مذہبی روایت کی خلاف ورزی پر پادری ناراض

ملائیشیا میں رومن کیتھولک کلیسا نے چرچ میں مقدس اشیاء کی بےحرمتی کرنے والے دو مسلم صحافیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر حکام پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

صحافیوں پر کمیونین یعنی چرچ کے ایک مقدس میز پوش کو لے جانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

دونوں مسلم صحافیوں پر الزام ہے کہ عشائے ربانی میں استعمال کی جانے والے خصوصی بسکٹ کو منہ میں رکھنے کے بعد اسے اگل دیا تھا۔

کوالالمپور کے آرچ بشپ مرفی پاکیام کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے چرچ کی بےعزتی کی ہے لیکن حکام کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی حرکت کو صحیح ٹھہرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس میگزین نے اس کی کہانی کو شائع کیا ہے اسے اور صحافیوں کو اس عمل کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔’صحافیوں نے یہ تسلیم کر کے کہ انہوں نے کموینین کو منہ میں رکھنے کے بعد اسے اگل دیا تھا، کیتھولک برادری کی بڑی بےحرمتی کی ہے۔ یہ ملائیشیا میں امن و امان کے لیے بین المذاہب بحث مباحثے کی روح کے منافی ہے‘۔

ماہانہ مالے میگزین الاسلام کے مطابق صحافیوں نے اسے اس لیے نہیں نگلا کیونکہ انہوں نے اس کے ایسے فوٹو لیے تھے جس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ پہلے ہی سے منہ مارنے کے سبب کٹی ہوئی تھیں۔

حکومت کے ایک اعلٰی وکیل اٹارنی جنرل عبدالغنی پٹیل کا کہنا ہے کہ وہ دونوں عشائے ربانی کی تقریب کی اس روٹی کی اہیمت کو نہیں سمجھ پائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’دونوں صحافیوں کے عمل سے ممکن ہے کہ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں لیکن ان کی نیت ایسی نہیں تھی۔ ایسا اس لیے ہوا کہ وہ اس کی اہمیت نہیں سمجھ پائے۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے انصاف، امن و امان کے تقاضے کے تحت میں نے ان کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کا فیصلہ کیا‘۔

دونوں صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات پر چرچ گئے تھے کہ وہاں مسلمان کو عیسائی مدہب اختیار کرنے کو کہا جاتا ہے لیکن انہیں چرچ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ملائیشیاء میں گزشتہ ماہ عدالت نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں کہا تھا غیر مسلم بھی اللہ کا نام استعمال کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن کے بعد حکومت نے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد کئی گرجا گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور مسجد میں بھی خنزیر کے سر رکھنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

اسی بارے میں