افغانستان جنگ، صرف امریکہ کی جنگ نہیں: اوباما

Image caption بدھ کو صدر اوباما دفاع اور سکیورٹی سے متعلق اپنے مشیرانِ اعلٰی سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں اس پر غور ہوگا کہ افغانستان کے لیے آنے والے مہینوں میں لائحہِ عمل کیا ہونا چاہیے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں ہے اور القاعدہ کے خاتمے اور افغانستان کی سکیورٹی کے لیے امریکہ نیٹو کے ساتھ قدم بہ قدم کام کرے گا۔

انہوں نے یہ بات نیٹو کے نئے سربراہ آندریس راسمسین سے منگل کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کہی۔ دونوں رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔

نیٹو کے سربراہ نے جنھوں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حلیفوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھے، کہا کہ افغانستان کے لیے راست حکمتِ عملی کا انتخاب بہت اہم ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب افغانستان کے معاملے پر اوباما انتظامیہ میں زبردست بحث و مباحثہ ہو رہا ہے کہ وہاں آئندہ کی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے۔کچھ اس خیال کے حامل ہیں کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنا درست اقدام نہیں ہوگا۔ البتہ ریپبلیکن پارٹی کے کچھ رہنما جن میں گزشتہ انتخابی دوڑ میں صدر اوباما کے حریف جان مکین پیش پیش ہیں، افغانستان میں بھرپور کارروائی کے حق میں ہیں۔

بدھ کو صدر اوباما دفاع اور سکیورٹی سے متعلق اپنے مشیرانِ اعلٰی سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں اس پر غور ہوگا کہ افغانستان کے لیے آنے والے مہینوں میں لائحہِ عمل کیا ہونا چاہیے۔

سنیچر کو افغانستان میں امریکہ کے بڑے جنرل سٹینلی میکریسٹل نے ایک رپورٹ میں مزید فوج افغانستان بھیجنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس میں مزید فوج افغانستان بھیجنے کے معاملے پر رائے منقسم ہے اور خود عوامی رائے بھی اس کے حق میں نہیں لگتی۔ امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی اموات اور گزشتہ ماہ افغانستان کے انتخابات میں فراڈ کی خبروں سے بھی افغانستان کی امریکی مہم کو دھچکا لگا ہے۔

تاہم نیٹو کے نئے سربراہ کے ہمراہ صدر اوباما نے کہا کہ ’یہ صرف امریکی جنگ نہیں ہے۔ یہ نیٹو کا مشن ہے جس میں ہم بڑی مستعدی سے ہر قدم پر نیٹو کے ساتھ مشاورت کے عمل میں شریک ہیں۔‘

راسمُسین نے کہا کہ نیٹو اتحاد متحد رہے گا ’اور جب تک کام ختم نہیں ہو جاتا ہم افغانستان میں رہیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اور دیگر نیٹو رکن ممالک امریکی جنرل میکرسٹل کی رپورٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں اور وہ صدر اوباما کے اس سوچ کی حمایت کرتے ہیں کہ پہلے کسی کام کی حکمتِ عملی ضروری ہے وسائل کی ضرورت بعد میں پڑتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بات پہلی ہی کہی جا چکی ہے کہ مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ تب تک نہیں ہوتا جبتک افغانستان کے لیے حکمتِ عملی پر اتفاق نہیں ہوجاتا۔

اس وقت افغانستان میں لگ بھگ ایک لاکھ غیر ملکی فوجی موجود ہیں جو چالیس ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے ساٹھ ہزار فوجیوں کا تعلق امریکہ سے ہے۔

اسی بارے میں