یوکرین کے کسانوں سے کم قیمت پر زبردستی خریدا گیا اناج کہاں جا رہا ہے؟

  • نک بیکے، ماریا کورنیوک اور ریئلٹی چیک ٹیم
  • بی بی سی نیوز
جنوبی یوکرین کے گندم کے کھیتوں میں ایک یوکرینی فوجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جنوبی یوکرین کے گندم کے کھیتوں میں ایک یوکرینی فوجی

روسی افواج پر بارہا یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں اناج کی چوری کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روسی فوجیوں پر یوکرینی کسانوں سے سورج مکھی کے بیجوں کے ساتھ کھاد اور زرعی آلات سمیت دیگر فصلیں بھی چوری کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بی بی سی نے یوکرین کے کسانوں سے بات کی ہے اور اس کے ساتھ سیٹلائٹ کی تصاویر کا تجزیہ کیا ہے اور اس بات کے شواہد تلاش کرنے کے لیے ٹریکنگ ڈیٹا کی چھان بین کی ہے کہ آخر چوری شدہ اناج کہاں جا رہا ہے۔

جنگی محاذ سے چند درجن میل کے فاصلے پر یوکرین کے کسان دیمیٹرو ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے 25 برسوں میں جس کاروبار کو پروان چڑھایا تھا وہ روسی قبضے کے چار ماہ میں ختم ہو گیا۔

بی بی سی نے 200 سے زائد کسانوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جن کی زمین اب روس کے زیر قبضہ علاقے میں ہے۔ دیمیٹرو (ہم اس کا اصل نام انھیں انتقامی کارروائیوں سے بچانے کے لیے استعمال نہیں کر رہے ہیں) ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہم سے بات چیت کے لیے تیار ہوئے۔

انھوں نے کہا: ’انھوں (روسی فوجیوں) نے ہمارا اناج چرا لیا۔ انھوں نے ہمارے کھلیان کو تباہ کر دیا، ہمارے سامان کو تباہ کر دیا۔'

ان کا کہنا ہے کہ روسی افواج اب ان کے دسیوں ہزار ہیکٹروں پر مشتمل کھیتوں میں سے 80 فیصد پر قابض ہیں اور انھوں نے روسیوں پر صنعتی پیمانے پر اناج چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

جب روسی فوجی اناج کے گودام میں پہنچے اس وقت کا سی سی ٹی وی فوٹیج

'انھوں نے ہمارے دفاتر کو لوٹا، یہاں تک کہ دیواروں سے تاریں کھینچ لیں اور ہمارے رشتہ داروں کی تصاویر تک گرا دیں۔'

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کمپنی کی ایک سائٹ کے سی سی ٹی وی نے روسیوں کے پہنچنے کے لمحے کو قید کیا ہے۔ ہم نے فارم کے مالکان کی شناخت کے تحفظ کے لیے اردگرد کے کچھ حصوں کو دھندلا کر دیا ہے، لیکن یوکرین میں روسی افواج کے ذریعے استعمال ہونے والی زیڈ علامت فوجی گاڑیوں پر واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

بعد میں فوٹیج میں ایک فوجی کی ایک سکیورٹی کیمرے پر نظر پڑتی ہے اور وہ اس پر گولی چلاتا ہے، لیکن اس کا نشانہ چوک جاتا ہے۔

بی بی سی نے ایسے دستاویزات بھی حاصل کیے ہیں جن میں ان فارمز کی فہرست ہے جہاں اناج مقامی قابض حکام کو منتقل کیا جانا ہے۔

بی بی سی روسی اور بی بی سی یوکرین کی الگ الگ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ معاملات میں روسی یوکرینی کسانوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ مارکیٹ کی قیمتوں سے کم پر انھیں اناج فروخت کریں، اور اس کے لیے وہ دستاویزات پر بھی دستخط کروا رہے ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ اناج ’جائز اور قانونی‘ طور پر خریدا گیا ہے۔

اگرچہ ابتدائی طور پر روسی افواج کی طرف سے چوری کی باتیں کی گئیں تھیں، لیکن اب کسانوں کا خیال ہے کہ ان کی حکمت عملی میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ روسیوں کو احساس ہوا ہے کہ اگر وہ اناج کے عوض کچھ ادا نہیں کرتے ہیں تو مستقبل میں فصلوں کی پیداوار سبوتاژ ہو سکتی ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ انھیں کم قیمتوں کو قبول کرنا ہو گا کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے اور انھیں ایندھن خریدنا ہے اور مزدوروں کو تنخواہ بھی دینی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بین الاقوامی قوانین کی ایک بیرسٹر ایمیلی پوٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائیاں جنیوا کنونشن اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کی خلاف ورزی ہو سکتی ہیں۔

ہم نے ان الزامات کے بارے میں پوچھنے کے لیے روسی حکام سے رابطہ کیا لیکن ابھی تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تاہم روس کے زیر قبضہ علاقوں میں کچھ حکام نے کُھل کر بات کی ہے کہ یوکرین کے ان علاقوں سے اناج لے جایا جا رہا ہے جن پر اب ان کا کنٹرول ہے۔

دیمیٹرو کا کہنا ہے کہ اناج کے جو ٹرک روسی لے گئے تھے ان میں جی پی ایس ٹریکر لگے تھے۔

ہم نے اس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ پایا کہ انھیں جنوب میں کریمیا کی جانب لے جایا گیا جس سے روس نے سنہ 2014 میں الحاق کر لیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اس کے ساتھ ہے۔

جی پی ایس ڈیٹا سے پتا چلا کہ دونوں ٹرک کریمیا کے قصبے اوکٹیابرسکے میں ایک ذخیرہ کرنے کی سہولت کے قریب رکے، جسے اناج اتارنے اور ذخیرہ کرنے کی جگہ کے طور پر شناخت کیا گیا۔

رواں سال 14 جون کی سیٹلائٹ تصویر میں اس جگہ جانے والی سڑک پر ٹرکوں کی ایک لائن دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ وہ ٹرک نہیں ہیں جن کے جی پی ایس ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن یہ اناج کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی اسی قسم کے دوسرے ٹرک ہیں۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سٹوریج کی سہولت یا گودام کے پاس سے ایک ریل لائن گزر رہی ہے، جس کا استعمال اناج کو روس یا نیچے جنوبی کریمیا کی بندرگاہوں تک پہنچانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ سٹوریج سائٹ کے اوپر والے حصے یعنی چھت پر روسی حملے کے نشان زیڈ کی علامت دکھائی دیتی ہے۔

سرحد پر قطاریں

کرائمیا میں داخلے کے دو اہم مقامات چونہر اور آرمیانسکے کی سیٹلائٹ تصویریں بھی ہیں جہاں آپ گاڑیوں کی قطاریں دیکھ سکتے ہیں، جن کا استعمال اناج اور دیگر پیداوار کی نقل و حمل کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

چونہار انٹری پوائنٹ سے 17 جون کو لی گئی ایک تصویر میں پانچ کلومیٹر (تین میل) سے زیادہ لمبی ٹرکوں کی لائن نظر آتی ہے۔

کریمیا میں سڑکوں کی آمدورفت کی یہ سطح غیر معمولی ہے کیونکہ سنہ 2014 میں روس کے ساتھ الحاق کے بعد سے یوکرین سے اس علاقے تک رسائی حاصل نہیں ہے، اور وہ اناج اور دیگر مصنوعات دوسری جگہوں سے برآمد کر رہا ہے۔

ٹریفک کے بڑھے ہوئے کچھ حجم کی وضاحت کرنا ممکن ہے اور ایسا ہو سکتا ہے کہ خالی ٹرک مقبوضہ علاقوں سے روسی فوجیوں کو رسد پہنچا کر واپس آ رہے ہوں۔ لیکن ایک واضح تشریح یہ ہے کہ بہت سے ٹرک یوکرین کے کسانوں سے لیے گئے اناج یا سورج مکھی کے بیج جیسی دیگر مصنوعات لے جا رہے ہیں۔

کریمیا کے قصبے دزہانکوئی کی سیٹلائٹ تصاویر میں اناج ذخیرہ کرنے کے گودام کے ساتھ اور اس سے منسلک ٹرین اسٹیشن کے قریب سڑک پر ٹرکوں کی ایک لمبی قطار کو کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

تصاویر میں سٹوریج کی سہولت کے ساتھ والے سٹیشن پر مال بردار ٹرینیں دکھائی دیتی ہیں جن میں اس قسم کی بوگیاں لگی ہیں جو اناج اور دیگر پیداوار کو لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

دزہانکوئی سے ٹرینیں سیواستو پول اور کرچ کی بندرگاہوں تک جاتی ہیں جہاں سے زرعی پیداوار کو روس یا بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔

یوکرین کے اناج کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟

کیئو میں قائم انسٹیٹیوٹ فار بلیک سی سٹریٹیجک سٹڈیز کے ایک ماہر آندرے کلیمینکو کہتے ہیں: ’وہ پہلے اناج کو ملحقہ کریمیا لے جاتے ہیں، جہاں سے وہ اسے کرچ یا سیواستوپول (بندرگاہوں) تک پہنچاتے ہیں، پھر وہ روسی جہازوں پر یوکرین کا غلہ لاد کر آبنائے کرچ جاتے ہیں۔

’پھر کرچ آبنائے (کرائمیا اور روس کے درمیان) سے وہ یوکرین کے اناج کو چھوٹے بحری جہازوں سے بڑے مال بردار جہازوں پر منتقل کرتے ہیں، جہاں اسے روس سے آنے والے اناج کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، یا بعض صورتوں میں، وہ صرف یہ دکھانے کے لیے اس علاقے کا سفر کرتے ہیں کہ وہ ان جہازوں کو روسی اناج سے بھر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پھر اسے روسی سرٹیفکیٹ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے برآمد کیا جاتا ہے کہ یہ روسی اناج ہے۔

اس کے بعد بحری جہاز اکثر شام یا ترکی کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو نے کہا ہے کہ انھوں نے یوکرینی غلہ ترکی بھیجے جانے کے دعوؤں کی تحقیقات کی ہیں اور ابھی تک اس کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ ریکارڈ پر بحری جہازوں کی روانگی والی بندرگاہ اور سامان کو پہنچانے کی اصل جگہ روس ہے۔

سیواستوپول میں غیر معمولی سرگرمیاں

جون ماہ کے دوران لی جانے والی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ کریمیا کے مغرب میں سیواستوپول کی بندرگاہ پر اولیتا اناج کے ٹرمینل سے زیادہ سرگرمیاں نظر آتی ہیں جن کے مطابق اناج جیسے پیلے رنگ کے مواد کو جہازوں پر لادا گیا ہے۔

ہم نے پچھلے کچھ سالوں میں جون کے مہینے کے دوران اسی ٹرمینل کی تصاویر کا جائزہ لیا، اور یہ پایا کہ رواں سال سرگرمی کی یہ مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

کچھ ماہرین جن سے ہم نے بات کی ہے، انھوں نے کہا کہ اس سرگرمی میں اضافے کا سبب صرف یوکرین کی سرزمین سے لے جانے والا اناج ہی ہو سکتا ہے۔

کیئو سکول آف اکنامکس کی ایگریکلچر پالیسی کی ماہر ماریا بوگونوس کہتی ہیں کہ ’حقیقتا کریمیا برآمد کے لیے زیادہ اناج نہیں اگاتا ہے، یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں وہ ان فصلوں کو اگاتے ہیں۔‘

روس کے لیے سیواستوپول کی بندرگاہوں کو اپنا اناج برآمد کرنے کے لیے استعمال کرنا جغرافیائی لحاظ سے بھی معنی خیز نہیں۔

لیکن گرین سکوائر ایگرو کے ماہر زراعت مائیک لی جو کہ یوکرین اور روس دونوں میں کام کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ کریمیا سے نکلنے والا کچھ اناج پچھلے سال کی فصل کے بیک لاگ کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کی جنگ کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی ہوئی ہے۔ کریمیا روس کے کنٹرول میں ہے، لیکن وہاں بھی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔‘

وہ بحری جہاز جو اپنے ٹریکرز کو بند کر دیتے ہیں

امریکی اور یوکرین کے حکام اور میڈیا رپورٹس نے کریمیا سے نکلنے والے نو بحری جہازوں کے نام بتائے ہیں جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ یوکرین کے چوری شدہ اناج کو وہیں سے بیرون ملک لے جایا گیا ہے۔

لائڈز لسٹ انٹیلیجنس (ایل ایل آئی) کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے بی بی سی نے اپریل سے کریمیا اور ترکی اور شام کی بندرگاہوں کے درمیان سفر کرنے والے جہازوں کا سراغ لگایا ہے۔

ایل ایل آئی کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں نے وہ طریقہ استعمال کیا ہے جسے بحری ماہرین ’فریبی‘ جہاز رانی کے طریقوں کے طور پر بیان کرتے ہیں یعنی بحیرہ اسود میں داخل ہونے پر، یا کریمیا کے قریب آبنائے کیرچ کے گرد گھومتے وقت، یا بعد میں شام کے ساحل کے قریب پہنچنے پر وہ اپنے آن بورڈ ٹریکرز کو بند کر دیتے ہیں۔

جب ان کے ٹریکرز واپس آن ہوتے ہیں تو بحری جہاز جنوب کی طرف روانہ ہوتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور ان کے پانی میں کم گہرائی میں ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے جو یہ عندیہ دیتے ہیں کہ انھوں نے بلیک آؤٹ کے دوران جہاز پر سامان لادا ہے۔

بی بی سی نے تین بحری جہازوں کے سفر کا نقشہ بنایا۔ ان میں میتروس پوزینچ اور سورمووسکی 48 نامی بحری جہاز روس میں دو کمپنیوں کی ملکیت ہیں جبکہ ایک فینیکیا شام کی جنرل میری ٹائم اتھارٹی کی ملکیت ہے۔

ہم نے ان جہازوں کے روسی رجسٹرڈ مالکان سے سفر کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں مل سکا ہے جبکہ ہم شامی مالکان تک پہنچنے سے قاصر رہے۔

ان کی ٹریکر ہسٹری میں خلاء کے باوجود سیٹلائٹ کی تصاویر نے انکشاف کیا ہے کہ یہ جہاز کہاں کہاں تھے۔

میکسار کی تصاویر میں متروس پوزینک جہاو کو مئی کے وسط میں کریمیا کے سیواستوپول میں دکھایا گیا ہے۔ اس سفر کے دوران، یہ آبنائے کرچ کی طرف روانہ ہوا، پانچ دن تک ٹرانسپونڈر بلیک آؤٹ رہا، اور پھر سینکڑوں میل جنوب میں بحیرہ اسود میں دوبارہ نمودار ہوا۔ بعد میں اس کی تصویر شام کی بندرگاہ لاذکیہ میں دیکھی گئی لیکن اس کا ٹریکنگ سسٹم بند تھا۔

اقوام متحدہ کے سیفٹی آف لائف ایٹ سی (SOLAS) کے تحت، بحری جہازوں کو اپنے ٹریکرز کو ہر وقت آن رکھنا چاہیے، جب تک کہ یہ ان کی حفاظت اور سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن جائے، مثال کے طور پر بحری قزاقی سے بچنے کے لیے۔

لائڈز کی مارکیٹ ایڈیٹر مشیل ویز بوکمین کا خیال ہے کہ کریمیا یا شام کے ساحل کے قریب ٹریکرز کو بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ عمل واضح طور پر قزاقی کے خطرات سے منسلک نہیں ہے، جب دوسرے جہازوں کے ٹرانسپونڈر ہوتے ہیں، تو ان کے کیوں نہیں؟‘

یوکرین سے حنا وٹیکن وائیڈر، سیرا تھیریج، اینا کورنس کی اضافی رپورٹنگ

لندن سے جوش چیتھم، جیک ہارٹن، ڈینیئل پلمبو، ایروان ریوالٹ اور آندرے زاخروف اضافی رپورٹنگ