’عرفات کی کمی محسوس ہوتی ہے‘

یاسر عرفات
Image caption الفتاح اور حماس کے درمیان اختلافِ رائے یاسر عرفات کی زندگی میں بھی تھا۔

اس بچی کے ایک ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا اور دوسرے ہاتھ میں فلسطین کا جھنڈا۔ کندھے پر اس نے فلسطینیوں کا روایتی سکارف ’کوفیہ‘ پہنا ہوا تھا۔ وہ اپنےگھر والوں کے ساتھ احترام سے قدم اٹھاتے سفید رنگ کی سادہ لیکن پُروقار عمارت میں داخل ہوئی، سب کے ساتھ اپنے ننہے منہے ہاتھ اٹھائے اور فاتحہ پڑھی۔

رملہ میں جس شخص کی آخری آرام گاہ میں عورتیں، بچے اور بوڑھے آکر خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں فلسطینی انہیں اپنا قومی ہیرو قرار دیتے ہیں۔ دنیا انہیں یاسر عرفات کے نام سے جانتی تھی لیکن فلسطینی انہیں اپنائیت سے ابو عمّار پکارتے ہیں۔ آج اُن کی پانچویں برسی کے موقع پر رملہ میں جگہ جگہ اُن کے پوسٹر اور بینر آویزاں ہیں، سرکاری سطح پر سیمینار اور تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔

فلسطینی جدو جہد کی علامت، یاسر عرفات اپنی زندگی میں خاصے متنازعہ رہے۔ اسرائیل انہیں قیامِ امن میں بڑی رکاوٹ قرار دیتا رہا جبکہ ان کے فلسطینی ناقدین نے مختلف مراحل پر ان کے اندازِ قیادت پر سوالات اُٹھائے۔

یاسر عرفات کا بڑا خواب ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کر کے یروشلم میں اس کا دارالحکومت قائم کرنا تھا۔ اِس خواب کی تعبیر کے لیے انہوں نے کوئی چالیس برس جدوجہد کی۔ پہلے بندوق اٹھائی اور بعد میں بات چیت کا راستہ بھی آزمایا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کا متنازعہ فیصلہ کیا اور انیس سو ترانوے میں آسلو معاہدے پر دستخط کیے۔

فلسطینیوں کے نزدیک مسٹر عرفات کی موت کے بعد فلسطینی قیادت میں جو خلا پیدا ہوا اسے پُر کرنے میں ان کے قریبی ساتھی محمود عباس قدرے ناکام رہے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران فلسطینیوں کے اندرونی اختلافات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ یاسر عرفات کی الفتح پارٹی غربِ اُردن تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ غزہ میں حماس نے اپنا مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

الفتح اور حماس کے درمیان اختلافِ رائے یاسر عرفات کی زندگی میں بھی تھا۔ لیکن فلسطینی کہتے ہیں کہ مسٹر عرفات نے کبھی اُسے ایک حد سے باہر نہیں جانے دیا اور مجموعی طور پر فلسطینیوں کو یکجا رکھا۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ یاسر عرفات کی موت کے بعد فلسطینی کاز کو جو سب سے بڑا نقصان پہنچا وہ فلسطینیوں کا اندرونی انتشار ہے۔

بعض فلسطینیوں کے نزدیک اس صورتِ حال میں جتنا امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے اُتنا ہی خود فلسطینی رہنمائوں کا بھی ہے۔ نتیجہ یہ کہ صدر محمود عباس قدرے غیر مقبول اور بےبس رہنما کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ حماس اور الفتح کے درمیان مصالحت کی مصری کوششیں بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔

یاسر عرفات فلسطینیوں کی اپنی ایک ریاست کی حسرت دل میں لیے گیارہ نومبر دو ہزار چار میں فرانس کے ایک ہسپتال میں وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کے پانچ برس بعد فلسطینیوں کو اپنی منزل ہاتھ سے نِکلتی محسوس ہو رہی ہے۔ اسرائیلی قبضے کے آگے عام فلسطینی خود کو پہلے سے کہیں زیادہ بےبس محسوس کرتے ہیں۔

مقبوضہ علاقوں میں رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق اسّی فیصد فلسطینوں کا کہنا ہے کہ آج انہیں یاسر عرفات کی کمی شِدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک، وہ جیسا بھی رہنما تھا فلسطینوں کے لیے امید کی ایک کِرن تھا اور اس کے دم سے اُن کا سر فخر سے اونچا رہتا تھا۔