’صدارتی انتخاب ابھی ریڈار پر نہیں‘

سارہ پیلن
Image caption سارہ پیلن اپنی بیٹیوں پائپر اور وِلو کے ساتھ اوپرا وِنفری کی مہمان تھیں

امریکہ کی سابق نائب صدر کے عہدے کی امیدوار سارہ پیلن نے کہا ہے کہ سن دو ہزار بارہ میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینا ’ابھی تک میرے ریڈار کی سکرین پر نہیں ہے۔‘

امریکی ٹی وی شو کی میزبان اوپرا وِنفری کے ساتھ ایک انٹرویو میں ریاست اسلاسکا کی سابق گورنر نے کسی موقع پر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

سارہ پیلن نے اسی سال ریاست الاسکا کے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ وہ آج کل اپنی سوانح حیات کی اشاعت کے موقع پر میڈیا ٹور پر ہیں۔

کئی امریکی قدامت پسند حلقوں میں وہ اب بھی بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔

سارہ پیلن نے اوپرا وِنفری شو میں چار سو تیرہ صفحات پر محیط اپنی سوانح حیات ’گوئنگ روگ: این امریکن لائف‘ کی مشہوری کے لیے شرکت کی۔

سن دو ہزار بارہ میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اگلے سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر موکوز کر رہی ہیں جن میں ریپبلکنز کو امید ہے کہ وہ کانگریس میں ڈیموکریٹ برتری کو کم کر سکیں گے۔

’میں سن دو ہزار دس پر توجہ دے رہی ہوں اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہوں کہ ہمارے پاس ایسے ایشوز ہوں جن سے عہدہ برآ ہوا جائے۔‘

’مجھے نہیں معلوم سن دو ہزار بارہ میں میں کیا کر رہی ہوں گی۔(صدارتی انتخابات میں حصہ لینا) ابھی تک میرے ریڈار کی سکرین پر نہیں ہے۔‘

ان کی سوانح حیات منگل کو امریکہ میں شائع کی جا رہی ہے اور کتاب کی طلب سے لگتا ہے کہ یہ ایک بیسٹ سیلر ہو گی۔

اس کتاب کی ابتدائی طور پر پندرہ لاکھ کاپیاں شائع کی گئیں ہیں اور ایک اطلاع کے مطابق سارہ پیلن کو اس کے لیے 1.25 ملین ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز ک کہنا ہے کہ کچھ قدامت پسند ریپبلکنز کی خواہش ہے کہ سارہ پیلن سن دو ہزار بارہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں۔ ان کا خیال ہے کہ سارہ پیلن سب سے بڑھ کر ان کی روایات کی نمائندگی کرتی ہیں۔

تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دیگر ریپبلکنز ان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خیال سے ہی ڈرتے ہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ الاسکا کی سابق گورنر ان کی جماعت کو ایسے راستے پر لے جائیں گی جہاں اسے کوئی یاد تک نہیں کرے گا۔

سارہ پیلن نے اپنی سوانح حیات میں بتایا ہے کہ ریپلیکنز کی انتخابی مہم کے درمیان ان کے کیمپ میں کتنا تناؤ تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس مہم کے بعد کافی رقم ادا کرنا پڑی تھی۔

وہ اپنی کتاب میں کہتی ہیں کہ انہیں نائب صدارت کے امیدوار کی حیثیت کی جانچ (ویٹنگ) کے لیے ہی پارٹی کو پچاس ہزار ڈالر فیس دینا پڑی تھی۔ تاہم جان مکین کی مہم چلانے والے ایک اہلکار نے اس کی تردید کی ہے اور اسے لغو قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے علم کے مطابق انتخابی مہم نے گورنر پیلن کو ’ویٹنگ‘ سے وابستہ کسی قسم کے قانونی اخراجات کا کوئی بل نہیں بھیجا۔‘

کتاب میں سارہ پیلن نے کہا ہے کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ اگر ریپلیکنز الیکشن ہار جاتے ہیں تو انہیں بذاتِ خود اخراجات اٹھانا پڑیں گے، جو کہ ان کے بقول پچاس ہزار امریکی ڈالر تھے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا ہے کہ انہیں صحافیوں سے بات کرنے سے روکا گیا تھا۔

سارہ پیلن کو نومبر 2008 میں ہونے والے امریکی انتخابات میں شہرت اس وقت ملی جب انہیں سینیٹر مکین کے رننگ میٹ کے طور پر چنا گیا۔

کتاب میں انہوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ انہیں زبردستی میک اپ کروانے اور مہنگے کپڑے پہننے پر مجبور کیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی نوجوان بیٹی کے حاملہ ہونے کی خبروں کے میڈیا میں آنے کا بھی ذکر کیا۔

اسی بارے میں