شام: پناہ گزینوں کی کشتی الٹنے سے 71 ہلاکتیں، ’کوئی چیز میرے بیٹے کو واپس نہیں لا سکتی‘

ایمبولنس

،تصویر کا ذریعہReuters

مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے ہلاک ہونے والے 71 پناہ گزینوں کی لاشیں ملی ہیں جبکہ 20 زخمی شام کے شہر طرطوس میں ایک ہسپتال میں اس وقت زیرِ علاج ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ڈوبنے والی اس کشتی پر سوار 120 سے 150 افراد میں خواتین اور بچوں سمیت لبنان، شام اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے باشندے بھی شامل تھے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ حادثہ کیسے ہوا اور اس حوالے سے ریسکیو کا کام جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کشتی شہر المنیہ سے چلی، جو لبنان کے ساحلی شہر طرابلس کے قریب واقع ہے۔ جب یہ کشتی ڈوبی تو اس کا رخ یورپ کی جانب تھا۔

طرطوس میں جہاں زخمیوں کو پہنچایا گیا ہے وہ طرابلس سے پچاس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

طرابلس میں متاثرین کے خاندان غمزدہ

لینا سنجاب، طرابلس لبنان سے

ایک غریب علاقے میں ایک چھوٹے سے اندھیرے کمرے میں ایک خاندان ماتم کر رہا ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مصطفیٰ میستو جن کی عمر 35 برس تھی، اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت ہلاک ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ اور ان کے والد شام میں ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

مصطفیٰ لبنان میں ٹیکسی چلاتے تھے اور ان کی شادی شامی کرد لڑکی سے ہوئی تھی جو شام میں جاری خانہ جنگی سے فرار حاصل کر کے یہاں آئی تھیں۔

ایک خاندان جس نے دو ممالک میں تباہی سے بچ کر راہ فرار اختیار کی تھی اب اٹلی پہنچ کر ایک بہتر زندگی گزارنے کا خواب دیکھ رہا تھا تاہم باقی ہلاک ہونے والوں کی طرح اب ان کا خاندان بھی غم سے نڈھال ہے۔

مصطفیٰ کی والدہ ادلٰى ایک بڑے کمرے کے بیچ میں میں اپنے رشتہ داروں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ اونچی آواز میں ماتم کر رہی تھیں اور لبنانی حکومت کو اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار قرار دے رہی تھیں۔

وہ کہہ رہی تھیں کہ ’وہ غربت اور برے حالات سے بھاگ گئے اور ہمیں یہیں چھوڑ گئے۔ ان سیاست دانوں کو اپنی زندگیوں کے علاوہ کسی کی فکر نہیں۔ کوئی بھی چیز میرے بیٹے اور اس کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتی۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق لبنان میں اس وقت 15 لاکھ شامی پناہ گزین اور دیگر ممالک کے 14 ہزار افراد مقیم ہیں۔ یہاں دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ فی کس پناہ گزین رہتے ہیں۔

تاہم ملک کو اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا ہے جس کی وجوہات میں کووڈ 19 اور بیروت کی بندرگاہ پر سنہ 2020 میں ہونے والا دھماکہ شامل ہے۔

اس کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی کو خوراک اور ادویات خریدنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس صورتحال کے ملک کی پناہ گزین آبادی پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں جن میں سے اکثر ملک چھوڑ کر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال لبنان سے یورپ سفر کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک سے روانہ ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد سنہ 2020 اور 2021 میں تقریباً دوگنی ہو گئی تھی۔

یاد ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں چھ افراد جن میں بچے بھی شامل تھے اس وقت ہلاک ہوئے جب پناہ گزینوں کو لے جانے والی کشتی لبنان سے یورپ جاتے ترکی کے ساحل کے قریب الٹ گئی تھی۔ ملک کے کوسٹ گارڈ نے کہا تھا 73 پناہ گزینوں اور چار کشتیوں کو بچا لیا گیا تھا۔