شام امریکہ سفارتی تعلقات کی تجدید

صدر بشار الاسد، امریکی مندوب جارج مچل
Image caption مریکی مندوب جارج مچل نے حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا اختتام شام پر کیا اور حافظ الاسد سے ملاقات کی

امریکہ نے چار سال کی سفارتی غیر موجودگی کو ختم کرنے کے لیے اپنا سفیر شام بھیجنے کی تصدیق کی ہے۔

اس اقدام کو خطے میں زیادہ سرگرم ہونے کے لیے صدر براک اوباما کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے مندوب جارج مچل نے حال ہی میں دمشق کا دورہ کیا تھا جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے شام ایک موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

دو ہزار پانچ میں لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد امریکہ نے شام سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

اس قتل کے بعد لبنان کے اندر اور باہر وسیع پیمانے پر اس شک کا اظہار کیاگیا تھا کہ اس قتل میں شام کا ہاتھ ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اصولی طور پر شام کے لیے امریکی سفیر بھیجنے کا فیصلہ ہو چکا ہے لیکن اس عمل کی تکمیل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس اہلکار کا کہنا ہے کہ سفیر کے تقرر کے بعد سینیٹ توثیق کرے گا اور اب تک اس سلسلے میں کسی نام پر غور نہیں کیا گیا۔ تاہم امریکہ نے شام کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں