میکسیکو میں منشیات فروشوں کے چنگل میں پھنسی خواتین میں سرجری کا جنون

  • لنڈا پریسلی
  • بی بی سی نیوز، کولیاکان
میکسیکو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

میکسیکو کی مغربی ریاست سنالوا ملک میں منشیات فروشوں کے سب سے سفاک اور طاقتور گروہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ منشیات کے اس وسیع کاروبار سے کمایا جانے والا پیسہ منشیات فروشوں اور نوجوان خواتین کے درمیان تعلقات پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔

اس پیسے نے مقامی سطح پر پلاسٹک سرجری کروانے کا جنون پیدا کر دیا ہے۔

کولیاکان کے شہر میں ڈاکٹر رافیلا مارٹینز ٹیرازاس کے کلینک میں ان کی میز پر پلاسٹک سرجری کرانے کی خواہش مند خواتین کی درخواستوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر خواتین ایک ایسا آپریشن کروانے کی خواہش مند ہیں جس کو 'نارکو ایستھیٹک' یا منشیات فروش کا ذوق یا پسند کہا جانے لگا ہے۔

ڈاکٹر مارٹینز کا کہنا ہے کہ ’پتلی نازک کمر۔ بڑے اور ابھرے ہوئے کولہے اور اگر ہم چھاتی کی بات کر رہے تو عام طور پر وہ بڑی ہونی چاہییں۔‘

ایسی خواتین جن کی جسامت ایسی ہوتی ہے ان کو میکسیکن زبان میں ’لا بچونا‘ کہا جاتا ہے اور خاص طور پر اگر ان کو چمکیلی اور قیمتی ڈیزائنر اشیا پسند ہوں اور ان کا کوئی 'نارکو' (منشیات فروش گروہ میں شامل شخص) عاشق بھی ہو۔

ڈاکٹر کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسی خواتین کی اوسط عمر 30 سے 40 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ لیکن اکثر بہت کم عمر خواتین بھی آتی ہیں جن میں سے کچھ تو اٹھارہ سال یا اس سے بھی کم عمر ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی آپس میں اس بات پر مقابلے بازی ہوتی ہے کہ کس کا جسم سب سے پُرکشش ہے اور کس کی کمر سب سے نازک ہے۔

ڈاکٹر سے مشورے کے لیے کچھ خواتین اور نو عمر لڑکیاں اپنی ماؤں یا اپنی کسی دوست کے ہمراہ آتی ہیں۔ چند ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی مرد کے ساتھ یا تنہا آتی ہیں۔

ڈاکٹر مارٹینز کا کہنا ہے کہ وہ انھیں کہتی ہیں کہ آپ کا بوائے فرینڈ یا دوست کچھ دن بعد آپ کا نہیں رہے گا لیکن آپ کا جسم ساری عمر آپ کے ساتھ رہے گا۔

’اکثر وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ آتی ہیں جو ان کی سرجری کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ فون پر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر میں ایک لڑکی بھیج رہا ہوں، اس کا آپریشن کرنا ہے۔‘

'ایک شخص نے مجھے فون کیا اور کہا میری ایک لڑکی آپ سے ملنے آ رہی ہے۔ ڈاکٹر آپ کو معلوم ہے مجھے کیا پسند ہے۔ جو کچھ وہ کہے اس پر دھیان نہیں دینا کیونکہ فیس میں ادا کروں گا۔‘

ڈاکٹر نے کہا کہ انھوں نے اُس شخص کو جواب دیا کہ ’جب کوئی گاہک میرے آپریشن تھیٹر میں ہوتی ہے تو وہی اپنے فیصلے کرتی ہے۔‘

’لا بچونا‘ یا گینگسٹر کی گرل فرینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ہسپانوی زبان میں ’لا بچونا‘ کی اصطلاح کا ماخذ کیا ہے، اس پر اختلاف ہے۔ لیکن اس کا اشارہ ایسی خواتین کی طرف ہوتا ہے جن کا جسم سرجری کے بعد خاص بنایا گیا ہو، جو زرق برق لباس پہنتی ہوں اور قیمتی بناؤ سنگھار کرتی ہوں۔

منشیات فروش گینگسٹر ’لا بچونا‘ گرل فرینڈ رکھنا پسند کرتے ہیں لیکن بہت سی خواتین صرف فیشن کے لیے ایسا کرتی ہیں اور اس لیے نہیں کہ ان کے منشیات فروشوں سے تعلقات ہوتے ہیں۔

کم کارڈیشیئن کی طرح دکھائی دینا کبھی کبھی بچونا کہلاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک آدمی نے 30 کے قریب خواتین کو ڈاکٹر مارٹینز کے پاس سرجری کے لیے بھیجا تھا۔

’لپو سکلپچر‘ نامی سرجری کوئی سستا آپریشن نہیں ہے، اس پر ساڑھے چھ ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس رقم کی اکثر نقد ادائیگی کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر مارٹینز کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے ایسے معاملات میں پیسہ منشیات کے کاروبار ہی سے آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں 'مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ اب انھوں نے سرجری کرنے سے پہلے یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ سنالوا میں پوری معیشت چاہے وہ ریستوراں ہوں، ہوٹل، بار، ہسپتال، سب کچھ منشیات کے پیسے پر چلتا ہے۔

ڈاکٹر مارٹینز خاص طور پر ایسی خواتین کو، جن کی سرجری کے اخراجات ان کے عاشق ادا کر رہے ہوں، مشورہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

’میں ان سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ ایسی سرجری کروانا چاہتی ہیں جیسے کہ ان کے عاشق نے کہا ہے۔ کبھی کبھی وہ کہتی ہے کہ جیسا وہ چاہتا ہے ویسا کرنے میں انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ انھیں بتاتی ہیں کہ یہ شخص جو آج آپ کے ساتھ ہے کل آپ کے ساتھ نہیں ہو گا لیکن آپ کا جسم ساری عمر آپ کے ساتھ رہے گا لہذا انھیں وہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ خود کیا چاہتی ہیں نہ کہ وہ کیا چاہتا ہے۔

وہ اپنے کمرے میں ڈاکٹر خواتین اور مرد حضرات میں عارضی معاہدوں کے شواہد دیکھتی ہیں۔ سنالوا میں ذاتی تعلقات کی یہ شکل ہے جو منشیات کے پیسے نے متعین کی ہے۔

ایک نارکو کے لیے یہ بہت اہم بات ہے کہ اس کے پہلو میں ایک حسین اور جمیل لڑکی ہو۔ پیڈور کے فرضی نام سے بات کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ 'نارکو' کا یہ 'پروٹوٹائپ' یا نمونہ ہے۔

پیڈرو ایک بھاری بھر کم اور مضبوط جسم کا مالک 30 برس کا جوان ہے جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا اور جس نے پیڈرو کے فرضی نام سے اپنے آپ کو متعارف کروایا۔

پیڈرو ایک پرسنل ٹرینر یا انفرادی طور پر ورزش کروانے والے شخص ہیں جو سنالوا میں منشیات فروش کے حلقوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ مردوں کے درمیان دوسری خواتین کے لیے مقابلہ بازی ہوتی ہے۔ ’آپ کی بیوی ایک ایسی عورت ہے جو آپ کے گھر میں آپ کے بچوں کی پرورش کرتی ہے لیکن دوسری خواتین آپ کے لیے آپ کے تمغوں کی طرح ہیں۔‘

منشیات فروش کی بیوی

ایما کرونل ایسپرو سنالوا میں منشیات کے ایک گروہ کے سرغنہ ایل چاپو گوزمین کی بیوی ہیں۔ ایما نے اس سال جون میں واشنگٹن میں منشیات فروخت کرنے اور دیگر کئی الزامات میں اعتراف جرم کیا تھا۔

ان کی ملاقات ایل چاپو سے نو عمری ہی میں درانگو میکسیکو میں سنہ 2007 میں ایک مقابلہ حسن میں ہوئی تھی اور وہ اسی دن ایل چاپو سے شادی کرنے پر تیار ہو گئی تھی۔

ان سب معاملات کی بنیاد انتہائی عام نکات پر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مرد اکثر ہوس کا شکار ہوتے ہیں، بڑی چھاتیوں اور بڑے کولہوں کی ہوس۔ کچھ اور نہیں بس جنسی ہوس۔‘

پیڈرو نے دو خواتین کی سرجری کے پیسے ادا کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہو سکتا ہے کوئی آپ کو یہ بتائے کہ میری دوست اپنی چھاتیاں اور اپنے کولہوں یا پھر اپنی ناک کی پلاسٹک سرجری کروانا چاہتی ہے اور وہ کسی کو پیسہ لگانے کے لیے ڈھونڈ رہی ہے پھر وہ اس کا 'سپانسر' یا ناخدا بن جائے گا۔ سودا ہو گیا۔

پیڈرو نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ خاتون یہ کہے کہ ٹھیک ہے میرا جسم چھ مہینے کے لیے آپ کا ہو گا اگر آپ میری سرجری کے اخراجات برداشت کریں۔ اس طرح کے معاہدے صرف سرجری ہی کے لیے نہیں کیے جاتے۔

وہ کہتے ہیں اکثر بن ماں باپ کی بچیاں اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے بھی کسی بوائے فرینڈ کی تلاش میں ہوتی ہیں۔ اس طرح کے معاہدے کسی قیمتی چیز مثلاً گاڑی، گھر، نقد رقم اور کسی پرتعیش شے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔

سنالوا میں جہاں غربت عام ہے اور منشیات فروش گروہوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے زندگی کی کوئی قیمت نہیں ایک سرپرست کی موجوگی خواتین کے لیے نہ صرف آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔

یہ ہی کارمین (فرضی نام) کے ذہن میں بھی تھا جب انھوں نے ایک نارکو کے ساتھ معاہدہ کیا۔ وہ سنالوا کے سب سے بڑے شہر کولیاکان میں رہتی ہیں لیکن ان کا تعلق دیہی علاقے میں آباد غریب خاندان سے ہے اور بچپن میں انھیں اکثر بھوکا سونا پڑتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ ایسی زندگی چاہتی تھیں جو ان کے گھر والے انھیں نہیں دے سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'میں جب سولہ سال کی تھی میں نے اپنی ماں سے کہا کہ میں اپنی زندگی خود گزارنا چاہتی ہوں۔ مجھے یاد ہے میری دادی نے کہا کہ تم تو ابھی بچی ہو تم کیا کرو گی؟ اور میں نے کہا میرے ہاتھ پاؤں ہیں اور میں ایک سمجھ دار لڑکی ہوں میں کام کر سکتی ہوں۔‘

کارمیبن کولیاکان منتقل ہو گئی اور یہ ایسے گھرانے کے ساتھ رہنے لگیں جن کا تعلق منظم جرائم سے تھا۔ اس گھر میں ان پر جنسی حملہ کیا گیا۔ کارمین کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی اور انھوں نے اسے سب کچھ بتا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’اس نے دیکھا کہ میں ڈری ہوئی ہوں۔ اس نے کہا میرا نمبر رکھ لو۔ میں نے جرات کی اور گھر چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ رابطے میں رہی۔ یہ میل جول جنسی تعلق میں بدل گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ تم ایک لڑکی ہو اور تنہا ہو اور تمہیں تحفظ فراہم کرنے والا اس شہر میں کوئی نہیں اور یہ ایک خطرناک شہر ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس نے کہا میں تمہاری سرپرستی کروں گا۔ اب جب بھی وہ چاہتا ہماری ملاقات ہوتی اور اس کے سب ملنے والے بھی مجھے جاننے لگے ہیں۔ میں کولیاکان میں آزادی سے گھومتی پھرتی ہوں اور مجھے تحفظ کا احساس ہوتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کتنی اور خواتین کے اس مرد کے ساتھ تعلقات ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

کارمین ایک باہمت اور باعزم عورت ہیں۔ یہ نوجوان خاتون جو یونیورسٹی جانے اور اپنا کاروبار کرنے کے خواب دیکھتی تھیں انھوں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ سنالوا میں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے کہ انھیں اس شخص کی مرضی پر چلنا ہو گا جو کہ بہت خطرناک تصور کیا جاتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے دل سے اس کا خوف نہیں نکل سکا۔ جب میری اس سے ملاقات ہوئی تھی اس وقت مافیا اور کارروبار کی بات ہو رہی تھی جس سے میرے دل میں خوف بیٹھ گیا۔

میں نے یہ سب کچھ بھولنے کی کوشش کی جو کچھ میں نے دیکھا تھا یا جو میں جانتی تھی کیونکہ اس سب کی وجہ سے میں مشکل میں پڑ سکتی تھی۔ ہو سکتا ہے میرا سرپرست اتنا برا نہ ہو لیکن اس نے برے کام کیے تھے اور وہ مجھے نقصان نہ پہنچانا چاہتا ہو لیکن وہ مجھے غائب کروا سکتا تھا چاہے وہ برا ہو یا اچھا ہو۔‘

کارمین پر اپنے سرپرست کا دباؤ تھا کہ وہ پلاسٹک سرجری کروائے تاکہ اس کی جسامت مزید پرکشش ہو جائے۔ اب تک وہ مشورے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز کرتی رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں سوچتی تھی جو سرجری کرواتی ہیں وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں اور وہ بتوانا بننے میں مجھ سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہوں گی۔‘

نارکو کلچر میں سرجری کروانے کا جنون سنالوا کے معاشرے میں بھی فیش بن گیا۔ کولیاکان بھر میں سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کے بڑے بڑے اشتہاری بورڈ نظر آنے لگے ہیں اور ان اشتہارات میں گاہکوں کو ایسی پیش کشیں بھی کی جانے لگیں کہ اگر آپ سرجری کی فیس ایک ساتھ ادا نہیں کر سکتے تو آپ قسطیں کروا لیں۔

نو عمر لڑکیوں کے لیے یہ عام بات ہے کہ انھیں اپنی سالگرہ پر تحفے کے طور پر چھاتی یا ناک کی سرجری کروانے کے اخراجات مل جائیں۔

،تصویر کا ذریعہUS ATTORNEY OFFICE

جینٹ کوانٹرو ایک بڑے بیوٹی سلون کی مالکہ ہیں اور وہ 20 سے زیادہ سرجریاں کروا چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ بہت پسند ہے۔ خواتین کے لیے سرجری ایک نعمت سے کم نہیں ہے وہ اپنے جسم میں وہ تبدیلیاں کر سکتی ہیں جو وہ کرنا چاہتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ جب وہ 20 برس کی تھیں تو ان کے کولہے سنالوا کی عام خواتین کے مقابلے میں بہت بڑے تھے اور وہ بھی عام خواتین کی طرح دکھنا چاہتی تھیں۔

اب فیشن بدل رہا ہے کچھ خواتین اپنی چھاتیوں اور اپنے کولہے چھوٹے کروانا چاہتی ہیں۔ لیکن گیبریلا جو ان کا اصلی نام نہیں ہے 38 سال کی ہیں اور 'سنگل مدر' یعنی ان کے بچوں کا باپ نہیں اور وہ ایک کاروبار چلاتی ہیں۔

وہ بہت خوش ہیں کہ شادی ختم ہونے کے بعد انھوں نے اپنے جسم کے خدوخال بہتر کرنے کے لیے سرجری کروائی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سرجری کے بعد ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے گو کہ اس سے انھیں ابھی تک کسی نئے شخص کی توجہ حاصل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے۔

سنالوا میں ہرعورت اپنی زندگی میں ایک ایسے دور سے گزرتی ہے جب وہ کسی نارکو کی گرل فرینڈ بننا چاہتی ہیں لیکن گیبریلا کہتی ہے وہ اب ایک مختلف شخص کی تلاش میں ہیں جو سمجھ دار ہو، کام کرنے والا ہو اور ان سے وفادار ہو۔ سنالوا میں یہ خصوصیات رکھنے والا شخص ملنا مشکل ہے۔

گیبریلا نے فلسفیانہ انداز میں کہا کہ 'یہاں کے مردوں کے لیے یہ عام بات ہے کہ وہ تین یا چار خواتین سے تعلقات رکھیں اور ان کی گرل فرینڈز بھی ہوں۔'

'اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مرد اور زیادہ بے شرم ہو گئے ہیں۔ خواتین یہ سب کچھ اس لیے برداشت کرتی ہیں کہ وہ معاشی طور پر مجبور ہیں اور ان کی آنکھیں یہ سب کچھ نہیں دیکھتیں اور ان کے دل نہیں دُکھتے۔

ماریا تریسا گوئرا ایک وکیل ہیں اور وہ خواتین کے حقوق کے لیے دس سال سے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نارکو کلچر میں یہ سوچ مضبوط ہو گئی ہے کہ خواتین مردوں کی جاگیر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سوچ کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے چاہیے یہ تشدد کسی نارکو شناسا کی طرف سے ہو یا اس کے دشمنوں کی طرف سے۔

گوئرا کہتی ہیں کہ 'خواتین قتل کر دی جاتی ہیں اگر ان کا کسی منشیات فروش سے تعلق ہو یا کسی مرد کو یہ شبہ ہو کہ اس کو دھوکہ دیا گیا ہے۔'

نارکو یہ پیغام بھیجتے ہیں کہ ان خواتین کا ان سے تعلق ہے۔'

سنالوا میں جتنی خواتین آتشیں اسلحہ کا نشانہ بن جاتی ہیں ان کی تعداد میکسیکو کے باقی صوبوں کے مقابلے میں دگنی ہے۔

گوئرا نے مزید کہا کہ کولیاکان میں خواتین پر تشدد اور ظلم بہت زیادہ ہے اور خواتین کی ایسی لاشیں ملتی ہیں جنھیں تشدد یا جلا کر ہلاک کر دیا گیا ہو۔

انھوں نے بتایا کہ 'مجھے یاد ہے ایک لڑکی کا کیس جس کا بوائے فرینڈ ایک نارکو تھا۔ اس لڑکی کی سرجری کا خرچ نارکو نے برداشت کیا۔ جب اس لڑکی کو قتل کیا گیا تو قاتل نے اپنی تمام گولیاں اس لڑکی کی چھاتیوں اور اس کے کوہلوں پر ماری تھیں۔ اس کے جسم کا وہ حصہ جس پر اس نے پیسہ خرچ کیا تھا۔'

ایک عورت کے لیے ایک نارکو کو انکار کرنا کتنا آسان ہے؟

گوئرا کا کہنا ہے وہ بہت سی ایسی خواتین کو جانتی ہیں جو منشیات فروشوں سے چھٹکارا پانا چاہتی ہیں لیکن یہ آسان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'حکام نارکو کلچر کے بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ منظم جرائم کے خلاف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی ایک طرح سے وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ نارکو کو تحفظ ملتا ہے خواتین کو نہیں۔'

کارمین جنھوں نے منشیات فروشی کے بڑے گروہ کے ساتھ خطرناک تعلق بنا لیا ہے ہو سکتا ہے وہ یہ سب کچھ سمجھ نہ سکیں ہوں۔ یا کم از کم وہ اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرنا چاہتیں۔

وہ یہ نہیں جانتیں کہ کب تک وہ اپنی چھاتیاں اور کولہے بہتر بنانے کے لیے سرجری کروانے کے مطالبات کو پورا کرنے سے انکار کر سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے 'اب تک وہ مجھے کسی دیوی کی طرح رکھتا ہے۔'

ہو سکتا ہے لیکن سنالوا میں آپ کسی مسلح شخص کو ناراض نہیں کرتے۔