اقوام متحدہ دفاتر بند، طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

اسلام آباد میں سوموار کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے دفتر میں خود کش حملے کے بعد ملک بھر میں اقوام متحدہ کے تمام دفاتر کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سیکرٹری جنرل بانکی مون کی ترجمان مشل مونتاس نے سیکرٹری جنرل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے حوالے سے ميڈیا کو بریفنگ کے دوران بتائی۔

ادھر پاکستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سوموار کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی عالمی خوراک کی تنظیم ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفاتر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تحریک کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو ٹیلفون کرکے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے عوامی فلاح کے لیے نہیں بلکہ امریکی مفادات کے تحفظ کا کام کر رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام پر حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بان کی مون نےاسلام آباد میں عالمی ادارہء خوارک یا ڈبلیو ایف پی کے دفتر پر خود کش حملے میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین جرم قرار دیا ہے۔

ادھر عالمی ادراہ خوراک نے پیر کے حملے میں مارے جانیوالے اپنے کارکنوں کی شناخت ایک عراقی اور باقی چار کی پاکستانی بتائي ہے۔

سیکرٹری جنرل بانکی مون نے کہا کہ ’یہ حملہ اقوام متحدہ اور پاکستان میں انسانی خدمات سے منسلک برادری کے تمام لوگوں کےلیے ایک بہیمانہ حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ان لوگوں پر سنگین حملہ ہے جو پاکستان میں بھوک کے منہ میں پڑے غریب عوام اور مصائب کے مارے لوگوں کی مدد کرنے کا انتھک کام سر انجام دے رہے ہیں۔‘

سکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد کے دفتر میں جتنی بہتر سکیورٹی ہوسکتی تھی وہ موجود تھی اسے کے باجود حملہ آور کیسے دفتر میں پہنچنے میں کامیاب ہوگيا یہ جاننے کےلیے تفتیس جاری ہے اور نگرانی وڈیو کی پڑتال بھی جاری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پشاور میں اقوام متحدہ کے دفتر پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کے پاکستان میں تمام دفاتر چوکس تھے۔

ترجمان نے اقوام متحدہ کے پاکستان میں تمام آپریشنز کو عارضی طور پر بند کردینے کو ’مناسب‘ قدم قرار دیا۔

دریں اثنا،ورلڈ فوڈ پروگرام یا عالمی ادراہ خوراک کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر جوزیٹ شیران نے کہا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں عالمی ادارہ خوراک لاکھوں لوگوں کی بھوک سے لڑنے کے اگلے مورچوں پر خوارک کی فراہمی جیسی مدد کررہا تھا وہاں دوران فرائض منصبی مارے جانے والے ڈبیلیو ایف پی کے تمام کارکن ہیروز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ نہ فقط ڈبلیو ایف پی بلکہ بھوک کےخلاف انسانی امدادکے کاموں پر مامور تمام براردی کیلیے المیہ ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کی سربراہ نے ہلاک شدگان اور زخمی ہونیوالے تمام افراد کے اہلیان خانہ سے اپنی گہرنی ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے خودکش حملے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں