اسرائیل کے ساتھ تعلق مضبوط ہے: کلنٹن

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اس بات کو رد کر دیا ہے کہ مشرقی یروشلم میں یہودی آبادکاروں کے تنازعے کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کسی قسم کے بحران کا شکار ہیں۔

ہلری کلنٹن
Image caption ’امریکہ آج بھی مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا دو ریاستی حل چاہتا ہے‘

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک قریبی اور غیر متزلزل تعلق ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی دونوں ہی امن کے لیے کے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔

اس سے قبل امریکی سفارتکار جارج مچل نے اسرائیل کا اپنا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔

یورشلم میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد سینکڑوں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ ساٹھ فلسطینی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ طبی عملے کے مطابق جھڑپوں کے دوران کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ آج بھی مشرق وسطی کے مسئلے کا دو ریاستی حل نکالنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہ ہمارا مقصد ہے۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا اور ہم سینیٹر جارج مچل کی خطے میں واپسی کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ وہاں بالواسطہ بات چیت کے لیے راہ ہموار کرسکیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے دونوں فریقوں سے صبر کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم کی حتمی حیثیت مذاکرات کے بعد ہی طے کی جائے گی۔

Image caption نئی یہودی آبادیوں کے مسئلے پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں

’ہم یروشلم میں مزید ایک ہزار چھ سو رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کرتے ہیں۔ جس طرح میں پہلے کہہ چکا ہوں۔ آج بھی واضح طور پر اور سیدھے سیدھے یہی بات کہوں گا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہودی بستیاں غیرقانونی ہیں اور آج یروشلم جیسے شہر میں جو تین مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس شہر ہے جو جھڑپیں ہوئی ہیں اس پر میں سب کو یاد دلا دوں کہ یروشلم کی حیثیت کا تعین حتمی مذاکرات سے مشروط ہے۔ میں سب سے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہوں گا۔‘

اسرائیل کے مشرقی یروشلم میں 1600 نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کے اعلان سے واشنگٹن اور اس کے درمیان کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی تھی۔

اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یورشلم میں سولہ سو گھروں کی تعمیر کا اعلان گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جو بائڈن کے دورہ اسرائیل کے موقع پر کیا جس پر امریکہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس امریکہ کی ہتک قرار دیا تھا۔

صدر براک اوباما کے مشیر ایمونیل ایگزلروڈ نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیوں کی تجویز مشرقی وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے لیے تباہ کن ہے اور امریکی نائب صدر کی موجودگی میں اس منصوبے کا اعلان امریکہ کی ہتک کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں