افغانستان: نیا امریکی کمانڈر

جنرل سٹینلی میکرِسٹل
Image caption امریکی وزیر دفاع نے جنرل میکرِسٹل کا تقرر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نئی سوچ کی ضرورت ہے

امریکی وزیر دفاع رابر گیٹس نے افغانستان میں اعلی ترین امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ میککرنن کو یہ کہہ کر سبکدوش کر دیا ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے لیے نئی سوچ کی ضرورت ہیں۔جنرل میککرنن نے تقریباً ایک سال تک وہاں امریکی اور نیٹو افواج کی قیادت کی۔

ان کی جگہ جنرل سٹینلی میککرِسٹل کو افغانستان میں امریکی فوج کی کمان سونپی گئی ہے۔ ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انہیں اس جنگ کی سمجھ بوجھ زیادہ ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ افعانستان میں اپنی فوج قوت میں اضافہ اور حکمت عملی میں تبدیلی کر رہا ہے۔

جنرل میککرنن کے عرصہ قیادت میں افعانستان میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ان کے جانشین جنرل میککرِسٹل اس وقت امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف میں ڈائریکٹر ہیں اور اس سے پہلے وہ سپیشل آپریشن فورسز کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔

جنرل ڈیوِڈ میککرنن کی سبکدوشی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع رابر گیٹس نے کہا کہ نئی حکمت عملی اور نئے سفیر کے ساتھ نئی فوجی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے یہ صحیح وقت ہے۔ رابر گیٹس کا کہنا تھا کہ ’وہاں ہمارے مشن کے لیے فوجی قیادت کی نئی سوچ اور فکر کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ امریکی سلامتی اور افغانستان میں امریکی مشن کے لیے بہترین فیصلہ ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل میککرسٹل مزاحمت کے خلاف ایسی حکمت عملی کے ماہر ہیں جو صدر براک اوباما اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں