مسجدِ الاقصیٰ کا ٹائم بم

مسجد الاقصیٰ
Image caption اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضے کے باوجود حرم شریف کی انتظامی دیکھ بھال اردن کے محکمہء اوقاف کے حوالے کر رکھی ہے

سوچا نہیں تھا کہ زندگی میں کبھی مسلمان ہونے کا ٹیسٹ بھی دینا پڑے گا اور وہ بھی مسجد الاقصیٰ جیسی مقدس جگہ پر۔

ہوا یوں کہ یروشلم میں اپنے پہلے دن میں نے ہوٹل سے سیدھا حرم شریف کا رخ کیا۔ دن جمعہ کا تھا تو سوچا کیوں نہ نماز مسجدالاقصیٰ میں ادا کی جائے۔

حرم شریف، شہر کے مسلم اکثریتی مشرقی حصے میں واقع ہے جسے بیت المقدس پکارا جاتا ہے۔یہاں اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔ حرم شریف پہنچنے کے لیے پرانے شہر کی پتھر کی بنی ہوئی تنگ سی گلیوں سے گُزر کر جانا پڑتا ہے۔ اور پھر جلد ہی قبۃ الصخرٰی کا سنہری گنبد والا وہ مقام آپ کی نظروں کے سامنے آ جاتا ہے جہاں سے اسلامی عقیدے کے مطابق پیغمبرِ اسلام سات آسمانوں کے سفر پر گئے تھے۔

جمعہ کے دن وہاں غیر مسلموں کا داخلہ منع ہے۔ اس کام کے لیے اسرائیلی حکام نے داخلے کے تمام راستوں پر مسلح سکیورٹی گارڈ تعینات کر رکھے ہوتے ہیں۔ جب باقی لوگوں کی طرح میں بھی وہاں سےگزرنے لگا تو گارڈ نے ہاتھ سے ایک طرف ہو جانے کا اشارہ کیا۔

پوچھا ’کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے کہا مسجد میں نماز پڑھنے اور کہاں؟ مشکوک انداز میں پوچھا ’آپ مسلمان ہیں؟ میں نے ’ہاں، میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا ’آپ مسلمان لگتے نہیں۔ کلمہ آتا ہے تو ذرا پڑھ کر سنائیں؟‘

بچپن کے بعد مجھ سے آج تک کبھی کسی نے اس طرح کلمہ پڑھنے کا ٹیسٹ نہیں لیا۔ میں اس غیر متوقع سوال پر اسے تکتا رہ گیا۔ سکیورٹی گارڈ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آنے لگی جیسے کہ رہا ہو ’پکڑے گئے نہ بچو!‘

پر میں جب نے کلمہ سنا دیا تو وہ کچھ جھینپ سا گیا لیکن پھر بھی قائل نہیں ہوا۔ ’اچھا یہ بتائیں بھلا نمازِ جمعہ میں کتنی رکعات ہوتی ہیں؟ جب اس کا بھی جواب دے دیا تو اُس نے ایک اور فرمائش کر ڈالی کہ ’آخر میں مجھے ذرا درود شریف سُنا دیں، جب وہ بھی بتا دیا تو بلآخر اُسے ہتھیار ڈالنے ہی پڑے کہ میں دِکھنے میں جیسا بھی ہوں اُس کے اسلامیات کے ٹیسٹ پر پورا اُترا۔

حرم شریف کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اس جگہ کا معاملہ بڑا حساس اور پیچیدہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر سن دو ہزار میں اسرائیلیوں اور فلسطینوں کے درمیان تکرار نے دوسری انتفادہ کو جنم دیا۔ابھی پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران بھی اس مقام پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

حماس کے رہنماؤں کے مطابق مسجد الاقصیٰ کا معاملہ ایک ٹائم بم کی طرح ہے جو مبینہ اسرائیلی حرکتوں کی وجہ سے کبھی بھی ایک بڑے خونی تنازعہ کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ بعض کٹر یہودی لابیاں حرم شریف پر اپناکنٹرول حاصل کرنے کے لیے مسلسل سازشیں کر رہے ہیں۔

لیکن اسرائیل جانتا ہے کہ حرم شریف کا معاملہ صرف فلسطینی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے بہت زیادہ نازک ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اسرائیل کو بڑی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضے کے باوجود حرم شریف کی انتظامی دیکھ بھال اردن کے محکمہء اوقاف کے حوالے کر رکھی ہے۔ ملک میں کٹر یہودی لابی کے بظاہر بڑھتے ہوئے اثر سے قطع نظر، اسرائیل حکومت (چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے) اب تک حرم شریف میں غیر مسلموں کی عبادت پر پابندی پر کاربند نظر آتا ہے۔

اسرائیلی حکام کو خدشہ یہ رہتا ہے کہیں کٹر قدامت پسند یہودی لابی کے افراد مسلمانوں کے مقدس دنوں میں کسی طرح اندر گُھس کر کوئی تماشہ نہ کر بیٹھیں۔میرے ساتھ مسجدِ الاقصیٰ کی دہلیز پر اسرائیلی سکیورٹی حکام کا سلوک اسرائیل کی بظاہر انہیں کوششوں کا حصہ تھی جس کے ذریعے وہ غیرمسلم دِکھنے والوں کو اندر جانے سے روکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کوشش میں وہ اکثر غلطی سے دور دراز سے آئے مسلم لوگوں پر بھی ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔

اسی بارے میں