بیروت کا سِحر

Image caption حالیہ پرامن انتخابات نے سیاحوں کو لبنان کھینچ لیا ہے

لبنان میں آج کل سیاحت اپنے عروج ہے۔ یورپ کے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوں، خلیجی ملکوں کے مالدار شیخ، یا پھر مشرقِ وسطی میں سیر و تفریح کے شوقین، وزاتِ سیاحت کے مطابق اس موسمِ گرما میں کوئی بیس لاکھ لوگ چھٹیاں گزارنے لبنان پر اُمڈ آئے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ان لبنانی تارکینِ وطن کی ہے جو دنیا بھر سے چھٹیاں گزارنے واپس اپنے ملک آئے ہوئے ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں بجلی پانی پوری طرح دستیاب نہیں، ٹریفک کا بُرا حال ہے اور حکومت برائے نام ہی نظر آتی ہے، لبنان نے کسی نہ کسی طرحباہر کی دنیا پر اپنا سحر قائم رکھا ہوا ہے۔

اس بار شاید اس کی بڑی وجہ ملک میں حالیہ انتِخابات کا پُرامن انعقاد ہے۔آج کل یہاں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں۔ نہ ہی اسرائیل کے ساتھ جلد کسی جنگ کے آثارنظر آتے ہیں۔ ایسے میں، زیادہ تر اُمراء شُرفاء اور نوجوانوں کا دھیان سیاست سے زیادہ موج مستی پر نظر آتا ہے۔

جون جولائی کے مہینوں میں جب باقی عرب ملکوں میں زبردست گرمی پڑتی ہے، لبنان کا موسم قدرے اچھا رہتا ہے۔ یہاں کے کھانے مذیدار اور لوگ ملنسار ہیں۔ دارالحکومت بیروت کے ایک جانب سرسبز پہاڑ ہیں تو دوسری طرف ایک لمبا خوبصورت ساحل۔

لیکن شاید جو بات بیروت کو مشرقِ وسطیٰ کا پیرس بناتی ہے وہ یہاں کے لوگوں کا فیشن، اسٹائل اور اُن کی آزاد خیالی ہے۔

نائٹ لائف کے لیے بیروت شہر کی مشہور جگہ جمعزی اسٹریٹ اور پھر مونو اسٹریٹ ہیں جہاں کے مہ خانے اور ڈسکوز ، یورپ اور امریکہ کے ٹکر کے ہیں۔ رات کو ان علاقوں کا چکر لگائیں توآپ کو لگتا نہیں کہ آپ مشرقِ وسطیٰ کے کسی عرب ملک میں ہیں۔خواتین وحضرات کی خوشبوئیں، ان کے لباس اور فیشن ایسے کہ پیرس والوں کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں۔ رقص اور مستی کے شوقین نوجوانوں کی شام آج کل روزانہ کوئی گیارہ بجے شب شروع ہوتی ہے اور کافی لوگ علی الصبح جا کر ناشتہ کرکے تھک ہار کر اپنے گھروں یا ہوٹلوں کو واپس جاتے ہیں۔

اسی طرح بیروت کے شمال اور جنوب میں لبنان کے مشرقی ساحل کے ساتھ بے شمار مہنگے ہوٹل اور نجی ساحلی تفریح گاہیں ہیں۔ جہاں کئی کئی روز تک دن بھر مرد، عورتیں اور بچے کھیل کود کرتے ہیں اور سمندر میں تیراکی سے محظوظ ہوتے ہیں جبکہ بہت ساری عورتیں دھوپ سیکتی نظر آتی ہیں۔

لبنان میں برسوں کی خانہ جنگی، اسرئیلی چڑھایوں اور سیاسی عدم استحکام نے یہاں کی صنعت و پیداوار کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ یہاں سیاستدانوں کی لوٹ مار کی کہانیاں بھی آپ کوویسے سُننے کو ملتیں ہیں جیسے ہمارے یہاں بدعنوانیوں کے قصے۔یعنی حکومت غریب لیکن حکومت چلانے والے ارب پتی!

ایسے حالات میں، لبنانی معیشت کے لیے سیاحت سے پیدا ہونے والی آمدنی خاصی اہم ہے۔ ہوٹلوں کا بزنس ہو، ریستورانوں کا، رینٹ اے کار کا یا پھر سیر و تفریح سے منسلک دیگر نجی کاروبار، سیاحت کے اس موسم میں جہاں سرمایہ دار طبقہ اور پیسہ بناتا ہے وہیں کچھ بے روزگاروں کو بھی روزگار مل جاتا ہے۔

اسی بارے میں