دوسری عالمی جنگ: ہٹلر کے نائب روڈولف ہس کی نگرانی پر مامور برطانوی گارڈ کے سامان سے پروپیگنڈا پوسٹر برآمد

  • نیل پرائر
  • بی بی سی نیوز
پروپیگنڈا پوسٹر

،تصویر کا ذریعہRosemary Chaloner

،تصویر کا کیپشن

کریگ کا خیال ہے کہ ان کے والد کا پروپیگنڈا پوسٹروں سے پہلی بار سابقہ اس وقت پڑا جب انھوں نے ایک جرمن لڑکی مارگِٹ سے شادی کی

’مکان کے بالا خانے (لافٹ) میں آپ کو کیا ملنے کی توقع ہوتی ہے؟ کرسمس پر سجاوٹ کا کچھ پرانا سامان، شاید ایک پرانا کمپیوٹر۔۔۔ مگر یقیناً نازی نظریات کا پرچار کرنے والے پوسٹر تو بالکل نہیں۔‘

مگر کریگ لیمبرٹ کو سنہ 2019 میں اپنے والد کی وفات کے بعد برطانیہ کے علاقے بیری میں اُن کے مکان کے بالا خانے سے یہ ہی کچھ ملا تھا۔

سنہ 1951 سے 1955 تک اُن کے والد سارجنٹ میجر کولِن لیمبرٹ جرمن نازی لیڈر ہٹلر کے نائب روڈولف ہس کی برلن میں سپینڈا کے قید خانے میں عمر قید کے دوران اُن کی نگرانی پر مامور رہے تھے۔

جرمنی سے واپسی پر جن نوادرات کے ساتھ وہ واپس آئے ان میں سے ایک اُن کی موت تک خفیہ رہا۔

ان میں سنہ 1942 کے زمانے کا وہ مواد بھی شامل ہے جس میں لندن پر جرمنی کے حملوں کو جائز قرار دیا گیا تھا اور اتحادیوں کے بحری جہاز ڈبونے میں جرمن جنگی کشتیوں کی کامیابیوں کا تذکرہ بھی ہے۔

کریگ نے یہ پوسٹر اب مقامی عجائب گھر کو عطیہ کر دیے ہیں۔

انھوں نے کہا ’میرے والد ہمیشہ اپنی فوجی زندگی کے قصے سُنایا کرتے تھے۔ ہم ’اونلی فولز اینڈ ہارسز‘ کے ایک کردار کی نسبت سے انھیں انکل البرٹ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

’وہ ہمیں روڈولف ہس کی نگرانی کے قصے سُنایا کرتے تھے، مگر وہ جو کچھ جرمنی سے اپنے ساتھ لائے تھے اس کے بارے میں شاذ و نادر ہی کبھی بات کرتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہCraig Lambert

،تصویر کا کیپشن

کریگ کے والد کولن لیمبرٹ (دائیں)، جنھیں وہ انگلش کامیڈی سیریز ’اونلی فولز اینڈ ہارسز‘ کے ایک کردار کی نسبت سے انکل البرٹ پکارتے تھے

’سگریٹ شیئر کرنا‘

ہس 1930 کی پوری دہائی کے دوران ہٹلر کے نائب رہے۔ وہ تھرڈ رئیش (جرمن سلطنت) کے نظریے کے خالق تھے۔

وہ 1941 میں خفیہ طور پر پیراشوٹ کے ذریعے سکاٹ لینڈ میں اترے، ان کا دعوٰی تھا کہ وہ جنگ کو پُرامن طریقے سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

انھیں جنگ کے خاتمے تک برطانیہ میں قید رکھا گیا جس کے بعد انھیں عمر قید کی سزا کے لیے جرمنی لے جایا گیا تاکہ وہ نوریمبرگ وار ٹرائلز کا سامنا کر سکیں۔

کریگ کہتے ہیں ’میرے والد سپینڈا کے ایک وِنگ میں صرف ایک قیدی کی نگرانی پر مامور تھے اور وہ تھے ہس۔‘

’وہ بیزار آ گئے تھے کیونکہ وہ باتونی تھے، اور ایک رات وہ روڈولف ہس کے ساتھ باتیں کرتے اور سگریٹ شیئر کرتے ہوئے پکڑے گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ اس کی رپورٹ خود ہس نے فوجی حکام کو دی کیونکہ اتحادی فوجیوں کے لیے ہس سے گفتگو کرنا بالکل ممنوع تھا۔ اس کی پاداش میں کولن کو دو ہفتے تک فوجی جیل میں رہنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCraig Lambert

،تصویر کا کیپشن

کولن لیمبرٹ کی ذمہ داری سپینڈا میں قید نازی لیڈر روڈولف ہس کی نگرانی کرناتھا

’نازیوں کے خفیہ حامی‘

کریک نے مذاقاً کہا کہ اُن کے والد کے ملٹری ریکارڈ پر یہ واحد دھبہ نہیں ہے۔

’ابّا 1950 میں ابھی ہالینڈ میں اترے بھی نہیں تھے کہ ان کے خلاف رات کو بیرک سے بلا اجازت نکلنے کی رپورٹ کی گئی، انھیں بڑے رتبے کے ایک افسر کو گالی دینے اور شراب کے نشے میں دھت ہونے پر گرفتار کیا گیا۔‘

ایک برس بعد کولن نے ایک ایسی جرمن لڑکی سے شادی کر لی، جس سے انھیں پہلی نظر میں عشق ہو گیا تھا۔

لڑکی کے والدین خفیہ طور پر نازی حامی تھے، اور گھر کے تہہ خانے میں انھوں نے ایڈولف ہٹلر کی یادگار بنا رکھی تھی۔

کریگ کا خیال ہے کہ جیل کی بجائے یہ جگہ تھی جہاں پہلی مرتبہ ان کا ان پوسٹروں سے سابقہ پڑا۔

،تصویر کا ذریعہRosemary Chaloner

،تصویر کا کیپشن

کریگ لیمبرٹ کو نازی نظریات کا پرچار کرنے والے یہ پوسٹر اس وقت ملے جب وہ اپنے والد کے گھر کے بالائی خانے یا ایٹِک کی صفائی کر رہے تھے

’میرے والد کو پتہ چلا کہ مارگِٹ ان سے بے وفائی کر رہی تھی، اشتعال میں آ کر انھوں نے لڑکی کے والدین کی تمام نازی یادگاریں توڑ ڈالیں، مگر کسی وجہ سے ان تین پوٹسروں کو اپنے پاس رکھ لیا۔

’مارگٹ سے ان کا ایک بیٹا، میرا سوتیلا بھائی تھا، تو شاید انھیں یہ پوسٹر ثبوت کے طور پر رکھ لیے ہوں کہ کہیں مارگٹ انھیں بیٹے سے ملانے سے انکار کر دے تو وہ اسے ڈرا سکیں۔‘

کریگ بس اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ ان کے والد اور روڈولف ہس کے مابین سگریٹ پیتے وقت کیا بات ہوئی ہوگی۔

’کمر توڑ کام‘

،تصویر کا ذریعہRosemary Chaloner

بیری وار میوزیم میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی تاریخ داں روزمیری شیلونر کا کہنا ہے کہ ’سپینڈا کا اب کچھ باقی نہیں ہے، 1966 سے لے کر 1985 میں ان کی موت تک ہس وہاں پر واحد قیدی تھے، جس کے بعد پوری جگہ کو مسمار کر دیا گیا اور ملبے کو پیس کر نارتھ سی میں بہا دیا گیا تاکہ اس کی کوئی یادگار نہ بنائی جا سکے۔‘

وہ کہتی ہیں، ’ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ جو کچھ باقی بچا ہے وہ چابیوں کا ایک سیٹ ہے جو سکاٹِش میوزیم میں محفوظ ہے، اور اب ممکنہ طور پر یہ پوسٹر رکھے جائیں گے، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ان کا تعلق اسی جیل سے تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’گلیمورگن آرکائیو کی سخت محنت کے بغیر ان پوسٹروں کو محفوظ بنانا ہمارے لیے ممکن نہ ہوتا۔

’انھوں نے ان پوسٹروں کو آرکائیول پولیئسٹر میں لپیٹ کر ایک مائکروچیمبر میں سر بمہر کر دیا ہے تاکہ وہ مزید خراب ہونے سے بچ جائئں۔‘