’بلیک واٹر‘ اور سی آئی اے کی خفیہ کارروائیاں

Image caption ڈرون حملوں میں القاعدہ کے کئی سرکردہ ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ کے اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے سابق فوجیوں پر مشتمل نجی کمپنی کو، جس کا پہلا نام ’بلیک واٹر‘ تھا سی آئی اے دہشت گردی کے خلاف مہم میں القاعدہ کے خلاف ڈرون حملوں میں استعمال کرتی رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے سرکاری حکام اور سکیورٹی کمپنی کے موجودہ اور سابق ملازموں کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کمپنی کے اہلکار پاکستان اور افغانستان میں موجودہ خفیہ اڈوں پر ڈرون طیاروں پر ’ہیل فائر‘ میزائل اور پانچ سو پونڈ وزنی لیز گائیڈڈ میزائل لگانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ یہ کام ماضی میں سی آئی اے کے اپنے ماہر انجام دیتے تھے۔

اخبار کے مطابق کمپنی سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو ان خفیہ اڈوں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین نے بھی نیو یارک ٹائمز کی اس خبر کو شائع کیا ہے اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ بلیک واٹر کی خفیہ کارروائیوں میں شمولیت کی خبروں نےصدر بش کے دور میں سی آئی اے کی کارروائیوں پر نئے قانونی سوالات کو جنم دیا ہے۔

اخبار مزید کہتا ہے کہ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ القاعدہ کے سرکردہ اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا پروگرام کیا دانستہ طور پر کانگریس سے مخفی رکھا گیا۔

کانگریس نے انیس سو چھہتر میں ویتنام اور لاطینی امریکہ میں سی آئی اے کی ’ٹارگٹ کلنگ ‘ کی کارروائیوں پر سماعت کے بعد اس طرح کی کارروائیوں پر پابندی لگا دی تھی۔ لاطینی امریکہ میں مخالفین کو ہلاک کرنے کی کارروائیوں میں فیدل کاسترو پر چھبیس ناکام قاتلانہ حملے بھی شامل تھے۔

Image caption بش حکومت میں سی آئی اے کی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس کمپنی کو ’پریڈیٹر پروگرام‘ یا ڈرون حملوں میں شامل کیئے جانے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کس حد تک اپنی اہم کارروائیوں کے لیے ٹھیکیداروں یا کرائے کے فوجیوں پر انحصار کرتا ہے۔

یہ امر اس بات کا بھی غماز ہے کہ بلیک واٹر کمپنی جس کا نیا ’ایکس ای‘ ہے اور جسے ’زی‘ پکارا جاتا ہے کس قدر مہارت اور استعداد کی حامل ہے۔

کمپنی کی کارروائیوں اور خاص طور پر عراق میں اس کے اہلکاروں کے رویئے کی بنا پر اس کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے لیکن اس کے باوجود اسے مستقل طور پر سی آئی اے کی طرف سے کروڑوں ڈالر کے ٹھیکے دیئے جاتے رہے اور یہ پھلتی پھولتی رہی۔

اخبار کے مطابق سی آئی اے نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ بی بی سی اردو سروس نے بھی نیو یارک ٹائمز کی خبر پر پاکستانی حکام سے رابط کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں مل سکا۔

نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو لکھا تھا کہ بلیک واٹر کے ملازمین کی خدمات سن دو ہزار چار میں سی آئی اے نے القاعدہ کے کارکنوں کا پتا لگانے اور ان کو ختم کرنے کے اپنے انتہائی خفیہ آپریشن کے لیے کرائے پر حاصل کی تھیں۔

اخبار کے مطابق بلیک واٹر کے موجودہ اور سابق اہلکاروں سے کیئے جانے والے انٹرویوز سے سی آئی اے کے القاعدہ کے کارکنوں کو ہلاک کرنے کی کارروائیوں میں بلیک واٹر کی شمولیت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بلیک واٹر کو ان کارروائیوں میں سن دو ہزار چار میں پورٹر جے گاس کے سی آئی اے کے سربراہ بننے کے بعد شامل کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے نے بلیک واٹر کے ایگزیکٹیویز کو ’لائسنس ٹو کل‘ یا قتل کرنے کی کھلی چھٹی نہیں دی تھی۔ تاہم ان کرائے کے فوجیوں کو القاعدہ کے سرکردہ ارکان اور سرگرم کارکنوں کو پتا لگانے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

سی آئی اے کے اس پرگروام سے آگاہی رکھنے والے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ لبلبی دبا کر کسی کو ہلاک کرنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور اس میں زیادہ مہارت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا اصل میں لبلبی دبانے تک کا جو کام ہوتا ہے وہ اصل اہمیت رکھتا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کسی دہشت گردی کو پکڑنے اور پھر اس کو ہلاک کرنے کی سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے پیشگی اجازت ضروری ہوتی ہے اور اسے وائٹ ہاؤس کے سامنے بھی پیش کیا جاتا ہے۔

سی آئی اے کے موجودہ سربراہ لیون ای پنیٹا نے اس پروگرام کو معطل کر دیا تھا اور اس سے کانگریس کے جون میں ہونے والے اجلاس کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

بلیک واٹر کے سی آئی اے کے ساتھ بزنس معاملات زیادہ تر خفیہ رہے لیکن اس کے امریکی وزارت خارجہ کے ساتھ معالات منظر عام پر آ گئے۔ امریکہ وزارت خارجہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ عراق میں اپنے سفارت کاروں کی سکیورٹی کے لیے بلیک واٹر کی خدمات حاصل کرتا رہا ہے جس سے کئی تنازعات بھی کھڑے ہو گئے تھے۔

عراق میں سفارت کاروں کی حفاظت کا ٹھیکہ اس سال بلیک واٹر سے واپس لے لیا گیا کیونکہ گزشتہ سال اس کے اہلکاروں نے سترہ عراقی شہریوں کو قتل کر دیا تھا۔ تاہم اس کے بعد اب بھی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے پاس کچھ ٹھیکے ہیں۔

عراق میں سترہ شہریوں کی ہلاکتوں پر بلیک واٹرز کے پانچ ارکان پر امریکہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔

کمپنی کے خفیہ آپریشن کے لیے امریکی ریاست نارتھ کیرولائنہ میں ’بلیک واٹر سلیکٹ‘ سے ایک بہت بڑا دفتر موجود ہے۔ اس کمپنی کا سی آئی اے کی طرف سے پہلا ٹھیکہ سن دوہزاردو میں کابل میں نئے اڈے کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کا تھا۔

نیویارک ٹائمز کمپنی کے موجودہ اور سابق ملازمین کے حوالے سے لکھتا ہے کہ کمپنی کے ملازمین کو ڈرون طیاروں پر ہیلر فائر اور لیزر گائڈڈ میزائل نصب کرنے کی تربیت نویڈا میں قائم نیلس ایئر بیس پر دی جاتی ہے۔

اخبار نے کئی اور سرکاری اور کمپنی کے ملازمین کے حوالے سے لکھا ہے کہ سی آئی اے ایک عرصے تک پاکستان کے صوبے بلوچستان میں قائم فضائی اڈے شمسی سے ڈرون طیاروں کی پروازیں کرتی رہی ہے لیکن حال ہی میں جلال آباد میں ایک نیا اڈہ بنا لیا گیا ہے۔

جلال آباد میں ڈرون اڈے کی خبر اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئی ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اب جلال آباد سے زیادہ تر ڈرون طیاروں کی پروازیں ہوتی ہیں جہاں ہر گھنٹے میں ڈرون طیارہ اڑتے یا اترتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں شمسی بیس اب بھی استعمال ہو رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جلال آباد میں اڈہ قائم کرنے کا فیصلہ اس بنا پر کیا کہ کہیں پاکستانی حکومت عوام میں پائے جانے والے امریکہ مخالف دباؤ کا شکار ہو کر ملک میں موجود اڈے بند کرنے کا مطالبہ نہ کر دیں۔

بلیک واٹر کے ملازمین ڈرون حملوں کے اہداف کی نشاندھی میں شامل نہیں ہوتے اور ان پر نصب میزائیلوں کو چلانے کا بٹن لینگے ورجینیا میں بیٹھے سی آئی اے کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ایجنسی کے بہت کم ملازمین افغانستان اور پاکستان میں موجود ہوتے ہیں۔

بلیک واٹر کے کرائے کے لوگوں کا ڈرون حملوں میں شامل ہونا بعض اوقات تنازعات کا بھی باعث بنتا ہے۔ جب کبھی بھی ڈرون سے داغے میزائل اپنے ہدف سے چوک جاتے ہیں سی آئی اے والے بلیک واٹر کے ملازمین کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اسی طرح کے ایک واقعہ میں گزشتہ سال ڈرون طیارے کے اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی ایک پانچ پاونڈ وزنی بم گرا دیا گیا۔ اس کے بعد اس بم کو ڈھونڈر کی ایک زبردست مہم شروع کی گئی اور آخر میں یہ بم اپنے ہدف سے سو گز دور پڑا ہوا ملا۔

امریکی خفیہ اداروں کی کاررائیوں کا ایک چوتھائی اب ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں ہے۔

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں