لوہانسک خطے پر مکمل قبضے کے بعد صدر پوتن کا یوکرین میں کارروائیاں جاری رکھنے کا حکم

Smoke rises over the remains of a building destroyed by a military strike, as Russia's attack on Ukraine continues, in Lysychansk, Luhansk region, Ukraine June 17, 2022.

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

لسچانسک میں روسی فوج کی گولہ باری سے ہونے والی تباہی کے مناظر

یوکرین کے مشرقی حصے لوہانسک پر روسی فوجیوں کے مکمل کنٹرول کے بعد روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے وزیر دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ یوکرین میں طے شدہ منصوبے کے تحت اپنی کارروائیوں کو جاری رکھیں۔

صدر پوتن کو روسی ٹی وی اپنے وزیر دفاع سرگئی سوئیگو کو ہدایت دیتے ہوئے دیکھایا گیا۔ صدر پوتن نے وزیر دفاع سے کہا کہ جن فوجیوں نے لسچانسک کی جنگ میں حصہ لیا ہے، انھیں آرام دیا جائے جبکہ دوسری افواج پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔

یوکرین نے لوہانسک خطے کے اہم شہر لسچانسک پر روسی فوج کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔

روس میں یوکرین پر روسی فوج کی یلغار کو ’سپیشل ملٹری آپریشن" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور اگر کوئی اسے یوکرین پر حملے کا نام دے تو اس کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

روسی افواج نے گزشتہ ماہ سیوردونیسک پر اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ گزشتہ روز سیوردونیسک کے جڑواں شہر لسچانسک پر روسی فوج کے مکمل قبضے کے بعد لوہانسک خطے کے تمام شہر روس کے قبضے میں آ چکے ہیں۔

ساحلی شہر ماریوپول پر مہینوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں روس کی کامیابی کے بعد روسی افواج نے اپنی ساری توجہ یوکرین کے مشرقی علاقوں پر مرکوز کر رکھی ہے اور وہ ایک کے بعد ایک شہر پر اپنا قبضہ جماتے جا رہی ہیں۔

خطے کے گورنر سرہی ہیدائی نے لسچانسک سے یوکرینی فوجیوں کی پسپائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ روس اب دور سے شہر کو تباہ نہیں کرے گا۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

گورنر نے کہا لوہانسک کا کنٹرول کھو دینا تکلیف دہ ہے لیکن ہم نے ایک لڑائی ہاری ہے جنگ نہیں ہاری ہے۔

خطے کے گورنر نے کہا کہ روس کی کامیابیوں کے سلسلےکو روکنے کے لیے یوکرین کو مزید اسلحے کی ضرورت ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تہیہ کیا ہے کہ اسلحے کی فراہمی کے بعد یوکرین کی افواج ایک بار پھر خطے میں واپس آئیں گے اور اپنے کھوئے ہوئے تمام علاقوں کو روسی قبضہ سے چھڑا لیں گیں۔

روسی افواج نے لوہانسک کے قریبی خطے ڈونیسک میں بمباری کا سلسلہ روک دیا ہے۔

لوہانسک اور ڈونسیک کے علاقوں کو ڈانباس کا علاقہ کہا جاتا ہے۔

روسی کے ٹی وی پر دکھایا گیا کہ صدر پوتن وزیر دفاع سرگئی سوئیگو کو کہہ رہے ہیں کہ وہ فوجی جنھیں نے لسچانسک کی لڑائی میں حصہ لیا ہے انھیں آرام دیا جائے اور وہ اپنی جنگی صلاحیت کو بڑھائیں۔

دوسرے ملٹری یونٹس، ایسٹ گروپ اور ویسٹ گروپ ، پہلے سے طے منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیئے

صدر پوتن نے اس امید کا اظہار کیا کہ دوسرے فوجی یونٹ بھی لوہانسک خطے کی طرح کامیابیاں سمیٹیں گے۔

روس نے جب 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا تو اس نے لوہانسک اور ڈونیسک کی ریاستوں کو تسلیم کر لیا تھا۔

اس علاقے میں روسی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے 2014 سے کارروائیاں شروع کر رکھی تھیں ۔ روس نے 2014 میں کرائمیا کو یوکرین سے چھین کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

روس نے گذشتہ مہینےلسچانکس کے قریبی شہر سیوردونیتسک پر قبضہ کیا تھا

لسچانسک کو کیوں چھوڑا

خطے کے گورنر سرہی ہیدائی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری فوجوں کو لسچانسک سے پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے کیونکہ شہر کو گھیرے میں لیے جانے کا خطرہ تھا۔

گورنر نے کہا کہ یوکرینی افواج نے کافی عرصے تک شہر کو سنبھالے رکھا لیکن موجودہ حالات میں روس کو اسلحے، توپ خانے میں واضح برتری حاصل ہے اور وہ شہر سے فاصلے پر کھڑے ہو کر شہر کو مکمل طور پر تباہ کر سکتے تھے۔ ان حالات میں وہاں رہنے کا کوئی مقصد نہیں تھا۔

گورنر نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے فوجیوں کو بھی بچانا ہے تاکہ جب ہمیں اسلحہ ملے تو ہم ایک بار پھر ان خطوں کو روس کے قبضے سے چھڑا لیں۔

گورنر ہیدائی نے کہا کہ یوکرینی افواج نے لسچانسک سے نکل کر ڈونیسک خطے میں اپنی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ ڈونیسک روس کا اگلا ٹارگٹ ہے۔

گورنر سرہی ہیدائی نے کہا کہ یوکرین کو لمبے فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہاؤیٹزر ہیں اور کئی قسم کے راکٹ سسٹم ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں۔

انھوں نے کہا صرف ایک اچھے کھلاڑی سے فٹبال کا میچ نہیں جیتا جا سکتا ہے، ہمیں مزید اچھے اسلحے کی ضرورت ہے۔

مزید براں یوکرین کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے بحیرہ اسود میں تزویراتی طور پر انتہائی اہم سنیک جزیرے پر یوکرین کا پرچم لہرا دیا ہے۔

لسچانسک شہر روس افواج کے قبضے میں

اس کے قبل یوکرینی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ملک کا اہم مشرقی شہر لسچانسک روسی افواج کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل دونوں جانب سے شہر پر قبضے کے دعوے سامنے آ رہے تھے۔ یوکرین کے فوجی جنرل سٹاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لسچانسک میں شدید جنگ کے بعد یوکرین کی افواج اپنی پوزیشنز چھوڑنے پر مجبور ہوئی۔

اس سے قبل روسی وزیر دفاع سرگئی سوئیگو نے کہا ہے کہ انھوں نے لسچانسک پر قبضہ کر لیا ہے اور لوہانسک کا پورا خطہ اب روس کے قبضے میں ہے۔ یوکرینی فوجیں اس علاقے سے باہر چلی گئی ہیں۔

یوکرین کے جنرل سٹاف کا کہنا ہے کہ 'یوکرین کا دفاع کرنے والوں کی جانیں بچانے کے لیے وہاں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کو توپ خانے، فضائیہ اور فوجیوں کی تعداد کے اعتبار سے مختلف سطحوں پر برتری حاصل ہے۔

اس سے قبل روس کے جمہوریہ چیچنیا کے سربراہ رمضان قادروف نے ایک ویڈیو شائع کی تھی جس میں لسچانسک میں بظاہر چیچن جنگجوؤں کو لڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ادھر سلویانسک میں شدید شیلنگ کے نتیجے میں چھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ علاقہ دونیسک میں ہے۔

روس نے گزشتہ مہینے اس کے نواحی شہر سیوردونیسک پر قبضہ کیا تھا۔

روسی فوج کے قبضے کے اعلان سے پہلے ہی دفاعی امور کے بلاگر روب لی نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں چیچن روسی فوجیوں کو یوکرین کے شہر میں دیکھا جا سکتا ہے۔