روس یوکرین جنگ: وہ چھوٹی سی بندرگاہ جو مستقبل میں یورپ کی توانائی کی ضرورت کے لیے اہم ہے

  • جو ہارپر
  • نامہ نگار برائے کاروبار، وارسا
پولینڈ کے ساحلی شہر شوینووشچہ میں ایل این جی کے بڑے ٹرمینل کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہREUTERS / ALAMY

،تصویر کا کیپشن

پولینڈ کے ساحلی شہر شوینووشچہ میں ایل این جی کے بڑے ٹرمینل کا منصوبہ

’اس نے ہمیں فائرنگ لائن پر لا کھڑا کیا ہے۔‘ پولینڈ کے ساحلی شہر شوینووشچہ کے ایک 60 سالہ ٹیکسی ڈرائیو جوزف نے کچھ یوں اپنا ردعمل دیا ہے۔

ان کے شہر میں پولینڈ کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ٹرمینل ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسی کی مدد سے ملک توانائی کی آزادی حاصل کر سکتا ہے۔

جوزف جیسے کئی شہری ڈرے ہوئے ہیں کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اس جگہ کو ہدف بنا سکتے ہیں۔

اس سال تک روس یورپی یونین کو 40 فیصد قدرتی گیس فراہم کر رہا تھا۔ تاہم فروری کے دوران یوکرین میں مداخلت کے بعد یورپ کے اس حصے میں موجود ہر کوئی روس سے اشیا حاصل کرنے کے حوالے سے پریشان ہے۔

اس خطرے کا تصور مشکل تھا جب ہم ساحل کے پاس پائن کے درختوں کے بیچ و بیچ تنگ سڑک پر سفر کر رہے تھے۔ ٹرمینل کے راستے میں پڑی صنعتی مشینری سورج کی روشنی میں چمک رہی تھی۔

لیکن شمال مغربی بالٹک میں واقع اس بندرگاہ پر پولینڈ بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے کہ اس کے توانائی کے مسائل دور ہو سکیں گے۔

روسی گیس کے متبادل کے طور پر لخ کاجنسکی ٹرمینل انتہائی اہم ہے۔ توانائی کی سرکاری روسی کمپنی گازپروم نے اپریل کے دوران پولینڈ کو گیس کی فراہمی روک دی تھی۔

یورپ بھر میں جون کے دوران گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ جرمنی نے صارفین کے لیے گیس کی فراہمی محدود کرنے کے اقدام کیے اور اٹلی ان یورپی ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنھوں نے روسی گیس کی درآمد میں بڑی کٹوتی کی ہے۔

مرکزی یورپ میں صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ

دریں اثنا ساحل سے قریب آدھا کلومیٹر دور کاجنسکی ٹرمینل پر ملازمین ایک تیسرے سلنڈر کو ملانے کے لیے کنکریٹ کے ڈھانچہ کی بنیادیں تیار کر رہے ہیں۔

قطر اور امریکہ کے علاوہ ناروے اور بعض اوقات نائجیریا اور ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو جیسے دنیا بھر کے دور دراز علاقوں سے یہاں ایل این جی کے ٹینکر آتے ہیں۔

جب یہاں ایک یوکرینی ورکر سے پوچھا گیا کہ کیا یے منصوبہ آن ٹریک ہے تو اس نے جواب میں کہا کہ ’یہ آن ٹریک سے بھی بہتر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

اس ٹرمینل کے منصوبے کو 2016 میں منظور کیا گیا تھا اور اس پر قریب 625 ملین پاؤنڈ کی لاگت آئے گی۔ موجودہ حالات میں یہاں پولینڈ کی سالانہ طلب (21 بلین کیوبک میٹر یا بی سی ایم گیس) کا 23 فیصد حصہ وصول اور ری گیسیفائی کیا جاتا ہے۔

تکمیل اور توسیع سے 2023 کے اواخر تک سالانہ 7.5 بی سی ایم گیس بڑھے گی اور اطلاعات کے مطابق یہ رسد 10 بی سی ایم تک بھی جاسکتی ہے۔

باقی یورپ کی طرح پولینڈ کوئلے سے چلنے والے پاور سٹیشن سے ہٹ رہا ہے تاہم مقامی گیس کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ سالانہ 30 بی سی ایم ہے اور اس سے قریب 90 لاکھ گھروں میں ہیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

ایل این جی کی دوڑ

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ٹرمینل کے مقام سے گزرتے ہوئے ہماری نظر دوسری عالمی جنگ کے جرمن بنکروں پر بھی پڑی جن کے اردگرد پودے اُگ گئے ہیں اور پیچھے ایک خار دار تار کی رکاوٹ ہے۔ جوزف کہتے ہیں کہ ’سرحد کے پاس جرمن اپنا ٹرمینل بنا رہے ہیں۔ لیکن ہم انھیں ہرا دیں گے۔‘

شوینووشچہ وارسا کے مقابلے برلن کے زیادہ قریب ہے، دونوں میں صرف 90 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جبکہ وارسا سے اس کا فاصلہ 560 کلو میٹر ہے۔ شمالی جرمنی میں ولہمسہافن کے قریب پہلے سے طے شدہ ایل این جی ٹرمینل بنایا جا رہا ہے جبکہ ہمبرک کے قریب دو مزید ٹرمینل کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

جہاں تک بات پولش معیشت کی ہے تو مقامی لوگوں کو اس سے بہت سی امیدیں ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمینل پر بہت سی نوکریاں مقامی لوگوں کے لیے نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں کمپنیاں پولینڈ اور بیرون ملک سے ماہرین کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔

الیکساندرا ووزنیک ایک جدید ہوٹل نووے ملینیئم پر ریسپشنسٹ ہیں۔ ایک ہوٹل ایک نئی سڑک اور ٹنل کے مقام کے قریب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل ان کا بجلی و گیس کا بل 70 فیصد کم تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ پاگل پن ہے۔ مگر شاید یہ ٹرمینل ہماری مدد کرے گا۔‘ انھوں نے اس سے قبل 17 سال برطانوی کاؤنٹی ڈیون میں گزارے جہاں وہ ایک ٹی کے میکس سٹور پر کام کرتی تھیں۔

’ہم پولینڈ لوٹے تاکہ اپنے خاندان کے قریب رہ سکیں تاہم اچانک کووڈ آگیا اور میری ساس وفات پا گئیں۔ اور اب جنگ چل رہی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر، جو ایک شیف ہیں، اور چار بچوں کے ساتھ گھر واپس یعنی برطانیہ جانا چاہتی ہیں۔

وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پرانا شوینووشچہ غائب ہو رہا ہے۔ یہ ایک تعمیراتی مقام ہے۔ بعض پرانے رہائشی ان تبدیلیوں سے خوش نہیں۔ اب یہ کوئی چھوٹا شہر نہیں لگتا جہاں سیاحت بھی ہوا کرتی تھی۔ مگر کام جاری ہے۔‘

ابھی کے لیے سیاحت پیسے کمانے کا اچھا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس چھوٹے شہر کی آبادی قریب 30 ہزار ہے لیکن گرمیوں کے دوران قریب تین لاکھ سیاح یہاں کا دورہ کرتے ہیں۔

کھیلوں کے سامان کی ایک دکان پر کام کرنے والے آسکر نے کبھی ٹرمینل کا دورہ نہیں کیا۔ ’کسی وجہ سے سیاح وہاں ضرور جاتے ہیں۔ زیادہ سیاح ہونا کاروبار کے لیے اچھا ہے۔‘

جب دکان پر صارفین آتے ہیں تو وہ ایک دم انگلش سے پولش بولنے لگتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ بغیر رُکے جرمن میں بھی بات کر لیتے ہیں۔ آسکر نے کہا ہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران توانائی کے بلوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور جنگ نے ’ہمیں احساس دلایا ہے کہ سرحد پار کرنا کتنا آسان ہے۔‘

ان کی ساتھی نادیہ ایک نوجوان یوکرینی خاتون ہیں اور حال ہی میں مغربی یوکرین میں اپنے شہر لویو سے آئی ہیں۔

روسی گیس کے بغیر زندگی کی کوشش

پولینڈ لتھوینیا، یوکرین، سلوواکیا اور چیک ریپبلک کے ساتھ روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ہمسایہ مارکیٹوں میں اضافی گیس بھیجی جاسکے۔ اس طرح علاقے میں گیس کی ضروریات کے لیے ایک مرکز کا قیام ہوسکے گا۔

یہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں مرکزی یورپ کی گیس مارکیٹ میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ مشرق سے مغرب چلنے والے راستے کو شمال سے جنوب کا راستہ بنایا جائے۔

یوریشیا گروپ میں انرجی، کلائمیٹ اور ریسورسز کے ڈائریکٹر ہیننگ گلوسٹین کہتے ہیں کہ ’یورپی یونین کی کوششوں میں پولینڈ کا اہم کردار ہوگا جس سے روسی گیس کی درآمدات کو مرحلہ وار کم کیا جائے اور صفر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا طویل مدتی مقصد حاصل کیا جاسکے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAlamy

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلی ترجیح یہ ہے کہ روس سے پولینڈ منگوائی جانے والی 10 بی سی ایم گیس کا تبادل حاصل کیا جائے۔ پالٹک پائپ لائن سے اس کا آغاز ہوسکے گا۔ اس رواں سال کے اواخر میں اس کی شروعات متوقع ہے۔‘

گلوسٹین کے مطابق ’اس پائپ لائن اور ایل این جی درآمدات کے میلاپ سے سپلائی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ طویل مدت میں پولینڈ کو توانائی کے ذخائر کے لیے مزید اقدام کرنا ہوں گے اور کوئلے پر دار و مدار بڑے پیمانے پر کم کرنا ہوگا۔۔۔ اگر تو 2050 تک صفر اخراج کا ہدف طے کرنا ہے۔‘

سلوواکیا اور چیک ریپبلک نے اس ٹرمینل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سلوواکیا کا مکمل دار و مدار روسی گیس پر ہے۔ چیک ریپبلک کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ شوینووشچہ کے گیس ٹرمینل کی توسیع میں سرمایہ کاری کریں گے۔

دریں اثنا امریکی کمپنی ایل این جی ای نے پولینڈ اور یوکرین کے درمیان نئے گیس انفراسٹرکچر کی مالی معاونت کی پیشکش کی ہے۔

رائس یونیورسٹی میں بیکر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی سے منسلک اینا میکلسکا کو لگتا ہے کہ اس سے مرکزی یورپ میں پولینڈ کا اثر و رسوخ تبدیل ہوسکتا ہے۔ ’جرمنی نے روسی گیس پر داؤ لگایا اور اب اسے آج اور کل کے لیے گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا اسے روسی گیس پر اتنا دار و مدار کرنا بھی چاہیے۔‘

’کوئلے اور جوہری ذرائع پر کم انحصار کی پالیسی سے آئندہ برسوں میں گیس پر انحصار بڑھ جائے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مرکزی اور مشرقی یورپ میں گیس کا مرکز بننے کا جرمن منصوبہ اب حقیقت پسندانہ نہیں رہے گا۔ دوسری طرف پولینڈ اسی راہ پر گامزن ہے اور اسے اپنے مغرب کے پڑوسیوں، جرمنی اور دیگر کی مدد درکار ہوگی۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy

’بالٹی میں قطرے کے برابر‘

مارچ میں پولش حکومت نے شوینووشچہ کے ٹرمینل آپریٹر کو اضافی 540 ملین پاؤنڈ دیے تھے۔ یہ ٹرمینل یورپی یونین کی 2022 کی مشترکہ دلچسپی کے منصوبوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے یہ تاثر ملا کہ یورپی یونین اس منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم سب کو اس بات سے مطمئن نہیں ہیں۔

سابق جرمن اور یورپی یونین کے سفارتکار البریچ روتھیچر، جنھوں نے کتاب ’پوتنامکس‘ بھی لکھی ہے، کے مطابق یہ کہنا کہ پولینڈ خطے میں گیس کا مرکز ہوگا صرف مبالغہ آرائی تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’شوینووشچہ تک پہنچنے والی سپلائز صرف بالٹی میں قطرے کے برابر ہوں گی۔ مجھے ڈر ہے کہ اچھے ارادے کے باوجود اس میں تاخیر ہوئی ہے اور اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘