’نجی جاسوسی آپریشن‘ کی تحقیق کا حکم

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس پروگرام میں کافی رقم ویب سائٹ ایفپیکس کو دی گئی ہے

امریکہ محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ ان اطلاعات کی تحقیقات کرے گا جن کےمطابق پیٹناگون کا ایک اہلکار افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو ڈھونڈے اور ہلاک کرنے کے لیے ایک نجی جاسوسی نیٹ ورک چلا رہا ہے

امریکہ اخبار نیویارک کے مطابق پینٹاگون کے ایک اہلکار نےپاکستان اور افغانستان میں طالبان کو ڈھونڈنے اور ہلاک کرنے کے لیے جاسوسی کا ایک نجی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور اس منصوبے کے لیے شاید وہ رقم استعمال کی جا رہی ہے جوامریکی فوج کو افغان سماجی اور قبائلی امور کے بارے میں معلومات دینے کے لیے مختص تھی۔

محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ اخبار کی رپورٹ میں کچھ ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا جواب ڈھونڈنے کے لیےمعاملے کا جائزہ لینا ضروری ہے

روزنامہ نیو یارک ٹائمز میں پیر پندرہ مارچ کو چھپبنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مائکل ڈی فرلونگ نامی امریکی اہلکار نے اُن نجی سکیورٹی کپمنیوں سے افراد کو اس پروگرام میں لگایا تھا جن کے عملے میں عموماً سی آئی اے اور خوصی کمانڈوز کے سابق اہلکاروں شامل ہوتے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مشتبہ شدت پنسدوں اور دہشت گرد تربیتی کیمپوں کے اتہ پتہ کے بارے میں معلومات جمع کر کے فوجی اہلکاروں اور خفیہ اداروں کو دینے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا

اخبار کے مطابق کچھ امریکی اہلکاروں کو مائکل فرلونگ کے اس پروگرام کے بارے میں خدشات تھے۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ جاسوسی کا ایک ’نجی آپریشن‘ تھا اور یہ واضح نہیں کہ اس کی منظوری کس نے دی تھی اور نہ یہ واضح تھا کہ اس کی نگرانی کون کر رہا تھا۔

انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ان معلومات کی بنیاد پر دیگر مشتبہ طالبان کو پھر ہلاک بھی کیا گیا۔

خفیہ امریکی فوجی آپریشنز کے لیے نجی ایجنسیوں کے اہلکاروں کا استعمال قانون اور اصول کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے کے بارے میں بات کرنے والے اہلکاروں نے خاص یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے شاید وہ رقم استمال کی گئی جو افغانستان کے سماجی حالات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیےمختص تھی۔

ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مائکل فرلونگ کا یہ ’نجی خفیہ آپریشن‘ بند کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف فراڈ سمیت کئی الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

مائکل فرلونگ ائر فورس کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں اور وہ بطور سو لیئن امریکی وزارت خارجہ پینٹاگون میں اعلی عہدے میں تعینات ہیں۔ وہ عراق اور سابق یوگوسلاویہ میں کام کر چکے ہیں۔

اخبار کے مطابق مائکل فرلونگ نے فوج کے کہنے پر یہ کام سنہ دو ہزار آٹھ میں شروع کیا تھا اور اس میں خرچ ہونے والی بائیس ملین ڈالر کی سرکاری رقم استعمال ہوئی جس میں زیادہ تر پیسہ ’انٹرنیشنل میڈیا وینچرز‘ نامی کمپنی کو دیا گیا۔ یہ کمپنی اپنے آپ کو تعلقات عامہ یعنی پبلک رلیشنز کی کپمنی بتاتی ہے۔

اس کمپنی میں کئی ایسے اہلکار شامل ہیں جو پہلے فوج کے خصوصی کمانڈوز میں شامل تھے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تجویز سی این این کے ایک سابق نیوز ایڈیٹر ایسون جورڈن اور ان کے پارٹنر اور مصنف رابرٹ پیلن نے پیش کی تھی۔ انہوں نے پھراس سلسے میں ’ایفپیکس‘ نامی ویب سائٹ بھی قائم کی۔ رابرٹ پیلٹن جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں کتابیں لکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بعد میں ان کی جمع کردہ معلومات کا مائکل فرلونگ نے غلط استعمال کیا اور ’اس کو لوگوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ممکن ہے کہ اس پروگرام سے حاصل معلومات کے ذریعے ہی کئی مطلوب طالبان کو ہلاک کیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی حکومت کی پاکستانی سرزمین امریکی فوجی کارروائیوں پر پابندی کی وجہ سے مطلوب طالبان کے کھوج لگانے کا یہ سب سے بہتر طریقہ سمجھا گیا ہو۔

آپریشن کے بارے میں کے خدشات:

نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کئی مرتبہ مائکل فرلونگ کے ’نجی آپریش‘ کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں فوجی ترجمان ایڈمرل گریگوری سِمتھ نے بھی اس معاملے کے بارے میں بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار نو میں ایفپیکس کے کام کی مخالفت کی تھی اور یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کا کام انٹیلجنس جمع کرنا معلوم ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مائکل فرلونگ کے استعمال میں تقریباً پندرہ ملین ڈالر کا ابھی تک کوئی حساب نہیں ہے۔

افعانستان میں پینٹاگون اہلکار کے اس نجی خفیہ آپریشن کے بارے میں رپورٹ سے ایک بار پھر جنگ زدہ علاقوں میں امریکی فوج کے لیے ان کمپنیوں کے ٹھیکوں کے بارے میں سوالات اٹھے ہیں جن میں سابق کمانڈو یا جاسوس ملازم ہیں۔ یہ اہلکار پیسہ بھی کماتے ہیں اور حکومتی سطح پر کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں