بحرالکاہل میں آتش فشاں: راکھ میں ڈھکا ٹونگا ’چاند کی سطح‘ کا منظر پیش کرنے لگا، ہزاروں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ

ٹونگا

،تصویر کا ذریعہTONGA GEOLOGICAL SERVICES

جنوبی بحرالکاہل میں جزیرہ ریاست ٹونگا کے قریب زیرِ سمندر بڑا آتش فشاں پھٹنے کے بعد ٹونگا راکھ کی چادر میں ڈھک چکا ہے اور یہاں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے ساتھ ساتھ مواصلات کے ذرائع بھی منقطع ہو چکے ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس اور ریڈ کریسینٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہاں 80 ہزار کے قریب افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔'

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ سونامی نے ٹونگا میں 'خاصی تباہی' مچائی ہے جس سے کشتیاں ساحلوں سے دور ہو چکی ہیں اور ساحلی پٹی پر موجود دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

تاہم تاحال کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

اس حوالے سے معلومات بھی فی الحال محدود ہیں تاہم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی جانب سے تباہی کی اصل صورتحال جانچنے کے لیے پروازیں بھیجی جا رہی ہیں۔

آئی آر ایف سی نامی تنظیم کی کیٹی گرین وڈ جو اس وقت فجی میں موجود ہیں بتاتی ہیں کہ ٹونگا میں فوری مدد درکار ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ہمیں خدشہ ہے کہ ٹونگا میں 80 ہزار کے قریب افراد آتش فشاں پھٹنے کے باعث متاثر ہوئے ہوں گے، یا پھر سونامی کے باعث اور اس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں پڑنے والی راکھ کے باعث۔'

'یہ وہاں موجود افراد کے لیے ایک دھچکا تھا، اس لیے ہم ان جزیروں میں رہنے والوں کے بارے میں بھی پریشان ہیں اور لوگوں سے بات کرنے کے لیے شدت سے بیتاب ہے۔'

،تصویر کا ذریعہCONSULATE OF THE KINGDOM OF TONGA

بحرالکاہل میں جس جگہ یہ آتش فشاں پھٹا ہے وہاں سے ٹونگا کا دارالحکومت 65 کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔ سنیچر کے روز پھٹنے والے اس آتش فشاں کے باعث آسمان میں راکھ کا ایک بادل اٹھا جس کے بعد ٹونگا کو چار فٹ بلند لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے پھٹنے کی آواز اتنی بلند تھی کہ اسے نیوزی لینڈ تک سنا گیا، جو ٹونگا سے 2383 کلومیٹر دور ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ٹونگا اس وقت 'چاند کی سطح کا منظر' پیش کرتا ہے کیونکہ یہ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ میں ڈھک چکا ہے۔

اتوار کے روز وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق راکھ کے باعث پانی بھی آلودہ ہو چکا ہے جس کے باعث صاف پانی بھی ایک اہم ضرورت ہے۔

معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ راکھ کے باعث حکام نے لوگوں سے پانی کی بوتلیں خریدنے اور ماسک پہننے کی تاکید کی ہے تاکہ وہ اپنے پھیپھڑوں کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

سنیچر کو جیسے ہی آسمان پر راکھ کے باعث اندھیرا ہونا شروع ہوا تو سوشل میڈیا پرشیئر ہونے والی ویڈیوز میں لوگوں کو ساحل سے دور علاقوں کی جانب گاڑیوں پر جانے کی کوشش میں ٹریفک جام میں پھنسے دیکھا گیا۔

کچھ گھنٹوں بعد ٹونگا میں انٹرنیٹ اور مواصلات کا نظام خراب ہوا تو یہاں رہنے والے ایک لاکھ پانچ ہزار افراد مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے۔

اس آتش فشاں میں ہونے والے سب سے زور دار دھماکے سے قبل بھی اس میں کئی دنوں سے دھماکے ہو رہے تھے۔ ٹونگا کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ کچھ علاقوں میں گندھک اور امونیا کی بدبو آ رہی تھی۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بتایا کہ یہاں کچھ علاقوں میں بجلی کی بحالی ممکن بنائی جا چکی ہے تاہم موبائل فونز آہستہ آہستہ دوبارہ کام کرنا شروع کر رہے ہیں۔ تاہم ساحلی علاقوں کی صورتحال تاحال معلوم نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں ٹونگا نژاد افراد اپنے دوستوں اور خاندان کی خیریت دریافت نہ کر پانے پر خاصے پریشان ہیں۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے دوست سے بات نہیں ہو پا رہی جو ٹونگا کے دارالحکومت نوکوآلوفا میں ساحل پر ایک ریستوران چلاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNOAA

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ سب خاصا افسردہ کر دینے والا ہے۔ اس سے ان کو بہت نقصان ہوا ہو گا، کیونکہ وہ ایک عرصے تک لاک ڈاؤن میں تھے اور ان کے پاس کوئی بھی سیاح نہیں جا پا رہے تھے اور اب یہ ہو گیا ہے۔'

سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق ٹونگا کی حدود میں موجود کچھ جزائر مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ہونگا ٹونگا ہونگا ہاپائی‘ نامی آتش فشاں کا پھٹنا اس خطے میں گذشتہ کئی دہائیوں کا سب سے نمایاں واقعہ ہے۔

اس کے باعث امریکہ، جاپان سمیت متعدد ممالک میں سونامی وارننگ جاری کی گئیں اور امریکی ریاستوں کیلیفورنیا اور الاسکا کی ساحلی پٹی پر سیلابی صورتحال دیکھنے میں آئی۔