یوکرین کے پولٹاوا ریجن میں شاپنگ سنٹر پر حملے میں 16 ہلاک، جی سیون رہنماؤں نے ’جنگی جرم‘ قرار دیا

  • جو ان وڈ
  • بی بی سی نیوز، کیئو
Flames engulfing the mall in Kremenchuk

،تصویر کا ذریعہTELEGRAM/V_ZELENSKIY_OFFICIAL

یوکرین کے پولٹاوا ریجن میں کریمنکوف نامی علاقے میں ایک شاپنگ سینٹر پر میزائل حملے میں کم ازکم 16 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت شاپنگ سینٹر میں تقریباً 1000 شہری موجود تھے۔

اشیائے خوردونوش کی خریداری کے لیے یہ ایک مصروف مال ہے۔

امیر ترین ممالک کے جی سیون گروپ کے رہنماؤں (جن کا اجلاس جرمنی میں منعقد ہو رہا ہے) نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔

روس کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، جس میں کم از کم 59 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

پولٹاوا ریجن کے سربراہ دمیتری لونن نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے جنگی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

صدر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پر بھی ایک پوسٹ لگائی ہے جس میں عمارت آگ سے تباہ شدہ دکھائی دے رہی ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روس نے جس جگہ میزائل حملہ کیا ہے وہاں ایک ہزار لوگ موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہUkraine Emergency Services

اطلاعات کے مطابق مقامی وقت سہ پہر ساڑھے تین بجے کے قریب شاپنگ مال پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں جلد ہی وہاں آگ بھڑک اٹھی اور 10 ہزار سکوائر میٹر تک پھیل گئی۔

کیئو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نِک بیک کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں ممکنہ طور پر اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ شاپنگ کی ایک مصروف جگہ تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز سے یہ لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر بہت سے لوگ اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ اس شہر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ دس روز پہلے بھی یہاں آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم اس سے پہلے اتنا بڑا حملہ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ دیگر انفرانسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اس سے قبل 1998 میں روس نے بورس یلسٹن کے دور میں روبل کے بحران کی وجہ سے ڈیفالٹ کیا تھا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سال میں پہلی مرتبہ روس قرض کی رقم وقت پر ادا کرنے میں ناکام

خیال ہے کہ روس 1998 کے بعد پہلی بار مقررہ وقت پر قرض کی ادائیگی نہیں کر سکا ہے۔

روس کے پاس 10 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے لیے رقم تو ہے اور وہ ادا کرنے کے لیے تیار بھی ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے یہ رقم بین الاقوامی قرض دہندگان تک پہنچانا ناممکن ہو گیا ہے۔

کریملن ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے پرعزم تھا، جو کہ ملک کے وقار کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

دس کروڑ ڈالر سود کی ادائیگی 27 مئی کو ہونی تھی۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ رقم یوروکلیئر کو بھیجی گئی تھی، جو ایک بینک ہے جو سرمایہ کاروں میں ادائیگی تقسیم کرے گا۔

لیکن بلومبرگ نیوز کے مطابق، وہ ادائیگی وہاں پھنس گئی ہے، اور قرض دہندگان کو رقم نہیں مل پائی ہے۔

دوسری طرف کریملن نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس صورتحال کو ڈیفالٹ کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

پیسکوف نے کہا کہ روس نے مئی میں بانڈ کی ادائیگیاں کی تھیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ روس پر مغربی پابندیوں کی وجہ سے انھیں یوروکلیئر نے بلاک کر دیا تھا جو کہ ’ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دارالحکومت کیئو میں روسی میزائل کے بعد کے مناظر

یوکرین پر روسی میزائل حملوں میں تیزی

کیئو میں بی بی سی کے نامہ نگار جوان وڈ کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ پر جی سیون ممالک کا اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، یوکرین پر روسی میزائل حملوں میں تیزی آئی ہے جن میں سے زیادہ تر کا نشانہ دارالحکومت کیئو بن رہا ہے۔

واضح رہے کہ صرف اتوار کے دن ہی کیئو پر، حکام کے مطابق، چودہ میزائل فائر کیے گئے جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چھ افراد زخمی ہوئے۔

ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب روس کو جنگ کے دوران پہلی اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے کیا یوکرین پر ان میزائل حملوں کا مقصد جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں پہلے روس کی حالیہ اہم کامیابی اور اس کے جنگ پر اثرات کو سمجھنا ہو گا۔

روس اور یوکرین کی جنگ میں یہ بات تقریباً واضح ہو چکی تھی کہ سیوردونیتسک شہر پر روس کا قبضہ ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود اس شہر کا ہاتھ سے نکل جانا یوکرین کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔

گذشتہ کئی ہفتوں سے یہ شہر روس کی توجہ کا مرکز تھا اور اس پرانے انڈسٹریل شہر کو توپ خانے اور فضایئہ کی مسلسل بمباری نے کھنڈرات میں بدل دیا تھا۔

آخر کار یوکرین کے فوجی کمانڈرز نے کہہ دیا کہ ان کھنڈرات کے مزید دفاع میں زیادہ جانیں گنوانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ہفتے کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے سیوردونیتسک پر روس کے مکمل قبضے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ’اخلاقی اور نفسیاتی طور پر ایک مشکل دن‘ قرار دیا۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یوکرین کے لوہانسک علاقے کے سب سے بڑے شہر کی فتح کے بعد روس اپنے اہم سٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں ایک قدم آگے بڑھا ہے۔ ابتدائی جنگ میں پورے یوکرین پر قبضے کی کوشش میں ناکامی کے بعد روس نے ڈنباس کے وسیع مشرقی علاقے پر قبضہ کرنے کے مقصد پر توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔

یہ علاقہ دو خطوں پر مشتمل ہے جن میں دونیتسک اور لوہانسک شامل ہیں۔ ان میں سے ایک کو بھی حاصل کرنے سے روسی صدر پوتن اس پوزیشن میں آجاتے ہیں کہ وہ اپنی عوام کو بتا سکیں کہ انھوں نے ایک واضح کامیابی حاصل کی ہے جس میں اب تک وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔

لیکن ابھی بھی لوہانسک کے مکمل خطے پر روسی کنٹرول طے شدہ نہیں، اگرچہ اس کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔

سیوردونیتسک سے چند میل کے فاصلے پر موجود لسچانسک شہر اب روس کے راستے میں رکاوٹ ہے جو اب تک یوکرین کے پاس ہے۔ سیوردونیتسک سے پسپائی کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ یوکرین کی فوج اس مقام پر موجود ہے۔

لسچانسک کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس خطے کے جغرافیے اور جنگ میں اس کے کردار کو سمجھنا ہو گا۔

یہ دونوں شہر سیویرسکی دونیتس دریا کے ساتھ موجود ہیں جو ڈنباس خطے سے گزرتا ہے اور اب تک یہاں روس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

تقریباً ایک ماہ قبل اس دریا کو پار کرنے کی کوشش کے دوران روسی فوج کا ایک پورا بٹالین گروپ اس وقت تباہ ہو گیا تھا جب یوکرین کے توپ خانے نے سینکڑوں فوجیوں اور درجنوں بکتر بند گاڑیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہUKRAINIAN AIRBORNE FORCES COMMAND

،تصویر کا کیپشن

سیویرسکی دونیتس دریا پر روسی فوج کی تباہ شدہ بکتر بند گاڑیاں

سیوردونیتسک اور لسچانسک کے درمیان موجود تمام پل تباہ ہو جانے کے بعد یہاں پر دریا کا خم روسی پیش قدمی کے خلاف ایک قدرتی دفاعی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اگر لسچانسک شہر کو دیکھیں تو یہ ایک پہاڑی کے اوپر واقع ہے جس کا مطلب ہے کہ لوہانسک میں یوکرین کی آخری پوزیشن کو حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔

انسٹیٹیوٹ آف وار سٹڈیذ کے تجزیہ کار اس جنگ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ جاری کرتے ہیں۔ 24 جون کے تجزیے میں انھوں نے نوٹ کیا کہ یوکرین کی فوج اب لسچانسک میں بلندی پر پوزیشن سنبھال لے گی جس کے بعد اگر روس ان کا رابطہ منقطع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر ان یوکرینی دستوں کے لیے روسی حملے کو پسپا کرنا کچھ مدت کے لیے نسبتاً آسان ہو گا۔

لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ روس بالکل ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روسی فوج یوکرینی دستوں پر جنوب کی جانب سے دباؤ بڑھا رہی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اب وہ شہر کے اتنا قریب ہیں کہ ان کو اندر دکھائی دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روسی حمایت یافتہ دستوں کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’یوکرین کی سیوردونیتسک اور لسچانسک کے دفاع کی کوشش بے مقصد اور وقت کا ضیاع ثابت ہو گا۔‘

ایندرے مارچوکو، جو لوہانسک میں روسی فوج کے نمائدے ہیں، نے کہا کہ ’جس رفتار سے ہمارے فوجی پیشقدمی کر رہے ہیں، بہت جلد پورا لوہانسک پیپلز ریپبلک کا علاقہ آزاد ہو جائے گا۔‘

انھوں نے دعوی کیا کہ ’ہمارے فوجی لسچانسک کے کئی شہری علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔ اب ہم یوکرنی دستوں کی نقل و حرکت کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA

اہم سوال یہ ہے کہ روس کا مقصد کیا ہے؟

کیا روس ڈنباس کا علاقہ حاصل کر کے یوکرین کو جنگ بندی پر مجبور کر سکتا ہے، جس کے دوران لوہانسک اور دونیتسک پر اپنا تسلط قائم کر کے سرحدوں کو ازسر نو تشکیل دیا جائے؟

یہ عین ممکن ہے، خصوصاً اگر تجزیہ کاروں کی رائے درست ہے اور روس کی فوج تھک چکی ہے۔

ایسے مقصد کو روس میں بطور فتح پیش کیا جا سکتا ہے کہ خصوصی فوجی آپریشن نے ڈنباس یا اس کے بچے کھچے حصے کو آزاد کروا لیا۔

روس اس بات کی امید کرے گا کہ عملی سیاست شروع ہو جائے گی جس میں یوکرین پر امن اور عالمی استحکام کے نام پر اس علاقے کا نقصان تسلیم کرنے کا دباؤ بڑھے گا لیکن یوکرین یقینا اس پیشکش کو رد کر دے گا، جس کے بعد ایک منجمند تنازع باقی رہے گا۔

اگر اس کا متبادل سوچا جائے تو کیا روسی صدر پورے جنوبی یوکرین پر کنٹرول حاصل کرنے یا پھر یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ایک اور جارحانہ پیش قدمی کی کوشش کر سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہSOPA IMAGES

اس سوال کا جواب صرف ایک ہی شخص کے پاس ہے اور وہ ابھی اپنے عزائم چھپا کر رکھے ہوئے ہے لیکن اگر ہم اندازہ لگانا چاہیں کہ روس کا یہ خصوصی فوجی آپریشن کس طرح ختم ہو سکتا ہے تو ہمیں صدر پوتن کے الفاظ پر دھیان دینا ہو گا۔

جون کے آغاز میں صدر پوتن نے خود کو پیٹر دی گریٹ سے مماثلت دیتے ہوئے روس کے یوکرین پر حملے کو تین صدیوں قبل روس کی وسعت کی خاطر لڑی گئی جنگوں سے ملایا۔

یہ ایک اعتراف تھا کہ ان کی جانب سے شروع کی گئی جنگ زمین پر قبضے کی کوشش ہے۔

صدر پوتن نے کہا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اپنی زمین کو مضبوط کرنے کا کام ہمارے حصے میں آیا ہے۔‘

نوجوان انٹرپرینیئورز سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ یہ واضح تھا کہ ان کا اشارہ یوکرین پر حملے کی جانب تھا۔

روس نے اس جنگ کے آغاز پر کئی اہم غلطیاں کی تھیں۔ روس نے یوکرینی عوام کے ارادوں اور فوج کی صلاحیت کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔

یوکرین کے دارالحکومت پر قبضے کی کوشش میں روس کو بدترین شکست ہوئی۔ یہ ایک دردناک تجربہ تھا لیکن مفید سبق بھی۔

ڈنباس کے خطے میں سست رفتار پیش قدمی ثابت کرتی ہے کہ روس نے اپنی ان غلطیوں سے سبق سیکھا اور اب ان کو دوبارہ نہ دہرانے کے لیے پرعزم ہے۔