دبئی کے لیے دس ارب ڈالر کی امداد

دبئی
Image caption دبئی اس وقت شدید مالی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے

متحدہ عرب امارات میں شامل ریاست ابوظہبی نے مالی مشکلات کا شکار ہمسایہ ریاست دبئی کو دس ارب ڈالر کی مالی مدد فراہم کی ہے۔

دبئی عالمی اقتصادی بحران سے شدید متاثر ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس مالی امداد میں سے چار اعشاریہ ایک ارب ڈالر حکومت کی ملکیتی سرمایہ کاری کمپنی دبئی ورلڈ کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرے گی۔

دبئی ورلڈ کے تعمیراتی شعبے نخیل کو اس وقت اپنے ان سرمایہ کاروں کو ادائیگی کرنی ہے جن کے اسلامی بانڈز کی مدت پیر کو مکمل ہو رہی ہے۔

مبصرین نے ابوظہبی کی جانب سے اس مالی مدد کو حیران کن قرار دیا ہے جبکہ اس مدد کے اعلان کے ساتھ ہی دبئی کے بازارِ حصص کے مرکزی اشاریے میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ابوظہبی کا مرکزی اشاریہ سات فیصد سے زیادہ بڑھا ہے۔

اس خبر کا برطانوی پاؤنڈ اور یورو کی قدر پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔ یہ دونوں کرنسیاں دبئی کے مالی بحران کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی تھیں۔

خیال رہے کہ پچیس نومبر کو دبئی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ دبئی ورلڈ کے قرض خواہوں سے کہے گی کہ وہ کمپنی کے چھبیس ارب ڈالر کے قرض کی اقساط منجمد کر دیں۔

تاہم پیر کو دبئی کی سپریم مالیاتی کمیٹی کے سربراہ شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا ہے کہ ’ابوظہبی کی حکومت نے دبئی کے مالیاتی امدادی فنڈ میں دس ارب روپے ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے جسے دبئی ورلڈ کی آنے والی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’آج ہم سرمایہ کاروں اور قرض خواہوں کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہماری حکومت بازار کے اصولوں پر عمل کرے گی‘۔

ریاض میں ایک سعودی کمپنی میں تعینات مالیاتی ماہر جان سفایکیاناکس کا کہنا ہے کہ یہ مالی مدد ’انتہائی اہم اور ضروری تھی‘۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’ اس سے اعتماد میں بہت اضافہ ہوگا۔ تاہم اس کے مکمل اثرات کے سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی رقم کے ساتھ کوئی شرائط نہیں ہوں گی‘۔

اسی بارے میں