شہزادی لطیفہ: امارات سے فرار میں ناکام ہونے والی شہزادی کی ’نئی تصویر‘ منظرِ عام پر

بظاہر لگتا ہے کہ درمیان میں بیٹھی ہوئی خاتون شہزادی لطیفہ ہیں

،تصویر کا ذریعہInstagram

،تصویر کا کیپشن

بظاہر لگتا ہے کہ درمیان میں بیٹھی ہوئی خاتون شہزادی لطیفہ ہیں

اس ہفتے دو پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹس پر شائع ہونے والی ایک تصویر میں دبئی کے حکمران کی بیٹی شہزادی لطیفہ نظر آتی ہیں، جن کو کئی مہینوں سے نہ ہی دیکھا گیا تھا اور نہ ہی ان کے بارے میں سنا گیا تھا۔

فروری کے وسط میں بی بی سی پینوراما نے ان کی طرف سے بھیجی گئی ایک خفیہ ویڈیو نشر کی تھی جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ انھیں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے اور انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔

بی بی سی اس تصویر کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے اور مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

تاہم شہزادی لطیفہ کی ایک دوست نے تصدیق کی کہ وہ تصویر شہزادی کی ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی کے نزدیک اس تصویر کا سامنے آنا اچانک یا حادثاتی نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دیگر پراسرار وجوہات ہے۔

فری لطیفہ گروپ کے شریک بانی ڈیوڈ ہیگ نے ایک بیان میں کہا ہے: ’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس مہم میں کئی ممکنہ طور پر اہم اور مثبت پیشرفت ہوئی ہیں۔ ہم اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، کسی مناسب وقت پر مزید بیان جاری کیا جائے گا۔‘

متحدہ عرب امارات کے لندن میں سفارتخانے نے بی بی سی کی جانب سے اس پیش رفت پر تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی اس تصویر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن بی بی سی کو ضرور بتایا ہے کہ وہ ’لطیفہ کے زندہ ہونے کے معاملے میں قابلِ یقین ثبوتوں کا انتظار کر رہے ہیں،‘ جس کے بارے میں متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ وہ یہ فراہم کرے گا۔

تصویر میں کیا ہے؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس تصویر میں شہزادی لطیفہ کو دبئی کے ایک شاپنگ مال، مال آف دی ایمیریٹس (ایم او ای) میں دیگر دو خواتین کے ساتھ بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ لطیفہ کے دوستوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ دوسری خواتین کو بھی پہچانتے ہیں اور شہزادی لطیفہ ان کو جانتی ہیں۔

اسے انسٹاگرام پر اپ لوڈ کیا گیا ہے جس میں میٹا ڈیٹا شامل نہیں ہے، جو تاریخ اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ درست لوکیشن یا مقام بھی دکھاتا ہے جہاں تصویر لی گئی ہے۔

مزید پڑھیے

یہ تصویر الٹا عکس ہے تاہم اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنیما فلم ڈیمون سلیئر: موگین ٹرین‘ کا بورڈ دکھا رہا ہے، جو متحدہ عرب امارات میں 13 مئی 2021 کو ریلیز ہوئی تھی۔

اس تصویر کو جمعرات کو دیگر دونوں خواتین کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا تھا، جن میں سے ایک نے اس پر تبصرے میں لکھا تھا کہ ’دوستوں کے ساتھ ایم او ای میں خوبصورت شام۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram

،تصویر کا کیپشن

اس تصویر کو شہزادی کے ساتھ بیٹھی ہوئی دونوں خواتین نے پوسٹ کیا ہے

دونوں میں سے کسی خاتون نے بھی بی بی سی کی جانب سے لطیفہ کی حالت یا اس تصویر کے بارے میں معلومات پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے کہ یہ تصویر کب کھینچی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے کینتھ روتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر یہ فرض کر لیں کہ یہ تصویر حقیقی ہے، تو اس میں زندگی کا ثبوت نظر آتا ہے، جو بڑی چیز ہے، لیکن اس میں ان کی قید یا ان کی آزادی کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں ہے۔‘

متحدہ عرب امارات کی طرف سے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ فروری میں یو اے ای نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہزادی لطیفہ کی ’گھر میں دیکھ بھال‘ کی جارہی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ان کی حالت بدستور بہتر ہو رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ مناسب وقت پر عوامی زندگی میں لوٹ آئیں گی۔‘

لطیفہ کو کیا ہوا تھا؟

شہزادی لطیفہ شیخ محمد بن راشد المکتوم کے 25 بچوں میں سے ایک ہیں۔ اُنھوں نے فروری 2018 میں دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

جانے سے کچھ دیر قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کی زندگی پر بہت زیادہ پابندیاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں 2000 سے ملک سے باہر نہیں گئی ہوں۔ میں سفر کے لیے، تعلیم کے لیے، عام معمول کا کوئی بھی کام کرنے کے لیے بہت کہتی رہتی ہوں۔ وہ مجھے اجازت نہیں دیتے۔‘

لیکن فرار کامیاب نہیں ہو سکا: بحر ہند میں آٹھ دن کے بحری سفر کے بعد کمانڈوز نے انھیں پکڑ لیا اور زبردستی دبئی واپس لے آئے۔

بعد میں ان کے والد نے کہا تھا کہ وہ اسے ایک ’ریسکیو مشن‘ سمجھتے ہیں۔

فروری 2021 میں بی بی سی پینوراما نے شہزادی لطیفہ کی طرف سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیوز نشر کیں جو انھوں نے اپنے بیرون ملک دوستوں کو بھیجی تھیں، جن میں انھوں نے بتایا تھا کہ دبئی واپسی لائے جانے کے بعد اپنی گرفتاری اور حراست کے بارے میں بتایا تھا۔

انھوں نے بتایا تھا کہ انھیں ایک ولا میں بغیر کسی طبی یا قانونی مدد کے تنہا رکھا گیا ہے، جہاں کھڑکیوں اور دروازوں کو بند کر دیا گیا ہے، اور وہاں پولیس کا پہرہ رہتا ہے۔