔

اس مقدمے میں سات پولیس افسران کو مدعی بنایا گیا تھا، جس میں ولیم کے خاندان والوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان پر جیل میں بہیمانہ تشدد کیا گیا تھا۔ یہ جیل ریاست ٹینیسی کے شہر نیشویل سے 110 کلو میٹر دور واقع ہے۔

ولیم جینیٹ کی بیٹی کیلی جینیٹ نے مقامی ٹی وی سی بی ایس کو بتایا کہ ان کے والد صرف مدد کے لیے پکار رہے تھے جبکہ انھیں بدلے میں صرف نفرت اور تشدد ملا۔

اس مقدمے میں بتایا گیا کہ ولیم جینیٹ کو نیچے گرایا گیا اور ان کی پشت پر ایک پولیس افسر نے چار منٹ کے لیے اپنا پورا وزن ڈالا۔

پولیس حکام نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ولیم جینیٹ بہت زیادہ بے قابو ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMarshall County Jail/WTVF

کئی ماہ پہلے سرکاری وکیل نے اس مقدمے کی انکوائری بند کر دی تھی۔ ایک گرینڈ جیوری نے اس مقدمے پر نظرثانی کی مگر جیوری نے بھی پولیس افسران کے خلاف فوجداری دفعات عائد نہیں کیں۔

ولیم جینیٹ سیمنٹ لے جانے والے ٹرک ڈرائیور تھے جنھیں سر عام منشیات کے استعمال، قابل اعتراض طور پر اپنے جسم کی نمائش کرنے اور پھر گرفتاری میں مزاحمت دکھانے جیسی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ان سے منشیات (میتھ) برآمد ہوئی۔ جیل کے ریکارڈ کے مطابق وہ نشے میں دھت اور بھوکے رہتے تھے۔

اپنی موت سے ایک دن قبل ولیم جینیٹ نے تواتر سے اپنے سر کو جیل کی دیوار کے ساتھ مارنا شروع کر دیا، جس سے پولیس افسران انھیں ایک کرسی سے باندھنے پر مجبور ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے موت والے دن دروازے پر خوب مکے برسائے۔ ایسے میں جب پولیس نے انھیں قابو کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے مزاحمت کی۔

ولیم جینیٹ کو ویڈیو میں یہ اپیل کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’میری مدد کریں، وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘ اس جدوجہد میں مارشل کاؤنٹی کے اہلکاروں نے ولیم جینیٹ کو ہتھکڑی لگائی اور انھیں زمین پر گرایا۔

پولیس افسران نے ان کی پشت پر اپنا وزن ڈالا۔ اس دوران ولیم نے تین بار پولیس افسران کو بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہے۔

اس کے جواب میں ایک پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ ’آپ کو سانس لینا بھی نہیں چاہیے، چھوٹے قد کے بے وقوف۔۔۔‘

اس مقدمے کے مطابق اس موقع پر انھوں نے ولیم کا اس بات پر مذاق بھی اڑایا اور ان کی بات دہرائی کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں۔‘ اس پر ایک دوسرے پولیس اہکار مبینہ طور پر ہنسے بھی تھے۔

اس فوٹیج میں ایک موقع پر ایک پولیس افسر اپنے ساتھیوں کو یہ بات یاد دلاتا ہے کہ ولیم کا دم گھٹ رہا ہے اور یہ کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔

قانونی دعوے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ جب پولیس نے ولیم جینیٹ کو چھوڑا تو اس وقت ان کا جسم پیلا اور بے جان ہو چکا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے طاقت کے استعمال سے متعلق ماہر سیت سٹوگہٹن، جنھوں نے جارج فلوئیڈ کے مقدمے میں بھی گواہی دی تھی، نے سی بی ایس کو بتایا کہ افسران کو گذشتہ 25 سال سے تربیت دی جا رہی ہے۔ ولیم جینیٹ کے معاملے میں انھوں نے بالکل اس کے برعکس طاقت کا استعمال کیا۔

ان کے مطابق جب پولیس افسر نے انھیں ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا تھا تو پھر انھیں اس قیدی کو اپنی طرف گھمانا چاہیے تھا۔

لیوس برگ کے میئر جِم بنگہام نے اپنے ایک بیان میں اس موت کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

مگر ان کا کہنا تھا کہ ولیم جیل میں عملے کے ساتھ اپنی زبان اور عمل سے ناروا سلوک روا رکھتے تھے تاہم انھوں نے قانونی مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس میں شہر اور کاؤنٹی کا نام تک نامزد ہے۔