ناروے: کشتیاں ڈبونے والی 600 کلو وزنی ’فریا‘ جسے لوگوں کی حفاظت کی خاطر ’نرم دلی‘ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا

فریا

،تصویر کا ذریعہReuters

ناروے میں اوسلو کے قریب ساحل پر جولائی میں ایک دیوہیکل سیل دکھائی دی تو اسے دیکھنے کے لیے لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔

قطب شمالی کی رہائشی اس مادہ گوشت خور ممالیہ سیل کی شہرت ایسے پھیلی کہ اسے ’فریا‘ کا نام دے دیا گیا۔ فریا ناروے کی دیومالائی کہانیوں میں حسن اور محبت کی دیوی کا نام ہے۔

یہ ساحل پر موجود کشتیوں پر دھوپ سینکنے چڑھ جاتی جو اکثر اس کے وزن تلے ڈوب بھی جایا کرتی تھیں۔

لیکن اس سمندری دیوی کو اب مار دیا گیا ہے۔ ناروے کی حکام کے مطابق فریا کی وجہ سے عوام کی حفاظت سے متعلق خدشات جنم لے رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ اس بھاری بھرکم جانور کے قریب نہ جائیں لیکن وہ اسے خاطر میں نہیں لائے جس کی وجہ سے خود ان کو اور اس جانور دونوں کو خطرات لاحق تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایک بار ایسا بھی ہوا کہ فریا نے ایک خاتون کا پیچھا کیا اور اسے پانی میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا جو ساحل پر نہانے والے مخصوص علاقے میں موجود تھی۔

جولائی میں ناروے کی وزارت فشریز نے اعلان کیا تھا کہ یہ جانور اس وقت تک کچھ نہیں کہتا جب تک اس سے فاصلہ رکھا جائے لیکن اگر اسے چھیڑا جائے تو یہ خود کو خطرے میں سمجھ کر لوگوں پر حملہ کر سکتا ہے۔

ناروے کی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق فریا کو سب سے پہلے ملک کے شمال میں 2019 میں دیکھا گیا تھا جس کے بعد یہ برطانیہ، ڈنمارک، سویڈن اور نیدر لینڈ کے پانیوں میں بھی نظر آئی۔

گذشتہ ہفتے ناروے کی وزارت فشریز نے ایک مجمعے کی تصویر شائع کی جو فریا کے اتنے قریب اکھٹا تھا کہ اسے ہاتھ سے چھو سکتا تھا اور اس میں بچے بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہNORWEGIAN DIRECTORATE OF FISHERIES

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یہ بھی پڑھیے

اتوار کو فشریز کے ڈائریکٹر جنرل فرینک باکے جینسن نے کہا کہ انسانی جان کو لاحق خطرات کا جائزہ لینے کے بعد اس جانور کو ہلاک کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ ہفتے کے جائزے میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ عوام نے اس جانور سے واضح فاصلے پر رہنے کی تجویز کو رد کر دیا ہے۔ چنانچہ ڈائریکٹریٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے اور جانور کی فلاح کا بھی خیال نہیں کیا جا رہا۔‘

فشریز ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ فریا کو اس علاقے سے نکال دیا جائے لیکن اس کی اپنی حفاظت سے جڑے خدشات کی وجہ سے اس کو رد کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق فریا کو ’یوتھنائز‘، یعنی دانستہ طور پر ہلاکت، کا عمل ’نرم دلی‘ سے سر انجام دیا گیا جس کے بعد اس کا جسم ماہرین کے پاس لے جایا گیا تاکہ وہ اس کا جائزہ لے سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واضح رہے کہ عام طور پر یہ مخصوص جانور انسان پر حملہ نہیں کرتے لیکن ایسے چند واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

چین کے ایک وائلڈ لائف پارک، جنگلی حیات کا پارک، میں 2016 میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک ایسی ہی سیل نے ایک سیاح اور پارک میں کام کرنے والے شخص پر حملہ کیا جس میں دونوں ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب سیاح جانور کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کر رہا تھا جس نے اسے پکڑ کر پانی میں کھینچ لیا۔ پارک کا ملازم سیاح کو بچانے کے لیے آگے بڑھا تو سیل نے اس کو بھی پانی میں کھینچ لیا۔